راحیل شریف کا شکریہ

راحیل شریف کا شکریہ تو ہر کوئی ادا کر رہا تھا، مگر میں کس وجہ سے راحیل شریف کا شکریہ ادا کر رہا ہوں؟

کراچی میں امن قائم ہوا تو راحیل شریف کا شکریہ

آپریشن ضربِ عضب کا آغاز ہوا تو راحیل شریف کا شکریہ

دہشت گردی میں کمی ہوئی تو راحیل شریف کا شکریہ

دہشت گرد مارے گئے شکریہ راحیل شریف

پاک چین اقتصادی راہدری پر کام شروع ہوا تو شکریہ راحیل شریف

لاہور میں فیکٹری کی چھت گری، فوج کا اربن یونٹ طلب کیا گیا، تو سب بول اٹھے، شکریہ راحیل شریف

بس ہر طرف شکریہ راحیل شریف، شکریہ راحیل شریف، شکریہ راحیل شریف، شکریہ راحیل شریف کی گردان تھی جو کہ اچانک ہی تھم گئی ہے۔

راحیل شریف تین سال تک پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ رہے اور لوگ اٹھتے بیٹھتے راحیل شریف کا شکریہ ہی ادا کرتے رہے۔ مسلح افواج کے میڈیا سیل نے اور میڈیا میں موجود زیادہ تر اینکرز نے اس طرح تصویر کی منظر کشی کی کہ کام کوئی بھی کرے شکریہ راحیل شریف کا ادا ہوتا تھا۔

مگر جیسے ہی آئی ایس پی آر نے یہ اعلان کیا کہ جنرل راحیل شریف نے ریٹائرمنٹ سے قبل فوج کے مختلف یونٹس کے الوداعی دورے شروع کر دیے ہیں، تو شکریہ راحیل شریف کے لوگ کہاں غائب ہوئے کچھ پتہ نہیں۔ لگتا ہے کہ اب وہ ہائیبرنیشن پیریڈ میں ہیں اور کچھ عرصے بعد شکریہ باجوہ کا نعرہ لگاتے جاگ جائیں گے۔

پڑھیے: پرائم منسٹر 2.0: مضبوط، تیز اور سخت

آج سے تقریباً چند ہفتے قبل بھی جب راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ قریب آرہی تھی تو ہر طرف سے یہی آوازیں سنائی دیتی تھیں، "کیوں جا رہے ہو، کیوں جارہے ہو، کس لیے جا رہے ہو، اس طرح نہ جاؤ نہ، کچھ اور رک جاؤ نا، آ بھی جاؤ۔

مگر راحیل شریف ان تمام آوازوں کو سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنے اٹل فیصلے پر قائم رہے۔

ملازمت ہو یا کھیل کا میدان، ریٹائر ہونا زندگی کے مشکل ترین مرحلوں میں سے ہے۔ عہدہ جتنا بڑا اور اختیارات والا ہو، اس سے ریٹائر ہونا اسی قدر مشکل ہوتا ہے۔

اور پھر پاک فوج کے سربراہ کے عہدے سے ریٹائرمنٹ تو بہت ہی بڑا امتحان ہوتا ہے۔ دنیا کی چھٹی بڑی فوج کی قیادت کون چھوڑنا چاہے گا۔ پاکستان میں فوج کے سربراہ سے براہ راست حکمران بننے کے لیے چند فوجی ٹرکس ہی کافی ہوتے ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔

جنرل راحیل شریف 20 سال بعد ایسے آرمی چیف ہیں جو کہ اپنی پہلی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد باعزت طور پر ریٹائر ہوئے ہیں۔ اس سے قبل جنرل عبدالوحید کاکڑ 1993 سے 1996 کے دوران بطور آرمی چیف اپنی مدت ملازمت کو پورا کرنے میں کامیاب ہوئے۔

جنرل جہانگیر کرامت کے متنازع بیان پر نواز شریف نے ان سے استعفی طلب کیا اور وہ صرف 2 سال بطور آرمی چیف اپنی خدمات سرانجام دے سکے۔ ان کے بعد مسلح افواج کی کمان سنبھالنے والے جنرل پرویز مشرف نے وزیرِ اعظم کو معزول کرتے ہوئے براہ راست ملک کی کمان بھی سنبھال لی اور 11سال بطور آرمی چیف تعینات رہے۔ اس دوران بہت سے اہل جرنیل فوج کی کمان کیے بغیر ہی ریٹائر ہوگئے۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی وہ واحد آرمی چیف ہیں جنہوں نے دو مدت بطور آرمی چیف گزاریں، اور ان کی مدت ملازمت میں توسیع سویلین حکومت نے دی، مگر وہ جس طرح اپنے ہی ساتھیوں اور ادارے کے ہاتھوں رسوا ہوئے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔

جنرل راحیل شریف نے گزشتہ سال ہی جب ان کی مدتِ ملازمت پر قبل از وقت بے ضرورت بحث شروع ہوگئی تھی، آئی ایس پی آر کے توسط سے یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ بطور آرمی چیف مدتِ ملازمت میں توسیع کے خواہش مند نہیں، مگر سیاسی، سماجی، کاروباری اور ابلاغی حلقوں سے وابستہ کئی افراد جنرل راحیل شریف کو فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ دیتے رہے۔

مزید پڑھیے: شکریہ راحیل شریف، مگر...

اس معاملے پر مزید تبصرہ تو بعد میں ہوگا، مگر پہلے یہ تو دیکھ لیں کہ ریٹائرمنٹ لینا کس قدر مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر سے کئی ماہ قبل ایک تقریب میں ملاقات ہوئی تھی، اس حوالے سے انہوں نے اپنے خیالات کا جس طرح اظہار کیا، وہ پڑھنے لائق ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر کئی سال قبل کور کمانڈر لاہور کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج میں سب سے زیادہ الوداعی تقاریب ہوتی ہیں، کیوں کہ مسلح افواج کا ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ فوج نوجوان رہے۔ آرمی میں 24 سال کی نوکری اور 47 سال کی عمر میں جب میجر کے رینک سے ریٹائر ہوتا ہے تو اس کے بچے اسکول میں زیرِ تعلیم ہوتے ہیں۔ ریٹائر افراد کی الوداعی تقاریب میں مقررین ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی موت کا ذکر اس طرح کرتے ہیں کہ گویا جو ریٹائر ہوا وہ مر گیا۔ صرف آرمی چیف ہی وہ شخص ہوتا ہے جو کہ 60 سال کی قریب ترین عمر میں فوج کو خیر آباد کہتا ہے۔

معین الدین حیدر کا کہنا ہے کہ فوج میں کور کمانڈر کے عہدے کے بڑے ٹھاٹھ ہوتے ہیں۔ شوفرگاڑی چلاتا ہے، خانساماں کھانا پکا دیتا ہے، ٹیلی فون ایکس چینج پر ہر وقت اسٹاف موجود ہوتا ہے۔ "کوئی ہے" کی آواز لگاؤ تو خدمت گار حاضر ہوجاتا ہے۔ تنخواہ بھی اچھی ہوتی ہے، بے فکری سے گھر کے تمام اخراجات پورے ہوتے ہیں، کسی قسم کی فکر نہیں ہوتی۔

مگر جوں ہی ریٹائر ہوئے، منظر اور صورتحال یکسر تبدیل ہوجاتی ہے۔ نہ کوئی شوفر، نہ خانساماں، نہ ٹیلی فون ایکس چینج پر کوئی اسٹاف، تمام ٹھاٹھ باٹھ یک دم ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

فوجی ملازمت میں ہو تو مصروف ترین زندگی ہوتی ہے۔ جوں ہی ریٹائر ہوئے، یک دم گہری خاموشی اور سکوت چھا جاتا ہے۔ نہ ملنے والوں کی قطار نہ سیلوٹ کرنے والے، نہ کوئی میٹنگ اور نہ ہی کوئی دورہ۔ صبح صبح آنکھ کھل بھی جائے تو کیا فائدہ، کوئی ملنے کے لیے انتظار تھوڑی کر رہا ہوتا ہے۔ اور تو اور پنشن بھی بنیادی تنخواہ کا نصف رہ جاتی ہے۔

رسی جل گئی پر بل نہ گیا کے مصداق ریٹائر ہونے کے بعد اپنی عادت کے مطابق آواز لگائی، "کوئی ہے"، تو آواز خود ہی لوٹ آتی ہے۔ کوئی نوکر، کوئی خدمت گار حاضر نہیں ہوتا۔

اس تناظر میں دیکھیں تو فوج کے سپہ سالار کا عہدہ اپنی مرضی سے چھوڑنے کا مطلب اس تمام پروٹوکول اور ٹھاٹھ کو خدا حافظ کہنا ہے، اور یہی راحیل شریف نے کیا۔

جانیے: 'جنوبی پنجاب آرمی چیف جنرل باجوہ کیلئے نیا چیلنج'

مگر دوسری طرف میڈیا، بعض سیاستدان اور بعض حلقے جنہوں نے فوج کے موجودہ سپہ سالار کو مشکل کشا سمجھ لیا تھا، راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع پر کھلے عام مباحثے میں لگے رہے۔

فوج کے انتظامی معاملے کو ملکی سیاست کا اہم ترین مسئلہ بنا دیا گیا، اور جس کا دل چاہا، راحیل شریف کو مدت ملازمت میں توسیع کروانے کا مشورہ دیتا رہا۔ موو آن پاکستان کے نام سے رجسٹرڈ سیاسی جماعت نے تو اس حوالے سے انتہائی متنازع پوسٹر بھی لگوا دیے تھے۔ بہ یک وقت ملک کے اہم شہروں میں ان پوسٹروں کے لگنے سے ایک ہنگامہ برپا ہوا اور پارٹی کے سربراہ کو جیل کی ہوا کھانی پڑی۔

حکمران جماعت کے ساتھ ساتھ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا رویہ بھی راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے محتاط رہا۔ براہِ راست اور بالواسطہ مارشل لاء جھیل چکی سیاسی جماعتیں نہ تو کھل کر یہ کہہ سکتی تھیں کہ راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کی جائے، بلکہ وہ راحیل شریف کے بیان کو بار بار دہراتی رہیں کہ وہ کہہ چکے ہیں مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان، جو دھرنے کے دنوں میں امپائر کی انگلی اٹھنے کا اعلان کرتے رہے، اور دھرنے کے دوران جنرل راحیل شریف سے ملنے بھی گئے تھے، اس معاملے پر عجیب بیان دے ڈالا کہ نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

مگر اس کی وضاحت نہیں کی کہ وہ خود راحیل شریف کو نیا عہدہ دینے کے حق میں ہیں یا مخالف ہیں۔ اکتوبر کے آخری روز عمران خان نے اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کیا اور بنی گالہ میں گھر کی چھت پر ڈنڈ پیل کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ فوج ان کے ساتھ ہے۔ سیاسی پنڈت اس دھرنے پر تو یہ پیش گوئی کرتے نظر آئے کہ ٹکراؤ بس ہونے ہی والا ہے اور سیاسی نظام لپٹ جائے گا۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔

بہرحال سیاست اور سیاستدان کچھ بھی کریں جنرل راحیل شریف کے خاندان کی پاکستان کے لیے خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ دفاع وطن کے لیے ایک خاندان میں دو نشانِ حیدر کا ہونا اس خاندان کے لیے اس سے بڑی اعزاز کی بات کیا ہوگی۔ جنرل راحیل شریف نے بطور سپہ سالار خود کو ہوشمند اور زیرک انسان اور بہترین سپاہی ثابت کیا ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کسی عہدے پر جمے رہنے سے کیا حال ہوتا ہے۔

پڑھیے: پاکستان کی 'جنرل' انشورنس

جو لوگ بھی فوج اور فوجی زندگی کو اچھی طرح جانتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ایک بہتے پانی کی طرح ہیں، اور اس کے لیے افراد نہیں ادارہ اہم ہے۔ فوج کے نظم و نسق میں کسی طرح کا خلل نہیں ڈالنا چاہیے۔

پاکستان کی تاریخ میں بہت سے جرنیلوں نے شہرت حاصل کی، مگر جو عوامی پذیرائی جنرل راحیل شریف کے حصے میں آئی وہ کسی اور جرنیل کے حصے میں نہیں آئی۔ اس کے علاوہ جنرل راحیل شریف کو جتنے مواقع سیاسی نظام کی بساط لپیٹ دینے کے ملے، کسی اور جرنیل کو شاید ہی ملے ہوں۔

جنرل راحیل کی مدت ملازمت میں توسیع کے خواہش مند افراد بھی متعدد تاویلیں دیا کرتے تھے کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے اور جنگ میں سپہ سالار تبدیل نہیں ہوتا، اگر جنرل راحیل شریف چلے گئے تو پاک چین اقتصادی راہدری کھٹائی میں پڑ جائے گی، کراچی آپریشن رول بیک نہ ہوجائے اور ایک مرتبہ پھر ٹارگٹ کلنگ نہ شروع ہوجائے۔

تمام تر لالچ دلانے کے باوجود جنرل راحیل شریف نے جس صبر کا مظاہرہ کیا وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ اس پر ان کا شکریہ ادا کیا جانا بھی ضروری ہے۔

لگتا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے معروف مزاح نگار شفیق الرحمان کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ ایک کتاب میں شفیق الرحمان نے ایک کرکٹر کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ اپنے وسط کریئر میں پہنچا تو اس کی کارکردگی بہترین تھی اور بہت سے کھلاڑی اس سے پیچھے تھے۔ ایسے میں کرکٹر نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ اس پر ہر طرف سے شور و غوغا مچ گیا۔ یاروں نے پوچھا کہ اچانک ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا، تو کرکٹر نے جواب میں کہا کہ کیوں جارہے ہو پوچھا جانا بہتر ہے، بہ نسبت اس کے کہ لوگ پوچھیں کیوں نہیں جا رہے۔

راحیل شریف کے بطور آرمی چیف ریٹائرمنٹ سے ملک میں جمہوری نظام کو بہت زیادہ تقویت ملنے کی توقع ہے۔ جنرل راحیل کی ریٹائرمنٹ سے سب سے اہم بات جو پاکستانی نظام میں سرائیت کرے گی، وہ یہ کہ افراد نہیں نظام اہم ہے۔ ان کے بعد فوج کی کمان سنبھالنے والے جنرل قمر جاوید باجوہ کے سامنے جنرل راحیل شریف کی روشن مثال موجود ہوگی جس پر عمل کرتے ہوئے وہ دورانِ ملازمت اپنے پیشہ ورانہ امور پر توجہ مرکوز رکھ سکیں گے اور مدت ملازمت پوری ہونے پر باعزت ریٹائر ہوجائیں گے۔