چائنا کٹنگ میں ملوث کے ڈی اے کا افسر گرفتار

اپ ڈیٹ 13 دسمبر 2016

ای میل

کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) نے کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) افسر کو مبینہ طور پر چائنا کٹنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

ملزم محمد شاکر عرف لنگڑا ولد محمد شفیع کو فیڈرل بی ایریا میں چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا۔

نیب کراچی کے ترجمان کے مطابق ملزم ریفرنس نمبر 46/2016 میں نامزد ہے جب کے اس کے علاوہ کے ڈی اے کے افسران سمیت دیگر 14 افراد بھی اس میں نامزد ہیں۔

مزید پڑھیں: چائنہ کٹنگ، منی لانڈرنگ: متحدہ رہنما کے بھائی پر مقدمہ

ترجمان کا کہنا ہے کہ محمد شاکر اور دیگر افراد پر سرجانی ٹاؤن کے علاقے میں غیر قانونی الاٹمنٹس اور چائنا کٹنگ میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد شاکر پر الزام ہے کہ اس نے بطور کے ڈی اے، ڈٰی ڈی او (شفٹنگ) لاکھوں روپے رشوت کے عوض غیر قانونی طریقے سے جعلی الاٹمنٹس کیں اور سرجانی ٹاؤن کے 14 فلاحی علاقوں میں 281 رہاشی پلاٹس بنائے۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں یہ پلاٹس فروخت کردیے گئے جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 16 کروڑ 80 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

واضح رہے کہ 2015 کے آغاز میں بھی نیب نے کے ڈی اے کے تین عہدے داروں کو زمینوں پر قبضے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

زمینوں پر قبضہ اور چائنا کٹنگ کراچی کا ایک اہم مسئلہ ہے اور سیکیورٹی حکام کہتے ہیں کہ یہ شہر میں تشدد کی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

کراچی میں قومی ایکشن پلان کے نفاذ کے بعد سے مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی توجہ لینڈ گریبنگ کے مقدمات پر مرکوز کیے ہوئے ہیں اور شہر سے اس کے خاتمے کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔