’بھارتی فلموں کی نمائش پر عائد پابندی ختم‘

اپ ڈیٹ 17 دسمبر 2016

ای میل

پاکستان کے سنیما مالکان نے بھارتی فلموں پر پابندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے 19 دسمبر سے ملک بھر میں ہندوستانی فلموں کی نمائش شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق 19 دسمبر سے پاکستان بھر کے سنیما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش شروع کردی جائے گی۔

سنیما مالکان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھارتی فلموں کی نمائش معطل کی تھی اور ان پر مکمل طور پر پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔

ایٹریم سنیما کے مالک ندیم مانڈی والا نے اس بات کی تصدیق کی کہ ’بھارتی فلموں کی نمائش پر جو پابندی تھی وہ 19 دسمبر سے اٹھالی جائے گی‘۔

پابندی ختم ہونے کے بعد جو پہلی فلم نمائش کے لیے پیش کی جائے گی وہ نواز الدین صدیقی کی فلم ’فریکی علی‘ ہوگی۔

ندیم مانڈی والا نے کہا کہ پابندی کی وجہ سے جو فلمیں نمائش سے رہ گئیں تھیں انہیں پہلے نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سینما میں بولی وڈ فلموں پر پابندی

اکتوبر کے مہینے میں ندیم مانڈی والا نے اشارہ دیا تھا کہ پاکستانی سینماﺅں کے مالکان اور دیگر فریق آئندہ چند روز میں ملاقات کرکے بھارتی فلموں پر پابندی کے حوالے سے نئے لائحہ عمل پر غور کریں گے اور اس میں نرمی بھی کی جاسکتی ہے۔

یہ بات مانڈوی والا انٹرٹینمنٹ کے چیف ایگزیکٹو اور ایٹریم سینما کے مالک ندیم مانڈوی والا نے ڈان نیوز کے پروگرام نیوز وائز سے بات کرتے ہوئے کہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس پابندی سے دونوں طرف نقصان ہوگا، 40 سال تک یہاں بھارتی فلموں کو ریلیز کرنے کی اجازت نہیں تھی، جبکہ پاکستانی فنکاروں نے وہاں کام نہیں کیا تھا، اگر دروازے ہم نے کھولے تو دروازے ان کی جانب سے بھی کھولے گئے ہیں، پاکستانی اسٹارز، گلوکار وہاں جا رہے ہیں اور کام کررہے ہیں، تو اس سے انہیں بھی اتنا ہی نقصان ہوگا جتنا ہمارا ہے، ہم تو ایسا نہیں چاہتے تھے، مگر وہاں پابندی عائد کرکے ہمیں مجبور کردیا گیا'۔

واضح رہے کہ بھارت نے 18 ستمبر کو کشمیر میں اڑی فوجی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی فنکاروں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس سلسلے میں 30 ستمبر کو انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (آئی ایم پی پی اے) نے پاک۔ بھارت کشیدگی کے پیش نظر پاکستانی فنکاروں اور ٹیکنیشنز پر بولی وڈ میں کام کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔

اس سے قبل ہندو انتہا پسند گروپ نے بھی بولی وڈ میں کام کرنے والے پاکستانی اداکاروں کو دھمکی دی تھی۔

ہندو گروپ ایم این ایس نے پاکستانی فنکاروں کو بھارت سے نکل جانے کا کہا تھا جس کے بعد پاکستانی فنکار وطن واپس آگئے تھے۔

اس سے قبل گلوکار شفقت امانت علی اور عاطف اسلم نے بھارت میں اپنے کنسرٹس کو منسوخ کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: بولی وڈ فلموں پر پابندی کا فائدہ نہیں، مقامی سینما مالکان

گلوکار شفقت امانت علی ہندوستان کے شہر بنگلور میں 30 ستمبر کو پرفارم کرنے والے تھے جبکہ عاطف اسلم کا کنسرٹ گڑگاؤں میں 15 اکتوبر کو منعقد کیا جارہا تھا، دونوں ہی ایونٹس منسوخ کردیے گئے تھے۔

بعد ازاں اس کے رد عمل میں پاکستانی سنیما میں بھی بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

اکتوبر کے مہینے میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پاکستان میں ہندوستانی فلموں کی نمائش پر پابندی ہٹادی گئی ہے تاہم اس وقت سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی ان خبروں کو پاکستان فلم ایگزہیبیٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین زوریز لاشاری نے بے بنیاد ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ بولی وڈ فلموں پر پابندی برقرار ہے۔