مسلم ممالک پر پابندی، ایران کا امریکا کو کرارا جواب

28 جنوری 2017

ای میل

ایران نے امریکا کو کرار جواب دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور دیگر 6 مسلم ممالک کے شہریوں پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد تہران بھی امریکی شہریوں پر پابندی عائد کرے گا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران وزارت خارجہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جسے سرکاری ٹی وی نے نشر کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ 'اسلامی جمہوریہ ایران نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ امریکا کو ویسا ہی جواب دے گا جیسا کہ امریکا نے ایرانی شہریوں کے حوالے سے ہتک آمیز فیصلہ کرکے کیا ہے'۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک امریکا پابندی نہیں اٹھاتا امریکی شہریوں کی بھی ایران میں داخلے پر پابندی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: مصر سے امریکا جانے والے مسافروں کو روک لیا گیا

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو غیر قانونی، غیر منطقی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی سفارتی مشنز کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ وہ ان ایرانی شہریوں کی معاونت کریں جنہیں امریکا میں اپنے گھر، ملازمت یا تعلیم کے حصول کے لیے داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

ایران میں ٹریول ایجنٹس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ایئرلائنز نے ٹرمپ کی جانب سے جاری ہونے والے حکمنامے کے بعد سے ہی امریکا جانے والی پروازوں میں سے ایرانی شہریوں کو اتارنا شروع کردیا ہے۔

قبل ازیں ہفتے کے روز قاہرہ سے نیویارک جانے والے مصر ایئر کی پرواز سے پانچ عراقی اور ایک یمنی شہری کو طیارے میں سوار ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرکے امریکا میں تارکین وطن کے داخلے کے پروگرام کو معطل کرتے ہوئے 7 مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

مزید پڑھیں: 7 مسلمان ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی

ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکا میں تارکین وطن کے داخلے کے پروگرام کو 120 دن (یعنی 4 ماہ) کے لیے معطل کردیا گیا۔

دوسری جانب 7 مسلمان ممالک ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں کو 90 دن (یعنی 3 ماہ) تک امریکا کے ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔

نئے آرڈر کے تحت شامی مہاجرین کے امریکا میں داخلے پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی گئی۔

قبل ازیں ٹرمپ کا اپنے انٹریو میں کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان اور سعودی عرب سے آنے والی ویزا درخواستوں کی کڑی جانچ پڑتال کی جائے گی اور 'کڑی کا مطلب بہت سخت ہوگا، اگر ہمیں ذرا بھی شک ہوا تو ان افراد کو امریکا میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘