اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیرمین سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کا بورڈ موجود ہے لہذا اسے آزادانہ طریقے سے فیصلے کرنے دیے جائیں اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینچ کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) شیئرز کی خرید و فروخت میں چھیڑ چھاڑ نہ کرے۔

سلیم مانڈوی والا نے ان خیالات کا اظہار سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کیا جس کے جواب میں چیئرمین ایس ای سی پی محمد ظفر الحق حجازی نے کہا کہ ’اگر ہم اسٹاک مارکیٹ کو کنٹرول نہیں کرسکتے تو پھر منہ کالا کرکے چلے جاتے ہیں‘۔

چیئرمین ایس ای سی پی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ چند ماہ میں آنے والی تیزی مصنوعی تھی اور اس میں 24 بروکرز ملوث ہیں جنہیں نوٹسز جاری کر دیئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ اتار چڑھاؤ کے بعد 18 پوائنٹس اضافے پر بند

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کاسٹ مینجمنٹ اکاؤنٹس ترمیمی بل زیربحث آیا اور ایس ای سی پی کی جانب سے اسٹاک مارکیٹ کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں سیکریٹری قانون کی عدم شرکت پر ارکان نے اظہار برہمی کیا تاہم وزارت قانون کے حکام نے بتایا کہ عموماً کمیٹی اجلاس میں ڈرافٹس ونگ کے افسران شریک ہوتے ہیں جس پر کمیٹی نے ایڈیشنل سیکریٹری قانون کو فوری اجلاس میں شریک ہونے کی ہدایت کی۔

کمیٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ ایس ای سی پی کی جانب سے اسٹاک ایکسچینج میں بروکرز پر شیئرز فروخت کرنے پر دباو ڈالا جا رہا ہے، اس بات کی تصدیق اسٹاک بروکرز نے فون کر کے کی ہے۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایس ای سی پی اسٹاک ایکسچینج میں مداخلت نہیں کر سکتا، اس پر چیئرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی کا کہنا تھا کہ ایس ای سی پی کسی بروکر پر دباؤ نہیں ڈال رہا ہے، ان بروکرز کا وطیرہ ہے کہ جب کارروائی کرتے ہیں تو شور کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کمپنی کو شیئرز کی فروخت، پاکستان اسٹاک کو رقم مل گئی

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک بڑے بروکر نے تسلیم کیا ہے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے، ایس ای سی پی نے صرف ان بروکرز کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو غیرقانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔

چیئرمین ایس ای سی پی نے کہا کہ ان بروکرز نے گذشتہ 15 روز میں مارکیٹ کو گرانے کی کوشش کی ہے تاہم یہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے، یہ بروکرز ایس ای سی پی کے کمشنرز پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی ایک آزاد ادارہ ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں کالے دھن کو ہر صورت روکنا ہے۔

ظفر حجازی نے کہا کہ وزیر خزانہ کو کہا تھا کہ وہ ایس ای سی پی کے کام میں مداخلت نہیں کریں گے، بڑے بڑے بروکرز کا داخلہ وزارت خزانہ میں بند کردیا گیا ہے، کمیٹی چاہے تو اس معاملے کی ہر لحاظ سے تحقیقات کرا سکتی ہے۔

اس موقع پر سینیٹر عثمان سیف اللہ نے کہا کہ ایس ای سی پی اسٹاک مارکیٹ کا ریگولیٹر ہے، اگر ایس ای سی پی بروکرز کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا تو پھر کون کرے گا؟ ایس ای سی پی کے پالیسی بورڈ پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ کو ایس ای سی پی کے پالیسی بورڈ کا سربراہ نہیں ہونا چاہئے۔

چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے بورڈ کی طرح ایس ای سی پی کے بورڈ کو آزاد کرنا چاہیے،ایس ای سی پی اسٹاک مارکیٹ کو کنٹرول کرسکتا ہے نہ ہی مداخلت کر سکتا ہے،اسٹاک مارکیٹ اب بین الاقوامی ادارہ بن چکا ہے۔

سینیٹ کمیٹی نے آزاد کشمیر میں کرپٹ افسر کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) پر اظہار برہمی کیا۔

سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے کرپٹ افسر وسیم الطاف کو آزاد کشمیر سے واپس بلانے کے لئے کچھ نہیں کیا، ایف بی آر ایک کرپٹ افسر کو بچانے کی کوشش کرر ہا ہے،چھ ماہ سے اس کرپٹ افسر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔