— اسکرین شاٹ
— اسکرین شاٹ

کون ایسا ہوگا جسے سسپنس اور مسٹری سے بھرپور فلمیں پسند نہ ہوں جو کہ درحقیقت تھرلر اور کرائم فلموں کی صنف کا حصہ ہوتی ہیں۔

ان فلموں کو پسند کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اکثر یہی ٹاپ ریٹڈ بھی ثابت ہوتی ہیں۔

یہ ایسی فلمیں ہوتی ہیں جو آغاز سے ہی لوگوں کے اندر تجسس پیدا کرتی ہیں، جس میں کہانی کے ساتھ ساتھ مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کا اختتام چونکا دیتا ہے۔

عام طور پر یہ فلمیں غیر حل شدہ قتل کے مقدمات اور معموں کے گرد گھومتی ہیں مگر کچھ ان سے الگ بھی ہوتی ہیں اور ایسی ہی ایک فلم ہے 'دی سکستھ سنس'، ویسے تو یہ سسپنس تھرلر ہے مگر اسے خوفناک فلموں کی کیٹیگری میں بھی شامل کیا گیا ہے، جو باکس آفس بزنس کے لحاظ سے ہر دور کی سب سے کامیاب ہارر فلم کہلاتی ہے۔

اس ہفتے اگر آپ کا کوئی فلم دیکھنے کا ارادہ ہے تو اسے ضرور دیکھیں جو معروف ڈائریکٹر ایم نائٹ شیامالن اور اداکار بروس ولز کے کیرئیر کی بھی سب سے بہترین فلم سمجھی جاسکتی ہے۔

پلاٹ

یہ فلم ایک ماہر نفسیات مالکم کرو کے گرد گھومتی ہے جو ایسے بچے کا علاج کررہا ہوتا ہے جو وفات پا جانے والے افراد کو دیکھنے اور ان سے بات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس بچے سے ملاقات سے قبل مالکم کرو کا سامنا ایک ناخوش مریض سے ہوتا ہے جو اس فلم کی کہانی کی بنیاد ثابت ہوتا ہے تاہم وہ تعلق آخری مناظر میں جاکر کھلتا ہے۔

یہ ایک ایسی فلم ہے جو شروع سے لے کر آخر تک تجسس اور سسپنس سے بھرپور ہے مگر اس کا اختتام آپ کو نشست پر اچھلنے پر مجبور کردیتا ہے۔

کیونکہ پہلی بار دیکھنے والے کے لیے فلم کے آخر میں یہ یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ اسے فلم سمجھ بھی آئی یا نہیں کیونکہ اختتام انتہائی غیرمتوقع ہوتا ہے۔