لاہور: فوج کی جانب سے اعتراض سامنے آنے کے بعد 878 کلومیٹر طویل مٹیاری-لاہور ٹرانسمیشن لائن منصوبے کو دوبارہ بچھائے جانے کے کام کا آغاز کردیا گیا۔

خیال رہے کہ فوج کی جانب سے اس منصوبے کے روٹ پر اعتراض کرتے ہوئے زور دیا گیا تھا کہ ٹرانسمیشن لائن کو بہاول پور کے سرحدی علاقوں اور چھاؤنی سے کم از کم 30 کلومیٹر کی دوری پر بچھایا جائے۔

فوجی اعتراض سامنے آنے کے بعد وزارت پانی و بجلی کے ذیلی ادارے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) اور 1.6 ارب کے منصوبے پر کام کرنے والی چائنا الیکٹرک پاور اکوپمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی (سی ای ٹی) نے فوجی حکام کی رہنمائی میں ٹرانسمیشن لائن کو دوبارہ بچھائے جانے کے لیے تفصیلی سروے کا آغاز کردیا۔

خیال رہے کہ مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن لائن، پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ ہے اور ڈائریکٹ کرنٹ پر چلنے والا ملک کا پہلا بڑا منصوبہ ہے، اس ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے 4 ہزار میگاواٹ کی ترسیل کی صلاحیت ہوگی۔

ابتدائی سروے کے مطابق یہ ٹرانسمیشن لائن مٹیاری (حیدرآباد) سے بلوکی (بھائی پھیرو اور لاہور کے نزدیک علاقے) تک تعمیر کی جائے گی، جو گھوٹکی، رحیم یار خان اور بہاول پور سے گزرتی ہوئی جائے گی۔

خیال رہے کہ تفصیلی سروے کے بعد اس کی تعمیر کے روٹ میں ہونے والی تبدیلی منصوبے کی لاگت میں 10 فیصد اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

وزارت پانی و بجلی کے حکام کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ 'اس سے قبل ہونے والے ابتدائی سروے کے بعد نئے روٹ کے لیے زمین کے حصول کی غرض سے چینی کمپنی کی جانب سے سروے کیا جارہا ہے جس میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ یہ روٹ فوج کے حساس علاقوں سے 30 کلومیٹر کی دوری پر ہو'۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے مزید بتایا کہ 'اس سے قبل یہ لائن آرمی ٹریننگ کیمپ سمیت دیگر حساس مقامات کے نزدیک سے گزر رہی تھی، جس پر فوجی اعتراٖض سامنے آیا، کیونکہ فوجی علاقے اور یہ منصوبہ دونوں ہی اسٹریٹجک لحاظ سے خاصے اہم ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ اعتراضات سامنے آنے کے فوراً بعد، وزارت پانی و بجلی اور این ٹی ڈی سی نے فوجی حکام کے ساتھ ملاقات کی اور بالآخر روٹ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا، یہ بھی طے کیا گیا کہ نئے روٹ کا حتمی فیصلہ کرنے کے لیے چینی اور این ٹی ڈی سی کے انجینئرز پر مشتمل سروے ٹیمز کو فوجی حکام رہنمائی فراہم کریں گے۔

حکام کے مطابق 'امید ہے کہ روٹ میں ہونے والی تبدیلی اور ترمیم منصوبے کی طے شدہ 868 کلومیٹر لمبائی پر اثرانداز نہیں ہوگی لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو منصوبے کی لاگت میں 5 سے 10 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے، معاہدے کے تحت یہ اضافہ چینی کانٹریکٹر برداشت کریں گے'۔

وزارت کے ایک اور عہدےدار نے ترقیاتی کام کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ روٹ میں تبدیلی کا کام شروع ہوچکا ہے، 'متعلقہ کوارٹرز کی جانب سے سامنے آنے والی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے روٹ میں ترمیم ضروری ہے'۔

منصوبے کے روٹ کا حتمی فیصلہ ہونے کے بعد ٹرانسمیشن لائن کے لیے سندھ اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں زمین کے حصول کا آغاز کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ حکومت زمین کے دو ٹکڑوں کا قبضہ پہلے ہی چینی کمپی کو فراہم کرچکی ہے جہاں 660 کلو واٹ ہائی وولٹیج کی ڈائریکٹ کرنٹ ٹرانسمیشن لائن کے لیے کنورٹر اسٹیشنز تعمیر کیے جانے ہیں۔

این ٹی ڈی سی نے نجی مالکان سے زمین حاصل کرنے کے بعد رواں برس جنوری میں چینی کمپنی کو 175 ایکڑ پر محیط زمین کے دو حصوں کا قبضہ دیا تھا، ان میں سے ایک حصہ لاہور سے 50 کلومیٹر دور بلوکی جبکہ دوسرا سندھ کے شہر حیدرآباد کے نزدیک مٹیاری میں موجود ہے۔


یہ خبر 24 اپریل 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔