اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینیٹر نہال ہاشمی کے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر 10 جولائی کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔

سپریم کورٹ میں پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت کرنے والے 3 رکنی بینچ نے جسٹس افضل اعجاز کی سربراہی میں نہال ہاشمی کی دھمکی آمیز تقریر کے معاملے پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

نہال ہاشمی کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ان کے موکل عمرے پر جا چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: دھمکی آمیزتقریر: نہال ہاشمی کو 16جون تک وضاحت کی مہلت

نہال ہاشمی کی عدم پیشی پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور بینچ میں شامل جج جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ نہال ہاشمی کو عدالت سے اجازت لے کر جانا چاہیے تھا، انھوں نے عدالت کو آگاہ نہیں کیا۔

اس موقع پر نہال ہاشمی کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل اگر مجرم ہے تو بے شک پھانسی پر چڑھا دیں لیکن انہیں انتقامی کارروائی سے بچایا جائے، نہال ہاشمی کا وکالت کا تیس سال کا تجربہ ہے انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ اس کیس میں پھانسی نہیں ہوتی۔

وکیل نے مطالبہ کیا کہ اٹارنی جنرل کو بطور پراسیکیوٹر ہٹایا جائے، ان کے لیٹر پر نہال ہاشمی کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی۔

جس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل انتہائی قابل ہیں کیا آپ کو ان کی صلاحیتوں پر شک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دھمکی آمیز تقریر کے بعد نہال ہاشمی سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی

نہال ہاشمی کے وکیل نے کہا کہ ان کی صلاحیتوں پر شک نہیں، ہم اصول کی بات کر رہے ہیں، مرکز صوبے کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور نہال ہاشمی کے گارڈ واپس لے لیے گئے ہیں، جبکہ ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی ہو رہی ہے اسے روکا جائے۔

جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے، نہ ہی ان معاملات کا اس کیس کوئی تعلق ہے۔

جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ نہال ہاشمی پر 10 جولائی کوفرد جرم عائد کی جائے گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 31 مئی کو نہال ہاشمی کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں اپنی جذباتی تقریر کے دوران لیگی سینیٹر دھمکی دیتے نظر آئے تھے کہ 'پاکستان کے منتخب وزیراعظم سے حساب مانگنے والوں کے لیے زمین تنگ کردی جائے گی'.

نہال ہاشمی نے جوش خطابت میں کسی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ حساب لینے والے کل ریٹائر ہوجائیں گے اور ہم ان کا یوم حساب بنادیں گے۔

مزید پڑھیں: نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ

بعدازاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نہال ہاشمی کی دھمکی آمیز تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے معاملہ پاناما کیس عملدرآمد بینچ کے پاس بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس کی ہدایات کے مطابق خصوصی بینچ نے یکم جون کو اس کیس کی پہلی سماعت کی اور نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو لیگی سینیٹر کی تقریر سے متعلق مواد اکٹھا کرنے کی ہدایت کی تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں