خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے لیلونائی میں دو بچوں کی ماں کو مبینہ طور پر'غیرت کےنام' پر قتل کردیا گیا۔

ڈان کو الپوری پولیس اسٹیشن کے عہدیدار عارف خان نے بتایا کہ لیلونائی کے علاقے میں زینب بی بی نامی لڑکی کو مبینہ طور پر ان کے دیور نے قتل کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال فروری میں ایک شخص کو اس لڑکی سے تعلق کے شک کی بنیاد پر ان کے شوہر عمرزادہ اور بھائیوں نے ہلاک کردیا تھا۔

مزید پڑھیں:شانگلہ: 'غیرت کے نام' پر بھائی کے ہاتھوں بہن قتل

پولیس عہدیدار کا کہنا تھا کہ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال الپوری میں منتقل کردیا۔

پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں شروع کردی ہیں جبکہ ایف آئی آر میں رحمت خان اور سلطان رومی نامی دو افراد کو نامزد کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال فروری میں ضلع شانگلہ میں ایک شخص نے اپنی بہن کو مبینہ طور پر 'غیرت کے نام' پر قتل کردیا تھا۔

دوماہ قبل خیبر پختونخوا کے ایک اور ضلع مانسہرہ میں مبینہ طور پر شہریوں نے نوجوان کو غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں غیرت کے نام پر ایک اور قتل

ڈان نیوز کے مطابق مانسہرہ کی تحصیل گڑھی حبیب اللہ میں گاؤں کی ایک لڑکی کے ساتھ تعلقات کے الزام پر مشتعل ہجوم نے مبینہ طور پر نوجوان عبدالستار کو ڈنڈوں اور پتھروں سے مارا اور پھر گولی مار کر نوجوان کی جان لے لی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں ہر سال عزت اور غیرت کے نام پر ایک ہزار سے زائد خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایسا اکثر خاندان کے افراد کی جانب سے ہوتا ہے۔

عورت فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ 2016 میں خواتین کے خلاف تشدد کے تقریباً 7،852 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔