سماجی رابطے کی مشہور ویب سائٹ ٹوئٹر نے دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے آن لائن دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دباؤ کے نتیجے میں 3 لاکھ اکاؤنٹ بند کر دیے۔

اپنے ایک بیان میں ٹوئٹر کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی ویب سائٹ کے ایک ٹول کو مزید بہتر کیا ہے جس نے عالمی سطح پر دہشت گردوں یا ان کے کارندوں سے منسلک 3 لاکھ اکاؤنٹ بند کرنے میں زبردست مدد فراہم کی اور تقریباً 95 فیصد اکاؤنٹ اسی ٹول کی مدد سے بند کیے گئے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا بھر سے حکومتوں کی جانب سے دیے جانے والے ڈیٹا میں اضافہ ہورہا ہے۔

انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں اس نئے ٹول کا استعمال انتہائی ضروری ہے کیونکہ روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں کی تعداد میں پیغامات کو پڑھنا ایک نا ممکن عمل ہے۔

مزید پڑھیں: ٹوئٹر اکاﺅنٹ کیسے ویری فائیڈ ہوتا ہے؟

ٹوئٹر کے اس وقت پوری دنیا میں 32 کروڑ 80 لاکھ صارفین موجودہ ہیں جن میں سے تقریباً 6 کروڑ 80 لاکھ صارفین امریکا میں موجود ہیں۔

فیس بک اور یو ٹیوب کے ساتھ ساتھ ٹوئٹر بھی ایسا ٹول بنا رہا ہے جس کی مدد سے فوری طور پر پریشان کن مواد کی نشاندہی کی جاسکے گی اور اسے بند کیا جاسکے گا۔

اس وقت سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے پاس تقریباً 7 ہزار 500 افراد پر مشتمل عملہ موجود ہے جو اس نیٹ ورک پر آنے والے مواد کو دیکھتا ہے اور اس کے خلاف مواد جاری کرتا ہے۔

ٹوئٹر نے رواں برس ایسے 75 فیصد اکاؤنٹ بلاک کیے جن کی نشاندہی پیغام پہنچانے سے پہلے کی گئی جبکہ اگست 2015 سے لے کر اب تک 9 لاکھ 35 ہزار 8 سو 97 اکاؤنٹ بند کیے جا چکے ہیں جن میں زیادہ تر اکاؤنٹ رواں برس بند کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹوئٹر کا صارفین کیلئے تحفہ

اپنے بیان میں ٹوئٹر نے کہا کہ ویب سائٹ کا اینٹی اسپام ٹول پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے اکاؤنٹس کو بند کرنے کے لیے مزید تیز اور زیادہ مؤثر ہوتا جارہا ہے۔

ٹوئٹر آزادی رائے کو برقرار رکھنے کے لیے قانون سازوں کے دباؤ کو بھی متوازن کر رہا ہے جو سوشل میڈیا کو نفرت انگیز تقاریر اور دہشت گردی کے خلاف کام کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

گذشتہ برس ٹوئٹر نے یورپی ممالک سے معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق وہ نسل پرستی اور اشتعال انگیز مواد پر رپورٹ کی صورت میں 24 گھنٹوں کے اندر کارروائی کرتے ہوئے اس مواد کو ختم کر دے گا۔

امریکی حکام نے ادارے سے 2 ہزار 1 سو 11 درخواستیں کیں، جو 83 ممالک میں کمپنی کو کی گئی سب سے زیادہ درخواستیں ہیں جبکہ جاپان نے 1 ہزار 3 سو 84 اور برطانیہ نے 6 سو 6 درخواستیں بھیجیں۔

ترک حکام نے اب تک 554 درخواستیں بھیجیں جبکہ دنیا کے دیگر ممالک نے کُل 38 درخواستیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ کو بھیجیں۔


یہ خبر واشنگٹن پوسٹ کی اجازت سے 20 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی