فاصلاتی نظام کے ذریعے تعلیم دینے والی جامعہ ’علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی‘ نے پاکستان میں خواجہ سراؤں کو مفت تعلیم دینے کے پروگرام کا اغاز کردیا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طرف سے شروع کیے گئے تعلیمی پروگرام کے تحت ملک میں رہنے والے خواجہ سرا میٹرک سے ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) اور فنی تعلیم کے کسی بھی پروگرام میں داخلہ لے سکتے ہیں اور ان سے کسی قسم کی فیس بھی چارج نہیں کی جائے گی۔

یونیورسٹی کے 44 ریجنل سینٹرز میں مفت تعلیم کے لیے خواجہ سراؤں سے درخواستیں مانگ لی گئی ہیں اور اب تک درجنوں درخواستیں جمع بھی کرائی جاچکی ہیں۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر شاہد صدیقی نے ڈان نیوز کو اس حوالے سے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کے حوالے سے بہت زیادہ تفریق پائی جاتی ہے، خاص کر خواجہ سراؤں کو تعلیم سے مکمل طور پر الگ رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے دنیا میں ایک رول ماڈل کے طور پر خواجہ سراؤں کو مفت تعلیم دینے کا پروگرام شروع کیا ہے، تاکہ وہ اس معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور قومی دھارے میں شامل ہوں۔‘

شاہد صدیقی نے کہا کہ ’اس مقصد کے لیے ہمارے تمام پروگرام خواجہ سراؤں کے لیے کھلے ہیں اور وہ جس پروگرام میں چاہیں داخلہ لے سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے تحت خواجہ سراؤں سے فیس وصول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی تعلیم کے لیے انہیں یونیورسٹی آنے کی ضرورت ہوگی، تمام تعلیمی میٹریل انہیں گھر پر ہی فراہم کیا جائے گا اور جو عام طلبہ کے لیے طریقہ کار موجود ہے اسی کے تحت خواجہ سراؤں کو بھی تعلیم فراہم کی جائے گی۔‘