اگر کچھ کرنے کی لگن ہو تو انسان ناممکن چیز کو بھی ممکن بنا سکتا ہے اور ایسا ہی کچھ کردکھایا ایک پاکستان طالبعلم نے، جنہوں نے کم عمری میں برقی چھتوں یعنی 'الیکٹرک ہنی کومب' پر تحقیق کرکے ناصرف سائنسی میدان میں ایک نیا زاویہ پیش کرکے ملک کا نام روشن کیا، بلکہ دنیا بھر کے ماہرین کو بھی حیرت میں مبتلا کردیا۔

صوبہ پنجاب کے شہر لاہور سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ محمد شہیر نیازی کے الیکٹرک ہنی کومب پر تحقیق سے متعلق مضمون گذشتہ ماہ دنیا کے ایک مشہور تحقیقاتی جریدے رائل سوسائٹی اوپن سائنس جنرل میں شائع ہوا جس کے بعد ان کے اس کارنامہ نے سائنسی تحقیق کے لحاظ سے اس عمر میں دنیا کے مشہور ماہر طبعیات اور سائنسدانوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'ذرا ہٹ کے' میں گفتگو کرتے ہوئے شہیر نیازی نے الیکٹرک ہنی کومب پر اپنی تحقیق کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ عام طور پر اس میں ہم دو الیکٹروڈ لیتے ہیں اور تیل کی تہہ پر لوہے کی راڈ کے ذریعے ہائی وولٹیج کو گزارا جاتا ہے اور یوں اس میں تیل پر دباؤ پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے جس سے وہ انہیں راستہ فراہم کرتا ہے اور اس پورے عمل کے دوران تیل کی شکل شہد کی مکھیوں کے چھتے جیسی نظر آتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'مجھے فخر ہے کہ میں نے 17 سال کی عمر میں اس پر تحقیق کی جسے دنیا بھر میں پذیرائی بھی ملی ہے، جو میری والدہ کا خوب بھی تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرک ہنی کومب پر تحقیق کے دوران ایک نئی چیز یہ تھی کہ اس میں تیل کی سطح پر حرارت کا فرق بھی معلوم کیا، جو سائنسی میدان میں ایک منفرد بات ہے۔

انہیں اتنی کم عمری میں فزکس کے میدان میں اس طرح کی تحقیق کرنے کے شوق کے حوالے سے بوچھت گئے ایک سوال کے جواب میں شہیر نیازی کے بتایا کہ اس سب کے پیچھے ان کے والدین کا اہم کردار رہا ہے، جنہوں نے بچپن میں فزکس سے متعلق کارٹونس دکھائے اور پھرکتابیں پڑھنے سے اسے سیکھنے میں مدد ملی جس سے آہستہ آہستہ میرے اندر اس کا شوق پیدا ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ انہیں ہر چیز پر تجربات کرنے کا کافی شوق ہے اور یہی وہ شوق تھا جس سے آج اتنی بڑی کامیابی ملی۔

شہیر نیازی کی الیکٹرک ہنی کومب پر تحقیق کے دوران ایک نئی چیز یہ تھی کہ اس میں تیل کی سطح پر حرارت کا فرق بھی معلوم کیا جاسکتا ہے۔ فوٹو: فیس بک
شہیر نیازی کی الیکٹرک ہنی کومب پر تحقیق کے دوران ایک نئی چیز یہ تھی کہ اس میں تیل کی سطح پر حرارت کا فرق بھی معلوم کیا جاسکتا ہے۔ فوٹو: فیس بک

شہیر نیازی کا کہنا تھا کہ 'ویسے تو الیکٹرک ہنی کومب کا ہماری عام زندگی سے تعلق نہیں، لیکن چونکہ یہ فزکس کا ایک حصہ ہے تو آئندہ اس پر ان نئے عناصر کی روشنی میں مزید تحقیق کی جاسکتی ہے'۔

انھوں نے کہا کہ 1997 سے اب تک الیکٹرک ہنی کومب کے صرف چار پیپرز موجود تھے اور اسی لیے میرا خیال تھا کہ کیوں نہ اسی پر تحقیق کرکے ایک نیا پیپر شائع کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگرچہ فزکس پڑھنے والے طالبعلم اسے مسلسل پڑھ کر بور ہوجاتے ہیں، لیکن میں نے اسے ایک تفریحی مضمون تصور کیا جس سے میرا اس کے ساتھ تعلق گہرا ہوتا گیا'۔

شہیر نیازی نے تعلیمی اداروں میں فزکس کی تعلیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ اس کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کریں جس سے ہر طلب علم میں اسے پڑھنے کا شوق پیدا ہو، کیونکہ اب تک تو جس طرح سے فزکس کو پڑھایا جا رہا ہے، اس سے ایک عام خیال یہی ہے کہ ایک خشک مضمون ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہت سے باصلاحیت طلب علم موجود ہیں جو اس پر تحقیق کرسکتے ہیں، لیکن صرف تعلیمی نظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔