ٹیکسلا: سابق وزیر داخلہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ پارٹی کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالتوں سے محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے، جیسا کہ ان کو اور ان کے خاندان کو سپریم کورٹ کے تحت احتساب کا سامنا ہے۔

ٹیکسلا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’میرا مؤقف یہ ہے کہ ہمیں عدالتوں سے محاذ آرائی کے بجائے عدالتوں میں زیر سماعت کیسز کا بھرپور طریقے سے سامنا کرنا چاہیے، یہ نہ تو نواز شریف، نہ ان کی پارٹی، اور نہ ہی ملک کے اداروں کے لیے درست ہوگا‘۔

انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ ’مجھے یہ یقین ہے کہ عدالتیں ان کے سامنے پیش کیے جانے والے ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کریں گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: ’ججز کی تضحیک‘ پر نواز شریف کے خلاف ’توہین عدالت‘ کی درخواست

ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی خود مختار ملک اپنی سرحدوں میں مشترکہ آپریشن کی اجازت نہیں دے سکتا اور نہ ہی پیش کش کرسکتا‘۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں یہ رپورٹس سامنے آئیں تھی کہ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے امریکا میں اپنے 3 روزہ دورے کے دوران اعلیٰ امریکی حکام کو پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشنز کرنے کی پیش کش کی تھی، اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی رواں ہفتے قومی اسمبلی میں آواز اٹھائی تھی۔

چوہدری نثار نے خبردار کیا کہ ’اگر کسی اور طاقت کو اپنے ملک میں آپریشن کرنے کے لیے بلائیں گے، اس سے ملک کا مزاق اڑایا جائے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر اس قسم کی کوئی تجویز موجود ہے تو ایسا ہی آپریشن افغانستان میں بھی کیا جانا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ جہاں پاکستان میں دہشت گردوں کی مبینہ موجودگی کا الزام لگایا جاتا ہے وہی ہمارے پاس بھی ایسے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ دہشت گرد افغانستان سے دن کی روشنی میں کارروائیاں کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: حقانی نیٹ ورک کے خلاف مشترکہ آپریشن کی پیشکش، خواجہ آصف سے جواب طلب

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے گھر کو صاف کرنے سے کون روک رہا ہے؟ کوئی نہیں، یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے جس کو مستقل بیانات کی زینت بنایا جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’چاہے وہ وزیراعظم ہوں یا ان کے وزیر، اگر وہ اپنے مکان کو بہتر کرنے کے لیے بیان دینے کے بجائے کردار ادا کریں گے تو ملک کے لیے زیادہ بہتر ہوگا، لیکن ان کے ایسے بیانات سے بھارت اور امریکا کے مؤقف کو تقویت ملے گی‘۔

یاد رہے کہ 10 اکتوبر 2017 کو پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کہا تھا کہ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے امریکا کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف مشترکہ آپریشن کی پیش کش کی ہے جبکہ دوسری جانب امریکا انڈیا کا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر امریکا کے ساتھ مشترکہ کارروائی کی گئی تو تمام حساس معلومات بھارت کو منتقل ہوجائیں گی۔