لندن: برطانوی جہادی خاتون، سیلی جونس، جن پر داعش کے لیے آن لائن بھرتیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا، شام میں ہونے والے ایک امریکی ڈرون کے حملے میں اپنے 12 سالہ بیٹے کے ساتھ ہلاک ہوگئیں۔

ڈان اخبار نے غیر ملکی خبر رساں اداروں کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ جونس کا تعلق برطانیہ کے جنوبی علاقے سے تھا اور انہوں نے اسلام قبول کیا تھا، اور انہیں داعش سے تعلق رکھنے والے خاوند جنید حسین کی 2015 میں ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد برطانوی اخبارات نے گوری بیوہ یا ’وائٹ ویڈو‘ کا نام دیا تھا۔

دی سن نے برطانوی انٹیلی جنس ذرائع، جنہیں امریکی ہم منصب نے بریفنگ دی تھی، کے حوالے سے بتایا کہ جونس اور اس کا بیٹا رواں سال جون میں عراق سے منسلک شام کے سرحدی علاقے میں ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئیں، داعش جنگجوؤں کی جانب سے رقہ کا علاقہ چھوڑنے کے بعد وہ بھی ان کے ساتھ فرار ہوگئیں تھی۔

رپورٹ میں امریکی انٹیلی جنس چیف کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ 100 فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ واقعے میں جونس ہلاک ہوگئی ہیں کیونکہ انہیں مذکورہ مقام سے ان کا ڈی این اے حاصل نہیں ہوسکا لیکن وہ برطانوی خاتون کی ہلاکت کے حوالے سے پُر اعتماد ہیں۔

دی سن کی رپورٹ کے مطابق یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈرون حملے میں ان کا بیٹا جوجو بھی ہلاک ہوا تاہم ڈرون حملے کے وقت اس کی موجودگی کی اطلاع نہیں تھے اور نہ ہی وہ ٹاگٹ تھا۔

رپورٹس کے مطابق حملے میں داعش سے تعلق رکھنے والے متعدد جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔


یہ رپورٹ 12 اکتوبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی