سیکڑوں اشیاء پر 80 فیصد تک درآمدی ڈیوٹی عائد

اپ ڈیٹ 17 اکتوبر 2017

ای میل

اسلام آباد: حکومت نے سیکڑوں اشیاء کی درآمد پر 10 سے 80 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

حکومت کا موقف ہے کہ تجارتی خسارے کو کم کرنے اور درآمدی اشیاء کی حوصلہ شکنی کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے اور اس سے غریب آدمی متاثر نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ درآمدی ڈیوٹی کا اطلاق آج سے ہی ہو جائے گا۔

جن اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ان میں موبائل فونز، کاریں، کھیلوں کا سامان، بچوں کے ڈائپرز، کھانے پینے کی اشیاء اور میک اپ کا سامان شامل ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق موبائل فون کی درآمد پر 250 روپے فی سیٹ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جبکہ ایل ای ڈی اور ایل سی ڈی کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی۔

مزید پڑھیں: پاکستان اپنا تجارتی خسارہ کیسے کم کر سکتا ہے؟

ایک ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں کی درآمد پر 15 فیصد، اسپورٹس گاڑیوں کی درآمد پر 80 فیصد، 1801 سے لے کر 3 ہزار سی سی کی پرانی گاڑیوں کی درآمد پر 60 فیصد، نئی گاڑیوں کی درآمد پر 15 سے 80 فیصد، 2 ہزار سی سی سے زائد اسپورٹس گاڑیوں کی درآمد پر 60 فیصد جبکہ 2 ہزار سی سی سے زائد نئی اسپورٹس کاروں اور جیپوں اور نئی درآمد شدہ گاڑیوں پر بھی 60 سے 80 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

پولٹری کی درآمد پر 10 فیصد جبکہ مچھلی اور مچھلی سے متعلق دیگر اشیاء کی درآمد پر 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

دودھ، کریم، دہی، مکھن، ڈیری اسپریڈ، پنیر اور دیگر اشیاء کی درآمد پر بھی 20 سے 25 فیصد جبکہ شہد، آلو، آم، کینو اور دیگر پھلوں کی درآمد پر بھی 20 سے 25 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، لیموں اور تربوز کی درآمد پر 40 فیصد، ہر قسم کے پھلوں کی درآمد پر 10 سے 50 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوگی جبکہ خشک میوہ جات کی درآمد پر 50 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق گندم اور مکئی کی درآمد پر 60 فیصد، آٹے اور میدے کی درآمد پر 25 فیصد، بیجوں کی درآمد پر 30 فیصد جبکہ چینی اور گڑ کی درآمد پر 40 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 8 ماہ میں 20 ارب ڈالر سے زائد تجارتی خسارہ

سویا ساس، ٹومیٹو کیچ اپ اور ٹومیٹو ساس پر 50 فیصد، منرل واٹر اور آئسکریم کی درآمد پر 20 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

کتے اور بلیوں کی خوراک کی درآمد پر 20 فیصد، سپاری کی درآمد پر 55 فیصد، سگریٹس، سگار پر 20 فیصد جبکہ شیمپو اور پرفیومز سمیت میک اپ کی تمام مصنوعات پر 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق چمڑے اور کپڑے کی مصنوعات کی درآمد پر 10 سے 40 فیصد اور جوتوں کی درآمد پر 15 سے 35 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی۔

ماربل، گرینائٹ، اسکریپ کی درآمد پر 5 سے 15 فیصد، اسٹیل اور لوہے کی مصنوعات پر 30 فیصد جبکہ سینیٹری کے سامان کی درآمد پر 45 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوگی۔

جیولری کی درآمد پر 45 فیصد اور قیمتی پتھروں اور موتی کی درآمد پر 55 فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی۔

پنکھوں، فرج فریزر اور دیگر الیکٹریکل مصنوعات کی درآمد پر 20 سے 40 فیصد، فرنیچر کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔

زراعت میں استعمال ہونے والی ہارویسٹر اور آٹومیٹک مشینوں پر 20 سے 40 فیصد، جنریٹرز کی درآمد پر 10 فیصد، گھڑیوں کی درآمد پر 60 فیصد جبکہ کھیلوں کے سامان پر 30 سے 50 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔