ویسے تو پاسپورٹ بنوانے کے لیے اکثر لمبی قطاروں میں گھنٹوں کی زحمت اٹھانا پڑتی ہے مگر زائد المعیاد ہونے پر بھی یہی مشقت دوبارہ کرنا پڑتی ہے۔

مگر اچھی خبر یہ ہے کہ اب آپ یہ کام گھر بیٹھے بھی کرسکتے ہیں۔

جی ہاں وزارت داخلہ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے ایک نیا ای سروسز پورٹل متعارف کرایا ہے جس سے گھر بیٹھے میشن ریڈ ایبل پاسپورٹ کی تجدید یا ری نیو کرایا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں : پاکستانی پاسپورٹ کی تاریخ اور ارتقاء

تاہم شرط یہ ہے کہ پاسپورٹ کو زائد المعیاد ہوئے سات ماہ سے کم کا عرصہ گزرا ہو یا سات ماہ کے اندر معیاد ختم ہونے والی ہو۔

اس سروس کے لیے ویب سائٹ کا لنک یہ ہے۔

پاسپورٹ ری نیو کرنے کے لیے کیا کچھ چاہئے؟

معاون دستاویزات (کمپیوٹرائز شناختی کارد کی کاپی، پرانے پاسپورٹ کی کاپی پہلے دو صفحات، نابالغوں کے لیے تصدیقی فارم، این او سی، اگر سرکاری ملازم ہوں)۔

اس کی مزید تفصیلات آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔

پانچ ایم بی تک کی تصویر۔

فنگر پرنٹ فارم۔

کریڈٹ/ ڈیبٹ کارڈ آن لائن ادائیگی کے لیے، ری نیو پاسپورٹس کے لیے فیس یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاسپورٹس کے رنگ کیا بتاتے ہیں؟

آن لائن اپلیکشن

اگر تو آپ آن لائن اپلائی کے لیے تیار ہیں تو سب سے پہلے گیٹ اسٹارٹڈ پر کلک کریں اور اپنا اکاﺅنٹ رجسٹر کریں، پاکستان میں مقیم افراد کو ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے رجسٹریشن کوڈ بھیج دیا جائے گا، جبکہ بیرون ملک مقیم افراد کو مطلوبہ کوڈ ای میل کے ذریعے ارسال کیا جائے گا۔

ری نیو پاسپورٹ کے لیے اپلیکشن میں مطلوبہ معلومات فراہم کریں۔

پاسپورٹ ڈیلیوری کے لیے اپنا پتا درج کریں۔

کریڈٹ/ ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے فیس کی ادائیگی کریں۔

مطلوبہ ذاتی معلومات درج کریں۔

موجودہ اور مستقل پتے کا اندراج۔

تصویر اپ لوڈ کریں۔

مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کریں۔

فارم ڈاﺅن لوڈ کرکے چار فنگر پرنٹس کی فراہمی۔

اسکینر کو 600 ڈی پی آئی پر سیٹ کریں، پھر فارم اسکین کرکے اپ لوڈ کریں۔

اپنی درج کردہ معلومات کو دیکھیں، حلف نامے پر سائن کریں اور درخواست جمع کرادیں۔

وزارت کی ویب سائٹ کے مطابق اس پورے طریقہ کار میں آپ کے 16.5 منٹ لگیں گے جو کہ کسی پاسپورٹ آفس میں اس کام کے لیے نکالے جانے والے کئی گھنٹوں سے نمایاں طور پر کم ہیں۔

تبصرے (1) بند ہیں

KHAN Oct 18, 2017 10:20pm
اگر خبر میں آپ اس کی فیس بھی درج کردیتے تو کیا برا تھا، انھوں نے پاکستانیوں کو تجوری سمجھ لیا ہے کہ آن لائن کام فری کرنے کے بجائے شہریوں سے ہزاروں روپے اینٹھے جائیں گے، آخر کیوں ۔۔ امید ہے عمران خان اس پر توجہ دینگے۔ خیرخواہ