اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت دینے سے متعلق حتمی فیصلے پر بروز جمعرات کو اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدرات کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارت نے کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت انصاف یعنی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) میں پٹشین دائر کی تھی جس پر آئی سی جے نے پاکستان کو الزامات کے حق میں جوابات جمع کرانے کے لیے 13 دسمبر 2017 تک کی تاریخ دی تھی۔

جس کے بعد عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس پر باقاعدہ کارروائی کا آغاز فروری یا مارچ میں ہونے کا امکان موجود ہے۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ اٹارنی جنرل اور خارجہ آفس سمیت دیگر اعلیٰ اداروں کے سربراہان وزیراعظم کو کلبھوشن کیس پر بریفنگ دیں گے۔

یہ پڑھیں : کلبھوشن یادیو کون ہے؟

خیال رہے کہ آئی سی جے میں پاکستان کی جانب سے خاور قریشی ابتدائی مرحلے میں کلبھوشن یادیو کیس میں شامل رہے تھے۔

آئی سی جے میں بھارت نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان ویانا کنونشن برائے قونصلر ریلیشنز 1963 کے خلاف ورزی کرتے ہوئے قونصلر کو کلبھوش یادیو سے ملنے کی اجازت نہیں دے رہا۔

بھارت کا کہنا تھا کہ کنونشن جاسوسی کے الزام میں گرفتارشدہ شخص تک رسائی کو محدود کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

18 مئی کو آئی سی جے نے کلبھوشن یادیو کی پھانسی روکنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد دفتر خارجہ نے تمام متعلقہ محکموں کو عالمی عدالت کے فیصلے کا احترام کرنے کی ہدایت دی تھی۔

خیال رہے کہ کلبھوشن یادیو کو مارچ 2016 میں بلوچستان سے بھارتی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا، کلبھوشن نے پاکستان میں دہشتگردی اور جاسوسی کا اعتراف کیا تھا جس کے بعد فوجی عدالت نے انہیں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

اکتوبر میں عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت سے متعلق کیس میں پاکستان نے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کو ایڈہاک جج مقرر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : کلبھوشن کی سزائے موت: بھارت کا عالمی عدالت انصاف سے رابطہ

بین الاقوامی عدالت انصاف کے صدر رونی ابراہم اور پاکستان و بھارت کے وفود کی 8 جون کو نیدرلینڈ میں ہونے والی ملاقات کے بعد اشتر اوصاف نے آئی سی جے کو کلبھوشن یادیو کیس کی سماعتوں سمیت کیس کی کارروائی کے لیے ایڈ ہاک جج کی تعیناتی کے ارادے سے آگاہ کیا۔

5 جولائی کو وزارت خارجہ امور کی جانب سے آئی سی جے رجسٹرار کو آگاہ کیا گیا کہ اشتر اوصاف کیس میں پاکستان کے ایجنٹ کا کردار ادا کریں گے جبکہ خارجہ امور کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد فیصل شریک ایجنٹ کی حیثیت سے کام جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ 'ایجنٹ' کی اصطلاح کا استعمال ایسے اعلیٰ حکومتی عہدے دار کے لیے ہوتا ہے جو پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وفد کی سربراہی کرے اور آئی سی جے میں قانونی ٹیم سے قبل دلائل اور فریم ورک پیش کرے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 7 دسمبر 2017 کو شائع ہوئی