نیتن یاہو کا دورہ بھارت اور پاکستان کو درپیش چیلنجز

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2018

ای میل

ہندوستان کے اپنے چار روزہ حالیہ دورے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجامن نیتن یاہو نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلق ’جنت میں بننے والا تعلق تھا،‘ مگر ہمارے سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے حال ہی میں تہران میں کہا ہے کہ یہ تعلق جہنم میں بننے والا تعلق ہے۔

انہوں نے مسلم دنیا کو خبردار کیا کہ ’امریکا، اسرائیل اور ہندوستان کا گٹھ جوڑ امت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔‘

اگر رضا ربانی تھوڑا کھل کر بات کرتے تو وہ اِس اتحاد میں سعودی عرب کو بھی شامل کرتے۔ اپنے الفاظ اور اعمال سے سعودی عرب نے اسرائیل کی خاموش حمایت جبکہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے تصور کی صرف زبانی حمایت کی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کا فیصلہ قبول کرنے کے لیے ولی عہد اور درحقیقت حکمراں محمد بن سلمان کے ڈالے گئے دباؤ سے یہ واضح ہے کہ ان کی ہمدردیاں کس کے ساتھ ہیں۔

ہندوستان سالوں سے اسرائیل کے ساتھ تجارت کر رہا ہے اور اس کے اس صیہونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی ہیں۔ ہر سال ہزاروں اسرائیلی سیاح ہندوستان جاتے ہیں۔ فی الوقت امریکا اور روس کے بعد اسرائیل ہی ہندوستان کو ہتھیار فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ مگر ہندوستان میں گہرائی تک موجود فلسطین کے حامی نظریات ہونے کی وجہ سے ہندوستان کی سابقہ حکومتوں نے اسرائیل کو خود سے تھوڑا دور ہی رکھا۔

لیکن نیتن یاہو کے گرم جوش استقبال اور ان کے دورے کے خلاف کسی قابلِ ذکر احتجاجی مظاہرے کے نہ ہونے سے یہ واضح ہے کہ ہندوستان میں رائے عامہ میں زبردست تبدیلی آئی ہے اور ظاہر ہے کہ دونوں ممالک کے مفادات آپس میں ملنے لگے ہیں۔ اسرائیل جدید ترین ہتھیار بڑی تعداد میں تیار اور برآمد کرتا ہے۔ گزشتہ سال اس کی ہتھیاروں کی برآمدات ساڑھے 6 ارب ڈالر تک جا پہنچی تھیں۔

یہ پڑھیں: ہندوستان اور اسرائیل گٹھ جوڑ: مگر کس کے خلاف؟

اپنے حالیہ دورے میں نیتن یاہو 50 کروڑ ڈالر کے اینٹی ٹینک میزائل کے ایک ممکنہ معاہدے میں جان ڈالنے میں کامیاب رہے۔ اس سے پہلے اسرائیلی پیشکش اس لیے تعطل کا شکار رہی کیوں کہ ہندوستان میزائل مقامی طور پر تیار کرنے پر غور کر رہا تھا۔ بارانی علاقوں میں کھیتی باڑی کا اسرائیلی تجربہ اور مہارت ہندوستان کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس نے ہندوستانی سیکیورٹی فورسز کو انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کے لیے تربیت دینے کی بھی پیشکش کی ہے۔

جس گٹھ جوڑ کی رضا ربانی نے بات کی، اس میں شمولیت کے ہندوستانی مقاصد تو واضح ہیں، مگر سعودی عرب ظاہر ہے کہ تل ابیب کے ساتھ دوستانہ تعلقات بنا کر امریکا کو خوش کرنا چاہ رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایک کہاوت ہے کہ ’واشنگٹن کا راستہ تل ابیب سے ہو کر گزرتا ہے۔‘

جب اوباما نے ایران کے ساتھ متوازن رویہ اختیار کیا تو انہوں نے سعودی شاہی خاندان کو بھڑکا دیا تھا، اور اپنے پیشرو کی پالیسیوں کو ختم کرنے کی اپنی مہم میں ٹرمپ دوسری انتہا پر چلے گئے ہیں، جہاں سے انہوں نے جرمنی، فرانس، برطانیہ، روس، چین اور اقوامِ متحدہ کی شراکت اور بڑی مشکلوں سے طے پانے والے ایٹمی معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی ہے۔ یہ تو اسرائیل اور سعودی عرب دونوں کے لیے ہی خوش خبری ہے کیوں کہ دونوں ہی امریکا کو ایران کے خلاف ایکشن لیتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

وہ پاکستانی جو ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹوئیٹس کے بعد یہ سوچ کر خوش ہیں کہ چین اور سعودی عرب سے ہمارے قریبی تعلقات ہیں اور وہ ہماری مدد کو آئیں گے، انہیں اٹھ کر کھلی آنکھوں سے حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔ سعودی عرب کی امریکا اور اسرائیل کی حامی پالیسی اسے ہندوستان کے قریب لائے گی۔ ہندوستان کے ہر فائدے کو پاکستان کے نقصان کے طور پر دیکھنے والے پاکستانی منصوبہ سازوں کے نزدیک یہ ایک سانحہ ہوگا اور جہاں چین ہندوستان کی طاقت کو قابو میں رکھنے کے لیے پاکستان کی حمایت کرتا رہے گا، مگر یہ لامحدود حمایت نہیں ہوگی۔ یہ تو یقینی ہے کہ چین کسی اور پاک و ہند تنازعے میں کھنچنا پسند نہیں کریگا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں غیر معمولی فیصلوں کے پیچھے چُھپی اصل کہانی

سفارت کاری کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہوتا ہے کہ دشمن قوتوں کے اتحاد بننے سے روکے جائیں، اور اپنے تحفظ کی خاطر دفاعی اتحاد بنائے جائیں۔ اس پیمانے پر دیکھیں تو ہم شدید ناکام ہوئے ہیں۔ ہم پہلے کبھی بھی اتنے تنہا نہیں ہوئے ہیں۔ ہمارے یک نکاتی کشمیر ایجنڈے کے لیے بین الاقوامی حمایت بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔

اِس کی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ ہندوستان کو اب دنیا بھر میں ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ عالمی معیشت میں ایک اہم مرتبہ تو اسے ویسے ہی حاصل ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کو عمومی طور جہادی دہشتگردی اور نظریات کے ایک غیر ذمہ دار ایکسپورٹر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ 2008ء کے ممبئی حملوں کے منصوبہ ساز سمجھے جانے والے حافظ سعید کا 10 سال بعد بھی آزاد گھومنا اسلام آباد کی دو رخی پالیسی کی مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

چین بھی پاکستان میں چینی انجینیئروں اور مزدوروں کے لیے خطرہ بننے والے انتہاپسند عناصر کو کنٹرول کرنے میں ہماری عدم دلچسپی یا ناکامی سے ناخوش ہے۔ درحقیقت بیجنگ نے بار بار ملک میں سیاسی استحکام کی خواہش کا اظہار کیا ہے کیوں کہ عدم استحکام سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ خطرے میں پڑسکتا ہے۔ اِس صورتحال سے واضح ہے کہ ہمارا 'اچھے بُرے وقتوں کا دوست' اب اپنے اِس دوست کی غیر فعال سیاست پر تشویش کا شکار ہے۔

میں نواز شریف سے زیادہ اتفاق نہیں کرتا، مگر جب انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا چاہیے، تو وہ بالکل صحیح تھے۔ چین اور سعودی عرب اپوزیشن نہیں رکھتے، اور وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ کوئی حکومت کیسے اپنے مخالفین کو جب دل چاہے ملک بند کردینے کے لیے کھلی اجازت دے سکتی ہے۔ یہاں تک کہ امریکا جیسی جمہوریتیں بھی سڑکوں پر لامحدود مظاہروں کی اجازت نہیں دیتیں۔

ایک طرح سے دیکھا جائے تو ہم نے دنیا سے عدم مطابقت رکھنے والی اپنی غیر لچکدار اور ناقابلِ فہم پالیسیوں کی وجہ سے خود اپنے آپ کو تنہا کیا ہے۔ مگر صرف ہمارے سفارت کاروں کو ہی الزام نہیں دینا چاہیے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہماری خارجہ اور دفاعی پالیسیاں تقریباً مکمل طور پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہیں۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلامی فوجی اتحاد کی ویب سائٹ متعارف

ہمارے مبصرین اور سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی امداد کھو دینا کوئی بہت بڑی بات نہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکی ہتھیاروں نے ہمیں وہ تکینیکی برتری دی ہے جو چینی ہتھیار اب بھی نہیں دے سکتے۔ دوسری جانب ہندوستان امریکا، روس اور اسرائیل سے جدید ترین ہتھیار حاصل کر رہا ہے۔

پریشان کن اقتصادی حالت کے باوجود بھی ہم پڑوسی ممالک سے اسلحہ کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش کررہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم زیادہ عرصے تک ہتھیاروں کی دوڑ کا بوجھ نہیں برداشت نہیں کرسکتے لہٰذا جتنی جلدی ایک معقول سفارت کاری عمل میں آئے گی، اتنا ہی اچھا ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 22 جنوری 2018 کو شائع ہوا۔