سپریم کورٹ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی ایل۔این جی کی درآمد میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے دائر درخواست کو سماعت کے لیےمقرر کر دی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 12 فروری سے سماعت کرے گا۔

واضح رہے کہ شیخ رشید نے وزیراعظم کے خلاف دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ حکومت نے ایل این جی معاہدے میں قوانین اور سپریم کورٹ کی ہدایات کو مدنظر نہیں رکھا۔

درخواست میں موقف اختیارکیا گیا کہ غیر قانونی معاہدے سے پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔

شیخ رشید کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ معاہدے کے ذریعے لوٹی ہوئی رقم اور بنائے گئے اثاثے ضبط کیے جائیں اور ایک اہل اور ایمان دار شخص کو چیئر مین اوگرا تعینات کیا جائے جبکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نا اہل قرار دیا جائے۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2017 میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے ایل این جی درآمد کے لیے قطر سے کیا گیا معاہدہ حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'پاک قطر ایل این جی معاہدہ تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے، جس کے ذریعے شاہد خاقان عباسی نے 200 ارب روپے کی کرپشن کی'۔

انھوں نے کہا تھا کہ 'حدیبیہ پیپر ملز چوروں کی ماں ہے تو ایل این جی معاہدہ چوروں کی نانی ہے جبکہ یہ معاہدہ سوئی سدرن کی تباہی کا موجب بنے گا'۔

چند روز بعد ہی سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 'قطر ایل این جی کا سب سے بڑا سپلائر ہے اور ہم نے قطر کے ساتھ ایل این جی کے حوالے سے جتنے بھی معاہدے کیے ان کی دستاویزات ہر فورم پر موجود ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں گارنٹی دیتا ہوں کہ قطر سے جس قیمت پر ہم نے ایل این جی خریدی ہے اس قیمت پر دنیا کا کوئی ملک ایل این جی حاصل نہیں کر سکتا تھا، جس قیمت پر ہم نے ایل این جی حاصل کی دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی'۔