اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ نواز شریف کا بذریعہ موٹر وے لاہورجانے کا فیصلہ پارٹی کی سینئر قیادت کے اجلاس میں ہوا جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی شریک تھے۔

سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار کے ترجمان کے مطابق موٹر وے سے لاہور جانے کا فیصلہ مری میں منعقدہ اجلاس میں ہوا جہاں اکثریت ارکان نے موٹر وے سے لاہور جانے کی رائے دی تھی۔

یہ پڑھیں: 'چوہدری نثار وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے خواہشمند ہیں'

واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے ٹویٹر پر ویڈیو پوسٹ کی گئی تھی جس میں وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو بھری محفل میں نواز شریف سے لاہور کے لیے بذریعہ موٹر وے جانے سے متعلق سوال کرتے دیکھے جا سکتا ہے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ‘اس سیدھے سادھے فیصلے کو ویڈیوکلپ کے ذریعے غلط رنگ دینا بدقسمتی ہے’۔

انھوں نے زور دیا کہ ‘بہتر ہوگا کہ اس شخص کی بھی نشاندہی کی جائے تاکہ غیر ضروری ڈرامائی عنصر زائل ہوجائے’۔

چوہدری نثار نے واضح کیا کہ موٹر وے سے جانے کا فیصلہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا تھا اور فیصلے میں تبدیلی کسی سیاست دان کے مشورہ سے نہیں ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’نواز شریف ۔ چوہدری نثار کے راستے ابھی جدا نہیں ہوئے‘

خیال رہے کہ چند روز قبل چوہدری نثار نے دوٹوک الفاظ میں پارٹی کو پیغام دے دیا تھا کہ وہ مریم نواز یا حمزہ شہباز کے ماتحت کام نہیں کریں گے۔

سابق وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ مجیب الرحمان شامی اور میڈیا کے وفد نے نواز شریف کو جی ٹی روڈ سے جانے کا مشورہ دیا تھا جبکہ نواز شریف نے مجھے شہباز شریف کو قائل کرنے پر زور دیا۔

مزید پڑھیں: چوہدری نثار اور وزیراعظم میں 'دوریاں'

انھوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے میرے رابطہ کرنے پر جی ٹی روڈ سے آمد سے اتفاق کیا اور اجلاس میں ہر انٹرچینچ پر استقبال اور اختتامی استقبال لاہور میں داخلے کے بعد کرنے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔

سابق وزیرداخلہ نے بتایا کہ اجلاس میں جہاز سے روانگی کا مشورہ کسی نے نہیں دیا تھا۔