چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جڑانوالہ میں 7 سالہ بچی مبشرہ سے زیادتی کے بعد قتل کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

یکم اپریل کو جڑانوالہ کے علاقے گلشن عزیز کی رہائشی 7 سالہ بچی دوپہر کو اچانک لاپتہ ہوگئی تھی، جس کے بعد اہلِ خانہ سے اس کی تلاش کا عمل شروع کیا لیکن انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

بعدِ ازاں تقریباً رات 8 بجے بچی کی لاش اس کے گھر کے قریب کھیتوں سے برآمد ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: جڑانوالہ: 7 سالہ بچی ریپ کے بعد قتل، اہلِ خانہ کا احتجاج

ابتدائی طور پر بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا گیا جس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے تصدیق ہوئی۔

بچی کی والدہ نے چیف جسٹس سے اپنی بیٹی کے ریپ اور قتل کا نوٹس لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ان کے خاندان سے تعاون نہیں کر رہی۔

منگل کے روز چیف جسٹس ثاقب نثار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس سے اگلے 48 گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی۔

مزید پڑھیں: پنجاب: 6 سالہ بچی کے ریپ، قتل کا ملزم گرفتار

معصوم بچی کو ریپ کے بعد قتل کرنے کے معاملے پر گزشتہ روز وکلاء برادری نے عدالتوں کا بائیکاٹ کرکے مقتولہ کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے احتجاج کیا۔

جڑانوالہ میں ہونے والے اس احتجاج میں والدین سمیت علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جنہوں نے بچی کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔