کراچی کے علاقے ڈیفنس میں اینٹی کار لفٹنگ سیل (اے سی ایل سی) کے اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان انتظار احمد کے کیس کی تفتیس کرنے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے واقعے میں ملوث تمام 8 پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کردی۔

یاد رہے کہ ملائیشیا میں زیر تعلیم انتظار احمد کو 13 جنوری 2018 کو اس وقت سادہ لباس پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا جب وہ چھٹیوں میں کراچی آئے ہوئے تھے اور اس وقت اپنی گاڑی میں خاتون دوست کے ساتھ موجود تھے۔

جے آئی ٹی نے واقعے کو اے سی ایل سی اہلکاروں کی جانب سے غیر پیشہ ورانہ قدم قرار دیا اور حکام سے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو گلیوں اور سڑکوں میں جامع تلاشی کے لیے قواعد و ضوابط بنانے کی سفارش کی تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'جے آئی ٹی سمجھتی ہے کہ واقعہ اے سی ایل سی کے سادہ لباس اہلکاروں کی جانب سے انتہائی غیرپیشہ ورانہ انداز میں انتظار کی کار کو روکنے کے باعث پیش آیا اور یہ اہلکار پولیس کی کسی نشانی کے بغیر گاڑی میں سوار تھے'۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جے آئی ٹی اس واقعے کے پیچے کسی قسم کے 'خاص' محرکات تک نہیں پہنچ سکی تاہم ' یہ بظاہر سادہ لباس پولیس اہلکاروں کی جانب سے بے رحمی اور غفلت کے باعث ہونے والا قتل ہے'۔

جے آئی ٹی نے سفارش کی ہے کہ آٹھوں اہلکاروں کو انتظار کو بے رحمی سے قتل کرنے اور فائرنگ کے بعد انھیں بچانے کی کوشش نہ کرنے کے جرم کی پاداش میں کارروائی کی جائے۔

رپورٹ میں ایک ہیڈ کانسٹیبل کے حوالے سے نشاندہی کی گئی ہے کہ ان کے نام کو چارج شیٹ کے کالم نمبر 2 میں رکھا جائے کیونکہ جب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تو وہ جائے وقوع پر موجود نہیں تھے۔

جے آئی ٹی نے تمام اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی بھی سفارش کی ہے۔

تفتیشی ٹیم نے تجویز دی ہے کہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ اے ڈی خواجہ کو خود اس وقت کے ایس ایس پی اے سی ایل سی مقدس حیدر اور ڈی ایس پی اے سی ایل سی دیگر افسران کو 'ڈیفنس میں گاڑیوں کی تلاشی کے لیے جاری احکامات پر عمل کروانے میں ناکام ہونے پر' ان کے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔

جے آئی ٹی کا کہنا ہے کہ انتظار کے قتل کے وقت ان کے ساتھ موجود مدیحہ کیانی کا بیان ایڈووکیٹ آصف خدائی کی رہائش گاہ میں لیا گیا جہاں کاظم شاہ نے ان کا بیان 'نشے کی حالت' میں ریکارڈ کروایا جس کے حوالے سے مدیحہ نے اپنے بیان میں اظہار کیا۔

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل شعبہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) ڈاکٹر ثنااللہ عباسی کی سربراہی میں تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی میں رینجرز اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار بھی شامل تھے جنھوں نے نشاندہی کی کہ اے سی ایل سی کی پوری ٹیم سادہ لباس میں تھی جو ایس ایس پی اے سی ایل سی کی جانب سے تحریری طور پر جاری احکامات کا تضاد تھا۔

رپورٹ کے مطابق 'ایس ایس پی کے گن مین پولیس اہلکار بلال اور دانیال چھٹی پر تھے اور ایس ایچ اور اے سی ایل سی انسپکٹر طارق محمود یا ایس ایس پی اے سی ایل سی مقدس حیدر کی ہدایات کے بغیر اپنے طور پر آپریشن میں حصہ لے رہے تھے'۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلال اور دانیال نے گاڑی پر فائر کیا اور ثبوت بتاتے ہیں کہ پولیس کانسٹیبل بلال کی گولی انتظار کو لگی اور وہ جاں بحق ہوئے۔

تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'گاڑی کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ گولیوں کے تین نشانات ہیں اور دائیں طرف دو گولیوں کے نشان ہیں جو سڑک سے لگیں' جبکہ جائے وقوع سے گولیوں کے 18 خول برآمد ہوئے۔

تمام آٹھوں اہلکاروں کے اسلحے کو گولیوں کے 18 خول سمیت فرانزک جائزے کے لیے بھیجا گیا جس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف دو ہتھیار واقعے میں استعمال ہوئے، 12 گولیاں پولیس کانسٹیبل بلال کی جانب سے فائر کی گئیں اور باقی 6 گولیاں پولیس کانسٹیبل دانیال کے ہتھیار سے فائر ہوئیں'۔

واقعے کے بعد پوری ٹیم جائے وقوع سے فرار ہوگئی حالانکہ انھیں وہاں رکنا چاہیے تھا اور متاثرہ شخص کی زندگی کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔

جے آئی ٹی نے نشاندہی کی ہے کہ انتظار کے قتل کے وقت موجود مدیحہ کیانی اور ایس ایس پی مقدس حیدر کے درمیان کسی قسم کے تعلق کا الزام غلط اور بے بنیاد ہوگا۔