اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں پر عائد پابندی سے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت شروع ہونے والے منصوبوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکمراں جماعت نے الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا اور سی پیک کے تحت جاری منصوبوں پر عائد پابندی کی وضاحت طلب کی۔

وزیراعظم کے مشیر خاص برائے قانونی اقدامات بیرسٹر ظفراللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے عائد پابندی کی وجہ سے سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کو نقصان پہنچے گا جو گزشتہ 4 برس سے جاری ہیں جبکہ ان منصوبوں کے اخراجات میں مزید اربوں روپے کا اضافہ ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: سی پیک کے حوالے سے عالمی برادری کو زیادہ اندازے لگانے کی ضرورت نہیں، چین

انہوں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن سے قبل صرف ایک جماعت کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی سی پیک کے تحت منصوبوں پر عائد پابندی کی وضاحت کے لیے ای سی پی سے وضاحت طلب کرنے کے لیے خط لکھ رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت ترقی و منصوبہ بندی ای سی پی حکام کو اس پابندی کی وجہ سے ہونے والے نقصان اور براہِ راست بین الاقوامی سرمایہ کاری کے متاثر ہونے کے حوالے سے آگاہ کرنے کی کوشش کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ‘سی پیک سے گلگت بلتستان کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا‘

دریں اثناء سابق گورنر شاہد حامد کی سربراہی میں کمیٹی نے آئندہ عام انتخابات آئین کی رو کے تحت پُر امن ماحول میں کروانے کی کوششیں شروع کردیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ کی جانب سے کسی پارٹی سربراہ کی اہلیت پر رضا مندی کا اظہار کیا تھا جو حال ہی میں ایوانِ زیریں سے پاس ہوئی تھی، تاہم بعد میں سپریم کورٹ نے اس بل کو منسوخ کردیا تھا جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے پاناما پیپرز کیس کے بعد اپنا موقف تبدیل کرلیا تھا۔

مزید پڑھیں: سی پیک میں زراعت کے منصوبوں کی عدم موجودگی پر وزراء کے تحفظات

شاہد حامد کا کہنا تھا کہ ملکی اداروں کے درمیان اعتماد کی کمی موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا مسئلہ ہے۔