وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے سینیٹ کی 42 بجٹ تجاویز کو منظور کرنے کے بعد قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر سمیٹتے ہوئے کہا ہے کہ نان فائلرز کے لیے جائیداد خریداری کی حد 40 لاکھ سے 50 لاکھ کی جارہی ہے۔

مفتاح اسمعیل نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر سمیٹتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملکی معاشی صورت حال کے مطابق بہترین بجٹ پیش کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں چند برسوں میں کمی ہوئی اور اب خاصی بڑھی ہیں، حکومت نے 12230میگا واٹ بجلی پیدا کی جبکہ گزشتہ حکومت کے دور میں 12،12 گھنٹے بجلی غائب ہوتی تھی۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے قرضوں سے بجلی پیدا کی اور سڑکوں کا جال بچھایا، ہم نے بے نظیر انکم سپورٹ کی رقم کئی گنا بڑھائی۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے سیلز ٹیکس کم کیا، بجلی کے پرانے واجب الادا قرضے ادا کیے جارہے ہیں، ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ کیا ہے۔

مفتاح اسمٰعیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر سال انکم ٹیکس میں ایک فیصد کمی کی جائے گی، نان فائلرز کے لیے جائیداد خریداری کی حد 40 لاکھ سے 50 لاکھ کی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دفاتر میں دیر تک کام کرنے والے سرکاری ملازمین کے لیے 50 فیصد کنونس الاونس بڑھادیا گیا ہے جبکہ لوگوں کے لیے سستا گھر اسکیم شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ پی ایس ڈی پی سے متعلق تجاویز پلاننگ ڈوثزن کو بھیج دی ہیں، سینیٹ کی طرف سے بھیجی گئی 49 میں سے 42 تجاویز کو کلی یا جزوی طورپر منظور کرلیا گیا ہے۔