غزہ: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے نہتے فلسطینیوں کی اموات کی تعداد 62 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 2700 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت میں جاں بحق ہونے والے 60 فلسطینیوں کی نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی کہ اس دوران اسرائیلی فورسز نے ایک مرتبہ پھر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مزید ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق فلسطین میں موجود محکمہ صحت کے مقامی حکام کا کہنا تھا جاں بحق افراد کے جنازوں میں ہزاروں فلسطینیوں نے شرکت کی جبکہ اس دوران فائرنگ سے ایک فلسطینی جاں بحق بھی ہوا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کے قیام کے 70 برس مکمل، یوم نکبہ پر فلسطینیوں کا احتجاج

انہوں نے بتایا کہ پیر کو ہونے والے احتجاج کے دوران اسرائیلی جارحیت سے 60 فلسطینی جاں بحق ہوئے تھے، جس میں ایک 8 ماہ کی بچی بھی شامل تھی جو آنسو گیس سے متاثر ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ پیر کو اسرائیلی سرحد سے ملحقہ غزہ پٹی پر احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے وحشیانہ فائرنگ کردی تھی، یہ احتجاج یروشلم (بیت المقدس) میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کے خلاف کیا جارہا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 6 دسمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد عرب ممالک سمیت اقوام متحدہ کی جانب سے اس اقدام کی سخت مخالفت کی گئی تھی اور اس کے خلاف قرار داد بھی منظور کی گئی تھی۔

اس قرارداد کی منظوری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں امریکا کے خلاف ووٹ دینے والے رکن ممالک کو امداد کم کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس کے علاوہ 6 ہفتوں سے جاری اس احتجاج کا مقصد یہ بھی تھا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کو ان کے وہ علاقے واپس کیے جائیں جو اب اسرائیل کا حصہ ہیں۔

تاہم اسرائیل کی جانب سے واپسی کے کسی بھی حق کو مسترد کردیا تھا کیونکہ اسے اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ یہودیوں کی اکثریت سے محروم ہوجائے گا۔

دوسری جانب امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی اور اس کے افتتاح کے لیے خاص طور پر وہ دن مخصوص کیا گیا تھا، جس دن اسرائیل کے قیام کو 70 برس مکمل ہورہے تھے اور اس تقریب میں شرکت کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ خصوصی طور پر اپنے خاوند جیرڈ کشنر کے ہمراہ اسرائیل پہنچیں تھیں۔

خیال رہے کہ 15 مئی 1948 کو اسرائیل کے وجود میں آنے پر فلسطینی عوام اس دن یوم نکبہ کے طور پر مناتے ہیں کیونکہ 1948 کی جنگ کے نتیجے میں اس دن 7 لاکھ فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا تھا۔

تاہم پیر کو 60 فلسطینیوں کی اموات بھی پر عزم فلسطینیوں کے حوصلے پست نہیں کرسکی تھیں اور انہوں نے یوم نکبہ کو منایا تھا اور اس روز فلسطین میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا تھا۔

احتجاج کے دوران ہونے والی اموات

6 ہفتوں سے جاری اس احتجاج کے بارے میں فلسیطینی طبی حکام کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے اب تک 106 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ 11 ہزار سے زائد زخمی ہیں، جن میں 3 ہزار 500 ایسے ہیں، جنہیں براہ راست گولی لگی ہے جبکہ اس عرصے کے دوران کسی بھی اسرائیلی کی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی برادری کو امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی پر تحفظات

فلسطینی رہنماؤں کی جانب سے پیر کو ہونے والے واقعے کو فلسطینیوں کا قتل عام قرار دیا گیا تھا جبکہ عالمی برادری کی جانب سے بھی مذمت اور تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

تاہم اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے سرحد پر اپنے دفاع کے لیے سب کچھ کیا جبکہ اس کے اتحادی امریکا کی جانب سے بھی یہی موقف اپنایا گیا اور کہا گیا کہ تشدد کو بڑھانے میں اسلامی گروپ حماس کا ہاتھ ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ پیر کو جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں میں 24 دہشتگرد تھے جبکہ باقی دیگر حماس کے سرگرم کارکن تھے۔