شمالی کوریا نے خبر دار کیا ہے کہ اگر امریکا نے یکطرفہ طور پر پیانگ یانگ کو جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے پر مجبور کیا تو آئندہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو منسوخ کردیا جائے گا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شمالی کوریا نے امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں میکس تھنڈر کی وجہ سے 16 مئی کو سیول کے ساتھ اعلیٰ سطحی بات چیت کے دور کو منسوخ کردیا تھا۔

شمالی کوریا نے میکس تھنڈر کو بدعنوانی پر مشتمل اشتعال انگیز فوجی مشقیں قرار دیا تھا۔

پیانگ یانگ کی جانب سے کہا گیا کہ اگر امریکا نے یکطرفہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں کو ختم کرنے کے لیے مجبور کیا تو شمالی کوریا کسی بھی طرح کی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں: جنوبی کوریا: جوہری تنازع ختم کرنے کیلئے اُن کی اِن سے تاریخی ملاقات

شمالی کوریا کے حکام نے مزید کہا کہ آئندہ ماہ سنگا پور میں امریکا کے ساتھ ہونے والی سربراہی کانفرنس میں شرکت کرنے کے حوالے سے پیانگ یانگ نظر ثانی کر سکتا ہے۔

ادھر واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ اس اجلاس کے لیے مثبت ہیں، اور یہ 12 جون کو ہی سنگاپور میں منعقد ہوگا، تاہم امریکا کے اسٹیٹ دپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں شمالی کوریا کی جانب سے کوئی نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا۔

انہوں نے شمالی کوریا کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کوریا اور امریکی افواج کی جنگی مشقیں اشتعال انگیز نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ آئندہ ماہ جون میں امریکا اور شمالی کوریا کے سربراہان کے درمیان تاریخی ملاقات متوقع ہے، جس میں امکان ہے کہ پیانگ یانگ کے جوہری ہتھیار ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: حالتِ جنگ کے باوجود کوریائی سربراہان امن قائم کرنے پر متفق

واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سپریم رہنما کِم جونگ اُن سے پہلی تاریخی ملاقات کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

یاد رہے کہ 27 اپریل کو شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن ڈیمار کیشن لائن عبور کرکے پہلی مرتبہ جنوبی کوریا پہنچے تھے جہاں انہوں نے شمالی و جنوبی کوریا کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

بعدِ ازاں 29 اپریل کو جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے دعویٰ کیا تھا کہ رواں برس مئی میں شمالی کوریا کی جوہری ہتھیاروں کے تجربات کرنے کی سائٹ بند ہوجائے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا نے رواں ماہ کے آخر میں بین الااقوامی میڈیا کی موجودگی میں اپنی جوہری تنصبات کو تباہ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔