ڈونلڈ ٹرمپ، کم جونگ اُن کے درمیان تاریخی ملاقات طے

09 مارچ 2018

ای میل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سپریم رہنما کِم جونگ اُن کے سے پہلی تاریخی ملاقات کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔

اس پیشرفت کو دونوں ممالک کے درمیان لاتعلقی ختم کرنے کے حوالے سے اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے سامنے کھڑے ہو کر جنوبی کوریا کے مشیر قومی سلامتی چُنگ یو یونگ نے ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان پہلی ملاقات کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات مئی کے آخر میں ہوگی۔

چُنگ یو یونگ حال ہی میں پیانگ یانگ سے لوٹے ہیں جہاں انہوں نے کم جونگ اُن سے ملاقات کی اور ان کے مطابق ’شمالی کوریا کے رہنما نے امریکی صدر سے جلد از جلد ملاقات کی آرزو کا اظہار کیا۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیشرفت کو پیانگ یانگ کو اس کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام ختم کرنے پر قائل کرنے کے لیے ’بہترین‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے شمالی کوریا کودہشت گردی کی معاون ریاست قرار دے دیا

انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ’ملاقات طے ہوگئی ہے اور کم جونگ اُن نے جنوبی کاریا کے نمائندوں سے جوہری ہتھیاروں کے تخفیف کی بات کی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس عرصے میں شمالی کوریا کوئی میزائل تجربہ بھی نہیں کرے گا، یہ ایک اہم پیشرفت ہے تاہم معاہدہ ہونے تک پابندیاں عائد رہیں گی۔‘

جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے اس پیشرفت کو ’معجزہ‘ قرار دیا۔

جنوبی کوریا میں ’سرمائی اولمپکس‘ کے دوران پیانگ یانگ نے اپنا وفد بھی بھیجا تھا، جہاں دونوں ممالک کے مندوبین کے درمیان ملاقات بھی ہوئی، جسے سیئول نے ’امن گیمز‘ قرار دیا اور دونوں ممالک نے ایک ہی پرچم تلے مارچ کیا۔

مزید پڑھیں: امریکا کا شمالی کوریا سے مذاکرات کیلئے آمادگی کا اظہار

امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان یہ اہم پیشرفت واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان انتہائی کشیدگی کے بعد سامنے آئی، جس نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا ماحول پیدا کردیا تھا۔

چند ماہ قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے کِم جونگ اُن کے قد اور وزن کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ’چھوٹا راکٹ مین‘ قرار دیا، جس کے جواب میں شمالی کوریا کے رہنما نے امریکی صدر کو ’پاگل‘ اور ’احمق‘ قرار کہا تھا۔