پلوٹو پر ایک سادہ سے مشن کی کہانی 'چیزنگ نیو ہوریزن'

23 مئ 2018

ای میل

یہ کتاب پلوٹو جیسے دیگر چھوٹے سیاروں کی تلاش میں انتہائی مدد گار ثابت ہوگی—۔
یہ کتاب پلوٹو جیسے دیگر چھوٹے سیاروں کی تلاش میں انتہائی مدد گار ثابت ہوگی—۔

دنیا بھر سے علم فلکیات کے شیدائیوں کے لیئے 20 اگست 1977 کا دن غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔

اس روز "وائجر ٹو " نامی سپیس پروب کو اس ٹراجیکٹری پر روانہ کیا گیا جس سے اسے مشتری، زحل ، اس کے چاند "ٹائٹن"، یورینس اور نیپچون تک رسائی حاصل کرنا تھی۔

اس کے سترہ دن بعد پانچ ستمبر 1977 کو "وائجر ون" کو خلا میں بھیجا گیا جس کی مخصوص ٹراجیکٹری ابتدا میں مشتری اور زحل تک محدود تھی، مگر بعد میں تین دفعہ اس میں توسیع کی گئی۔

ابتدائی فیز میں دونوں سپیس شپ کو اپنی طے شدہ ٹراجیکٹری سے گزرتے ہوئے متعلقہ سیاروں کی تصاویر اور ڈیٹا فراہم کرنا تھا۔ جس کی تکمیل کے بعد دوسرا فیز شروع ہوا اور اسے "ہیلیو سفیئر" کا نام دیا گیا، یہ سورج کے گرد غبارے یا بلبلے نما خلائی علاقے کو کہا جاتا ہے جو آگے پلوٹو تک پھیلا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: نئے آفاق کی تلاش میں خلائی جہاز پلوٹو جا پہنچا

وائجر مشن کی کامیابی کے ساتھ ہی سائنسدانوں اور ماہرین فلکیات نے ایسے مشن کے متعلق منصوبہ بندی شروع کردی تھی جس کے ذریعے پلوٹو اور کیوپر بیلٹ پر واقع فلکیاتی اجسام کی کھوج لگائی جا سکے۔ ان سائندانوں میں 'ایلن سٹرن' کا نام سر فہرست ہے جو فی الوقت ناسا کے پلوٹو سسٹم اور کیوپر بیلٹ ایکسپلوریشن مشن میں پرنسپل انویسٹی گیٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ناسا کے دیگر 29 منصوبوں کا بھی حصہ ہیں جو ہمارے نظام شمسی کے دیگر سیاروں سے متعلق ہیں۔

ایلن سٹرن نے 1989 میں پلوٹو کی جانب ایک سپیس پروب بھیجنے کا آئیڈیا پیش کیا تھا، اس کے بعد تقریباً پندرہ سال تک وہ اپنی ٹیم کے ساتھ ناسا کے آفیشلز کو اس منصوبے کی اہمیت پر قائل کرتے رہے۔ بلا آخر ا نکی کئی عشروں کی کوششیں رنگ لائیں اور مئی 2015 میں 'نیو ہوریزن' پروب کو پلوٹو کی جانب روانہ کیا گیا تو ساری دنیا اس مشن کے حوالے سے غیر معمولی تجسس میں مبتلا تھی۔ اس پروب نے پلوٹو کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کی اس قدر واضح تصاویر اور معلومات فراہم کیں جو آج تک کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں ہو سکیں۔ پلوٹو کو کچھ عرصے پہلے تک نواں سیارہ سمجھا جاتا تھا مگر درحقیقت یہ ڈوارف پلینٹ اپنے اندر ایک انوکھی دنیا سموئے ہوئے ہے۔ جہاں کی ناصرف سطح متغیر ہے بلکہ برف کے آتش فشاں (آئسی وولکانو) بھی ہیں اور نائٹروجن کی برف کے تہوں کی بہتات کے باعث اس کا ماحول بھی شدید حبس ذدہ ہے۔

ایلن سٹرن اور انکی ٹیم کے مطابق نیو ہوریزن سپیس کرافٹ میں ابھی اتنا ایندھن اور طاقت موجود ہے کہ یہ کئی عشروں تک اپنا سفر بغیر کسی تکنیکی رکاوٹ کے جاری رکھ سکتی ہے۔ فی الوقت یہ مشن ہائبرنیشن پیریڈ پر ہے اور اگلے سال کی ابتدا تک یہ کرافٹ کیوپر بیلٹ پر واقع اہم فلکیاتی اجسام تک پہنچ چکی ہوگی ان میں سائنسدانوں کی خصوصی توجہ کا مرکز 'الٹیما تھولا ' نامی خاص اجسام ہیں جنہیں پلوٹو جیسے چھوٹے سیاروں کی تشکیل میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایلن سٹرن کی ٹیم 'یورپا کلپر' جیسے کچھ اور مشنز بھی ڈیزائن کر رہی ہے جن کے ذریعے نظام شمسی کے بارے میں اتنی معلومات حاصل ہونے کا امکان ہے جو ہبل اور 2019 میں لانچ کی جانے والی جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے بھی ممکن نہیں ہیں۔

یکم مئی 2018 کو کئی عشروں پر مشتمل نیو ہوریزن مشن پر لکھی گئی ایک کتاب 'چیزنگ نیو ہوریزن' منظر عام پر آئی جسے ایلن سٹرن نے اپنے ساتھی مصنف ڈیوڈ گرن سپون کے ساتھ مل کر تحریر کیا ہے۔ ڈیوڈ گرن سپون ایک ماہر فلکیاتی طبیعات اور ایوارڈ یافتہ مصنف ہیں اور اس کے ساتھ ناسا کے کئی اہم سپیس مشنز میں ایڈوائزر کی حیثیت سے ذمہ داریاں بھی سر انجام دے رہے ہیں۔

اس کتاب کو 2017 میں شائع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا مگر پبلشر کے اصرار پر اسے 600 صفحات سے مختصر کر کے محض 300 صفحات کر دیا گیا تھا۔ اس کا نصف حصہ ان مصائب و مشکلات کا احاطہ کرتا ہے جس سے ایلن سٹرن اور ان کی ٹیم کو اس دوران گزرنا پڑا۔ جسے کتاب میں 'پلوٹو انڈر گراؤنڈ' کا نام دیا گیا ہے۔ ان مشکلات میں سر فہرست امریکی کانگریس کی جانب سے اربوں ڈالر کے بجٹ کی منظوری تھی کیونکہ ناسا کے آفیشلز مارس سمیت دیگر مشنز کو اہمیت دینے پر مصر تھے۔ کتاب میں درج تفصیلات کے مطابق اس مشن کا آغاز 1989 میں امریکی جیو فزکس یونین کی میٹنگ سے ہوا جس میں ایک پورا سیشن پلوٹو سے متعلق رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد اسکی ابتدائی پلاننگ شروع کی گئی مگر 2015 میں نیو ہوریزن کی لانچنگ تک متعدد دفعہ یہ مشن ملتوی ہوا، یہاں تک کے 90 کے عشرے میں کئی بار اس کی منسوخی کی تلوار بھی ایلن سٹرن اور ان کی ٹیم کے سر پر منڈلاتی رہی۔

ایلن اور ڈیوڈ گرن سپون کے مطابق کتاب کے نصف حصے میں ان مشکلات کا ذکر کرنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ عوام جان سکیں کہ بظاہر ایک سادہ سے مشن میں انہیں کتنے زیادہ مسائل اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علا وہ یہ مستقبل میں مارس اور جیوپیٹر مشنز کی پلاننگ کرنے والی ناسا کی ٹیموں کے لیئے بھی بہت مددگار ثابت ہوگی کیونکہ زیادہ تر منصوبوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بڑے بجٹ کی منظوری رہا ہے۔ ایلن کے مطابق اگر امریکہ میں دستیاب کاروں کی قیمتیں کسی طرح 25 فیصد کم کردی جائیں تو یقینا ٹرانسپورٹ میں بڑی تبدیلیاں واقع ہوں گی۔ بلکل اسی طرح اگر سپیس کرافٹ پر آنے والی لاگت کو کسی طور کنٹرول کر لیا جائے تو نا صرف خلا کا سفر آسان ہوگا بلکہ یہ ایسٹرو فزکس میں ایک انقلاب برپا کرنے کا سبب بھی بنے گا اور کیوپر بیلٹ سے آگے نئی کائناتوں کو کھوجنا ممکن ہوجائیگا۔

یہ بھی پڑھیں: نظام شمسی کے نئے سیارے کے شواہد دریافت

ایلن سٹرن اور ڈیوڈ گرن سپون کے مطابق 'چیزنگ نیو ہوریزن' کتاب لکھنے کا آئیڈیا انہیں اچانک نہیں آیا تھا بلکہ اس کے لیئے انہوں نے سینکڑوں افراد سے انٹرویو اور ملاقاتیں کیں تاکہ اندازہ کر سکیں کہ عام افراد نیو ہوریزن مشن اور پلوٹو کی تفصیلات جاننے میں کتنی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس سیارے کے بارے میں سائنسدان طویل عرصے تک ابہام کا شکار رہے ہیں اور متعدد دفعہ اسے نظام شمسی کے نوے سیارے کی حیثیت دیکر حذف کیا جاچکا ہے ۔ مگر درحقیقت شمالی امریکہ جتنے رقبے پر مشتمل یہ ڈوارف پلینٹ جغرافیہ اور اندرونی بے حد ایکٹو سطح کے باعث کسی طور بھی مریخ سے کم اہمیت نہیں رکھتا جو جسامت میں اس سے بہت بڑا ہے۔ پلوٹو کے بارے میں ٹیکسٹ بک میں ابھی تک یہی درج ہے کہ اسے تشکیل ہوئے 4 بلین سال ہو چکے ہیں۔ مگر نیو ہوریزن سے حاصل شدہ معلومات سے سائنسدانوں کو اندازہ ہوا کہ در حقیقت پلوٹو کی سطح اس قدر ایکٹو ہے کہ اس کی تشکیل کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی کہنا ممکن نہیں ہے ۔اس کے مرکز میں ایک گلیشیئر ہے جس میں کوئی کریٹر موجود نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس گلیشئر کو بنے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ لا محالہ پلوٹو کی سطح میں بننے اور ٹوٹنے کے تیز عوامل مسلسل جاری رہتے ہیں جس کے باعث یہاں کریٹرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس کتاب میں پلوٹو کے جغرافیہ سے متعلق ایسی ہی انتہائی اہم معلومات شامل کی گئی ہیں جو ابھی تک ٹیکسٹ بکس میں شامل نہیں ہیں۔ لہذاٰ فلکیات کے شائقین خصوصاً دنیا بھر سے ایسٹر فزکس کے طلباء طالبات کے لیئے چیزنگ نیو ہوریزن ایک دلچسپ اور غیر معمولی اہمیت کی کتاب ثابت ہوگی۔ یہ کتاب یقیناً مستقبل میں دریافت ہونے والے پلوٹو جیسے دیگر چھوٹے (بونے) سیاروں کی تلاش اور ان کی حقیقت سمجھنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوگی۔