روم: اٹلی کے وزیر خارجہ ’اینجلینو الفانو‘ نے یہ اعلان کیا ہے کہ زبردستی پاکستان لے جائی جانے والی فرح نامی خاتون بخیروعافیت اٹلی واپس پہنچ گئیں ہیں۔

مذکورہ خاتون کے اپنے اطالوی مرد دوست کے ساتھ گہرے مراسم تھے جس کی نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی تھیں۔

جس پر خاتون کے اہل خانہ ان کی مرضی کے خلاف اسقاط حمل کروانے کے لیے انہیں پاکستان لے آئے تھے۔

واضح رہے ثنا چیمہ کے قتل کے بعد اٹلی میں فرح کے معاملے کو بہت اہمیت دی جارہی تھی، ثنا چیمہ پاکستانی نژاد اطالوی خاتون تھیں جنہیں پولیس کے مطابق گھر والوں کی پسند سے شادی سے انکار کرنے پر اہل خانہ نے قتل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی نژاد اطالوی لڑکی کا غیرت کے نام پر قتل، مقدمہ درج

خیال رہے 19 سالہ فرح کے پاس اطالوی شہریت نہیں تھی تاہم ان کے پاس رہائشی اجازت نامہ ہے، اس کے باوجود جب اطالوی حکام کے علم میں یہ بات آئی کہ فرح کو دھوکے سے پاکستان لے جا کر اسقاط حمل کے لیے مجبور کیا گیا تو اٹلی کے وزیر خارجہ ’اینجلینو الفانو‘ نے اسلام آباد میں موجود اطالوی سفارت خانے کو متحرک کردیا۔

۔

اس حوالے سے اطالوی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اطالوی وزیر خارجہ کا بیان شائع کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ فرح بخیر و عافیت اٹلی واپس پہنچ گئیں ہیں، ساتھ ہی انہوں نے فرح کو لاہور میں ان کے اہل خانہ کے پاس سے نکال کر اسلام آباد میں اطالوی سفارت خانے پہنچانے پر پاکستانی حکام کا بھی شکریہ ادا کیا۔

اس ضمن میں وزیر خارجہ اینجلینو الفانو نے کہا تھا کہ اٹلی نے مرد و خواتین کے یکساں بنیادی حقوق اور انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے فرح کے دفاع میں اپنا کردار ادا کیا۔

اطالوی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق فرح کسی طرح اپنے تحریری پیغامات اٹلی میں موجود اپنے دوست تک پہچانے میں کامیاب ہوگئیں تھی، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے والدین، بھائی کی شادی کا جھانسہ دے کر انہیں پاکستان لائے اور یہاں لا کر اسقاط حمل کے لیے ان پر دباؤ ڈالا، اپنے پیغامات میں انہوں نے لکھا کہ میری زندگی کو خطرہ ہے۔

خیال رہے فرح جس پاسپورٹ پر پاکستان آئی تھیں اسے ان کے اہل خانہ نے ضائع کردیا تھا، جس کے بعد اطالوی سفارت خانے نے ان کے پاکستانی پاسپورٹ کا بندوبست کیا اور اٹلی واپسی کے لیے انہیں فوری طور پر ویزا جاری کیا۔

مزید پڑھیں: پولیس نے ثنا چیمہ کی قبر کشائی کر کے نمونے حاصل کر لیے

رواں سال مئی میں رونما ہونے والے ثنا چیمہ قتل کے باعث فرح کے معاملے کو اٹلی میں بہت اہمیت دی جارہی تھی، اس ضمن میں تمام اطالوی سیاستدانوں کی جانب سے فرح کے لیے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

اس سلسلے میں اٹلی کے سماجی خدمات کے سرکاری ادارے کو فرح کی جانب سے پہلے بھی والد کے خراب رویے کی شکایات موصول ہوئیں تھی، تاہم اب ان کی جانب سے اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور ان کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔

اسی حوالے سے اٹلی کی بائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والی خاتون سیاستدان ’لارا بولدرینی‘ نے فرح کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر خراج تحسین پیش کیا، اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ’فرح کے معاملے سے یہ بات سامنے آئی کہ جب کوئی خاتون اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہے تو وہ تنہا نہیں ہوتی‘۔

جبکہ اس معاملے پر دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والی سیاستدان جیارجیا میلونی کا کہنا تھا کہ جو لوگ اٹلی میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ اب فرح کو اطالوی شہریت دیئے جانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 25 مئی 2018 کو شائع ہوئی

تبصرے (0) بند ہیں