مسلم لیگ کی انتخابی مہم کا کراچی سے آغاز،دعوے اور وعدے . . .

اپ ڈیٹ 30 جون 2018

ای میل

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں تبدیلی کے ساتھ چند اہم تبدیلیاں بھی واضع نظر آنے لگی ہیں اور اس کا اظہار مسلم لیگ (ن) کی جانب سے الیکشن 2018ء کی انتخابی مہم کے نکتہ آغاز سے بھی ہورہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اب شہباز شریف کی زیرِ قیادت خود کو پنجاب اور جی ٹی روڈ سے نکال کر ملک بھر خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہر میں منظم کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف نے کراچی سے نہ صرف الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کا علامتی آغاز مزار قائد اعظم پر حاضری اور اپنے حلقہ انتخاب این اے 249 کے انتخابی جلسے سے خطاب کرکے کردیا ہے۔

اس حوالے سے شہباز شریف نے نہ صرف یہ عندیہ دیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آئندہ سندھ اور خصوصاً سندھ کے شہری علاقوں میں موجود سیاسی خلاء کو پر کرنے کی کوشش کرے گی بلکہ کراچی کی ذمہ داری اپنے سر لے گی۔

کراچی شہر کے سیاسی میدان میں گزشتہ تقریباً 30 سال سے ایک ہی پارٹی ایم کیو ایم کا راج قائم رہا، 1988ء سے لے کر 2008ء کے انتخابات تک وفاقی اور صوبائی حکومت کے قیام کے لیے کراچی کی نشستیں اہمیت کی حامل رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ماضی میں کئی سیاسی جماعتوں نے ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد قائم کیے۔

بے نظیر بھٹو، نواز شریف، چوہدری برادران اور آصف علی زرداری سمیت کئی اہم سیاسی رہنما ایم کیو ایم کے مرکز پر حمایت اور حکومت سازی کی خاطر حاضر ہوتے رہے ہیں۔ مگر سال 2013ء کے انتخابات میں یہ عمل تبدیل ہوگیا اور پہلی مرتبہ وفاق اور صوبے میں حکومت سازی کے لیے ایم کیو ایم کی حمایت کی ضرورت نہیں رہی، جبکہ سیاسی طور پر بکھر جانے کے بعد آئندہ انتخابات میں ایم کیو ایم کراچی شہر میں اپنی نشستوں کو برقرار رکھتی نظر نہیں آتی ہے۔

ایسے ماحول میں کراچی میں ایک بڑا سیاسی خلاء پیدا ہوگیا ہے۔ پیپلز پارٹی، تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ (ن) اس سیاسی خلاء کو پر کرنے کے لیے عوام اور سیاسی ورکرز کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوئی مربوط اور سنجیدہ کوشش نہیں کر رہے، ایسے میں شہباز شریف کا کراچی شہر سے انتخاب لڑنا اور اپنی انتخابی مہم کا کراچی سے آغا ز کرنا ایک اچھا سیاسی فیصلہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

پڑھیے: شہباز شریف کراچی کے 3 حلقوں سے امیدوار ہوں گے

انتخابی مہم کے سلسلے میں شہباز شریف نے چند روز قبل کراچی کا دورہ کیا، مسلم لیگ (ن) کی اس انتخابی مہم کی کوریج کے دوران شہباز شریف کو متعدد مرتبہ سننے کا موقع ملا تو یہ اندازہ ہوا کہ وہ اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے قدرے مختلف انداز گفتگو اور رویہ رکھتے ہیں۔ نواز شریف کی گفتگو میں طنز اور ہلکے پھلکے انداز میں مزاح شامل ہوتا ہے، وہ اپنے لطیفوں اور چٹکلوں کے ذریعے محفل کو زعفران زار بنا دیتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں شبہاز شریف دو ٹوک اور ٹو دی پوائنٹ گفتگو کرنے کے عادی ہیں۔ شہباز شریف گفتگو کو ایک نکتے پر مرکوز رکھتے ہیں اور اس سے دھیان ہٹنے نہیں دیتے ہیں۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران شہباز شریف نے اپنی مجموعی پالیسیوں کا اعلان کرنے کے ساتھ کراچی شہر کے حوالے سے 4 بڑے وعدے بھی کیے ہیں۔ شہباز شریف نے یہ وعدے صوبہء پنجاب اور خصوصاً شہر لاہور میں ہونے والی ترقی، میٹروبس، اورینج لائن ٹرین منصوبے، ٹیکنیکل یورنیورسٹی کے قیام، بجلی کے پیداواری کارخانوں اور دیگر انفرااسٹرکچر منصوبوں کی تعمیر اور بہتری کے اپنے ٹریک ریکارڈ کی بنیاد پر کیے ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وہ کراچی شہر کو ایشیا کا پیرس بنائیں گے، اس کے ساتھ ہی وہ یہ بات بھی کہتے ہیں کہ جب یہ بات انہوں نے 1997ء میں لاہور کو پیرس بنانے کے لیے کی تھی تو مذاق اڑایا گیا مگر اب لاہور میں ترقی دیکھی جاسکتی ہے۔

شہباز شریف کی گفتگو سے یہ محسوس ہوا کہ جیسے ایک سیاسی رہنما کی جانب سے محض سیاسی تقریر نہیں کی گئی بلکہ کراچی شہر کے مسائل سے متعلق بھرپور بریفنگ دی گئی ہے۔ یوں لگا کہ جیسے وہ کراچی کے سلگتے ہوئے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اپنی تقاریر میں شہباز شریف نے کراچی میں امن قائم کرنے کا سہرا نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے سر باندھتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ کراچی شہر کو اس کا جائز حق ضرور دلوائیں گے اور اس مقصد کے لیے وفاقی بجٹ سے کراچی شہر کے منصوبوں کے لیے رقم مختص کریں گے۔

یہاں انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ کراچی کی ترقی کے لیے صوبے اور شہر میں جس کی بھی حکومت ہو، وفاق ان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ اس سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا ان انتخابات میں ہدف سندھ میں حکومت سازی نہیں بلکہ ان کا پورا دھیان وفاق اور پنجاب میں حکومت دوبارہ قائم کرنا ہے۔

شہباز شریف نے کراچی کے 4 اہم مسائل کو حل کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  • سب سے پہلے 6 ماہ کے اندر اندر کراچی شہر کے کچرے کو اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا نظام متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ شہر میں صفائی کی حالت کو بحال کیا جائے گا، اس کے علاوہ شہر میں مربوط ٹرانسپورٹ کا نظام قائم کیا جائے گا۔

  • کراچی میں پانی کے مسئلے کے حوالے سے بھی شہباز شریف بڑا دعوی کر گئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں 3 سال کے اندر اندر ہر گھر میں پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا اور شہر میں موجود ٹینکر مافیا سے عوام کی جان چھڑائی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے سمندر کے پانی کو قابل استعمال بنانے کے پلانٹس لگائے جائیں گے۔ بلاشبہ یہ دعوی بہت بڑا اور کراچی کے شہریوں کے لیے اہم بھی ہے اور ان کی ضرورت بھی۔

  • ٹرانسپورٹ کے لیے مسلم لیگ (ن) کے صدر کا کہنا تھا کہ میٹروبس اور اورینج لائن ٹرین پر پہلے کراچی شہر کا حق تھا اور یہ منصوبے پہلے کراچی شہر میں بنانا چاہیے تھے مگر اب وفاق ان منصوبوں کو کراچی شہر میں بنائے گا۔ کراچی میں ٹریفک جام کی وجہ سے عوام کا قیمتی وقت سڑکوں پر ضائع ہوجاتا ہے، نہ بچے بروقت تعلیمی اداروں کو پہنچ پاتے ہیں اور نہ مریض ہسپتال اور نہ ہی محنت کش روز گار پر۔

  • شہباز شریف کا چوتھا وعدہ یہ ہے کہ شہر میں انفرااسٹرکچر مثلاً فلائی اوورز، انڈر پاسز جیسے دیگر اہم ترقیاتی منصوبوں کو تعمیر کیا جائے گا۔

یہ تو تھے شہباز شریف کے 4 وعدے جو انہوں نے کراچی کے شہریوں سے خصوصی طور پر کیے مگر اس کے ساتھ انہوں نے ملک کے بڑے شہروں میں فنی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ٹیکنیکل یورنیورسٹیز کے قیام کا بھی وعدہ کیا۔وفاقی ایوان ہائے تجارت وصنعت (ایف پی سی سی آئی) کی تقریب میں ان کا خطاب خاصی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس وقت مختلف سیاسی وابستگی رکھنے والے اور انتخابات میں ایک دوسرے کے مد مقابل افراد بھی ایک میز پر بیٹھے تھے۔

پڑھیے: کراچی کو لاہور، سندھ کو پنجاب کی طرح ترقی یافتہ بناؤں گا، شہباز شریف

شہبازشریف کو دعوت دینے والے اور ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلور کا تعلق خیبر پختونخوا کے بڑے سیاسی بلور خاندان سے تعلق ہے۔ جبکہ اسی میز پر جہاں این اے 244 سے مسلم لیگ کے امیدوار مفتاح اسماعیل تھے وہیں انہی کے مدمقابل اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر زاہد سعید بھی موجود تھے۔

اس تقریب میں شہباز شریف کو مسلم لیگ کی سابقہ حکومت کے حوالے سے سخت سوالات کا سامنہ کرنا پڑا۔ غضنفر بلور نے گزشتہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور برآمدکاروں کے ریفنڈ نہ دینے کا شکوہ کیا۔ زاہد سعید نے مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو کم ظاہر کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ اس سے نہ صرف کراچی کو قومی اسمبلی میں 5 نشستوں کے خسارے کا سامنا ہوا ہے بلکہ کراچی کو مستقبل میں وسائل کی تقسیم میں بھی ناانصافی ہوگی۔

اس سوال پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں سابق وزیر اعلیٰ سندھ نے یہ معاملہ اٹھایا تھا جس پر انہوں نے بھی وزیر اعلیٰ سندھ کے مؤقف کی تائید کی تھی اور اب بعض مخصوص علاقوں میں دوبارہ مردم شماری کی جائے گی اور ان کے نتائج کی روشنی میں ضرورت ہوئی تو کراچی میں دوبارہ مردم شماری کی جائے گی۔

اس کے علاوہ شہباز شریف کو پانی کے نئے ذخائر بنانے میں ناکامی پر بھی سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا جس پر انہوں نے کہا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے زمین کی خریداری مکمل کرلی گئی ہے۔ حکومت ملتے ہی پہلے دن سے دیامیر بھاشا ڈیم پر کام کا آغاز کردیا جائے گا۔ 5 سال میں ڈیم تو مکمل نہیں ہوگا۔ مگر اس پر 80 فی صد تک کام مکمل کرلیا جائے گا۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے انتخابی مہم کا کراچی سے آغاز اس بات کا عندیہ ہے کہ کراچی شہر میں موجود سیاسی خلاء میں اپنی جگہ بنانے کے لیے اعلیٰ قیادت کی سطح پر تو سوچ موجود ہے مگر کیا کیا جائے کہ پارٹی کے پاس شہر کی سطح پر قیادت اور کارکنان موجود ہی نہیں ہیں۔ کراچی آپریشن کے بعد شہر میں قائم ہونے والے امن کو بھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کریڈٹ اپنے نام لکھوانے میں ناکام رہی اور یہ امن شکریہ راحیل شریف کی نذر ہوگیا۔

یہ بھی درست ہے کہ صوبہء سندھ اور کراچی میں سیاسی اثر و رسوخ نہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے متعدد اہم عہدے کراچی کے سیاستدانوں کے حوالے کیے جس میں سب سے اہم صدر مملکت ممنون حسین، اس کے علاوہ کراچی کے 2 سیاسی رہمناؤں نہال ہاشمی اور مشاہد اللہ کو پنجاب سے سینیٹر بنانا شامل ہے۔ مگر یہ سب افراد بھی صوبے اور شہر میں پارٹی کو منظم کرنے میں ناکام رہے۔

مسلم لیگ (ن) صوبائی اور شہری سطح پر مسائل کا شکار رہی اور انہی مسائل کی وجہ سے اہم رہنما پارٹی قیادت سے الگ ہوتے چلے گئے۔ مسلم لیگ (ن) میں اپنی پارٹی ضم کرنے والے ممتاز بھٹو کے علاوہ نواز لیگ کے سابق وزراء اعلی لیاقت جتوئی، غوث علی شاہ، اختر علی غلام قاضی، مظفر علی شاہ یا تو دیگر پارٹیوں میں چلے گئے ہیں یا پھر غیر فعال ہوگئے ہیں۔

صوبہء سندھ اور خصوصاً کراچی شہر میں مسلم لیگ (ن) کو منظم کرنے کے لیے محمد زبیر عمر گزشتہ سال فروری میں بطور گورنر تعینات کیے گئے۔ وفاق کا نمائندہ ہونے کے باوجود محمد زبیر عمر نے مسلم لیگ (ن) کے لیے سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کی بھر پور کوشش کی اور طویل عرصے بعد مسلم لیگیوں کے لیے گورنر ہاؤس کے دروازے کھولے، یہ دروازے اس قدر کھل گئے کہ دوسروں کے لیے جگہ نہیں بچی۔

پڑھیے: شہباز شریف بلامقابلہ مسلم لیگ (ن) کے صدر منتخب

گورنر محمد زبیر کراچی شہر میں نچلی سطح پر قیادت کے فقدان اور لیڈران کی باہمی رسہ کشی کی وجہ سے اگرچہ اپنے بنیادی مقاصد کے حصول میں تو کامیاب نہیں ہوسکے البتہ وہ کراچی میں نواز لیگ کے لیے اتنا سازگار ماحول پیدا کرنے میں ضرور کامیاب ہوئے کہ جس میں مسلم لیگ (ن) شہر سے کم از کم 2 نشستوں پر اچھا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں کرسکتی ہے۔

شہباز شریف کے انتخابی حلقے این اے 249 میں مسلم لیگ (ن) کے پاس کئی یونین کونسلز کے علاوہ متعدد منتخب کونسلرز موجود ہیں اور اس بنیاد پر مسلم لیگ یہ خیال کررہی ہے کہ وہ یہ نشست جیت جائے گی، مگر اس حلقے کے عوام سوچتے ہیں کہ آیا شہباز شریف یہاں سے جیت جانے کے بعد اس حلقے کو ہی اپنی نمائندگی کے لیے چنیں گے یا پھر وہ پنجاب میں اپنی روایتی نشست کو برقرار رکھیں گے۔

اس نشست سے پاکستان تحریکِ انصاف کے فیصل واڈا بھی میدان میں موجود ہیں مگر یہ ان کا بھی آبائی حلقہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سابق مشیر اور وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل جو کہ ایک بڑے صنعت کار خاندان کا حصہ ہیں، اپنے رہائشی علاقے این اے 244 سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ این اے 244 میں مفتاح اسماعیل بڑے پیمانے پر کاروباری برادری اور خصوصاً میمن کمیونٹی کی حمایت حاصل کرنے کا دعوی کررہے ہیں۔

لگتا یہی ہے کہ کراچی کو امن اور گرین لائن بس اور پانی کے کے-تھری منصوبے کے علاوہ 25 ارب روپے کا کراچی پیکج دینے والی سیاسی جماعت شہر میں سیاسی طور پر موجود نہیں ہے جبکہ شہر میں قیامِ امن کے بعد مسلم لیگ (ن) نے سیاسی تنظیم سازی کا قیمتی وقت گنواں دیا ہے۔

ان ساری باتوں کو جاننے کے بعد یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں شہرِ کراچی کا ووٹر مسلم لیگ (ن) کو شہر میں امن قائم کرنے اور پنجاب میں کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیتا ہے یا نہیں؟ یہ تو اسی دن ہی معلوم ہوگا، مگر مسلم لیگ (ن) کا کراچی سے انتخابی سرگرمی شروع کرنا ایک اچھا سیاسی فیصلہ ہے۔