انتخابی عمل کی تشریح: کب، کیا اور کیسے؟

اپ ڈیٹ 11 جولائ 2018

ای میل

ملک بھر میں عام انتخبات میں 2 ہفتے باقی رہ رہے گئے ہیں اور ہر طرف سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی ہے۔

25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) ، پاکستان مسلم لیگ (ن) ، پاکستان تحریک انصاف سمیت مختلف سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مد مقابل ہوں گے۔

تاہم انتخابات والے دن ووٹ ڈالنے سے قبل اپنے رجسٹرڈ ووٹر ہونے کی تصدیق کرلیں، اس کے لیے آپ اپنا ایس ایم ایس کے ذریعے اپنے کمپیوٹرازڈ قومی شناختی کارڈ ( سی این آئی سی ) نمبر کو 8300 پر بھیج کر اپنے ووٹر ہونے کی تصدیق، اپنا انتخابی علاقہ، بلاک کوڈ اور سیریل نمبر معلوم کرسکتے ہیں۔

اس عمل کے بعد آپ باآسانی اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں لیکن یہاں ہم آپ کو بتائیں گے آپ کس طرح اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

پولنگ اسٹیشن/ بوتھ پر کتنے ووٹرز کے آنے کی اجازت ہوگی؟

الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق ایک پولنگ اسٹیشن پر 1200 ووٹرز جبکہ ایک پولنگ بوتھ پر 300 تک ووٹز موجود ہوسکتے ہیں، عام طور پر ایک پولنگ اسٹیشن پر 2 سے 4 پولنگ بوتھ قائم کیے جاتے ہیں۔

پولنگ اسٹیشن پر کن دستاویزات کی ضرورت ہوگی؟

ووٹ ڈالنے کے لیے آپ کے پاس اصل کمپیوٹرازڈ قومی شناختی کارڈ کا ہونا ضروری ہے، آپ اپنا شناختی کارڈ پولنگ افسر کو دکھائیں گے تو وہ آپ کو ایک بیلٹ پیپر دے گا۔

اس کے علاوہ تصدی کے لیے الیکشن کمیشن پاکستان ( ای سی پی ) بائیومیٹرک کا استعمال کرکے ووٹرز کی شناخت کی تصدیق بھی کرسکتا ہے، اس کے علاوہ پولنگ اسٹیشن میں موجود مختلف امیدواروں کے پولنگ ایجںٹس بھی شناختی کارڈ دیکھ سکتے ہیں.

میں اپنا ووٹ کس طرح ڈالوں؟

جب آپ پولنگ اسٹیشن پر ووٹ کاسٹ کرنے جائیں گے تو اسسٹنٹ پریزائڈنگ افسر انتخابی فہرست کے مطابق سیریل نمبر اور نام سے ووٹر کو بلائیں گے، اس کے بعد انتخابی فہرست میں ووٹر سے متعلق درج معلومات پر نشان لگا دیا جائے گا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اس فرد کو بیلٹ پیپر جاری کردیا گیا۔

اس مرحلے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کی گئی نامٹنے والی سیاسی ووٹر کے انگوٹھے، انگلی یا ہاتھ کے کسی حصے پر لگائی جائے گی جبکہ پریزائڈنگ افسر بیلٹ پیپر پر سرکاری نشان کی مہر اور دستخط کریں گے۔

اس کے بعد پریزائنڈنگ افسر ووٹر لسٹ پر ووٹر کی تعداد دیکھ کر بیلٹ پیپر کے بقیہ حصے پر ووٹر کا سی این آئی سی نمبر لکھے گا، اس پر مہر لگائے گا اور دستخط کرے گا، ساتھ ہی وہ ووٹر کے انگھوٹے کا نشان بھی لے گا جبکہ پولنگ افسر ووٹر فہرست پر ووٹر کی تصویر کے سامنے ووٹر کے انگھوٹے کا نشان بھی لے گا۔

ان تمام مراحل کے بعد آپ کا بیلٹ پیپر آپ کے ہاتھ میں ہوگا اور آپ پولنگ بوتھ میں جا کر ووٹ کاسٹ کرسکے گی، اپنے پسند کے امیدوار کو ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد بیلٹ پیپر کو موڑ کر بیلٹ باکس میں ڈالا جائے گا۔

انتخابی / پولنگ ایجنٹس الزام لگائیں گے آپ کے پاس پہلے سے بیلٹ پیپرز ہیں؟

الیکشن کمیشن کے مطابق ایک ووٹر جو بیلٹ پیپر حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے بارے میں اگر اگر انتخابی امیدوار یا پولنگ ایجنٹ دعویٰ کریں کہ اس کے پاس ایک یا ایک سے زائد بیلٹ پیپر پہلے سے ہی موجود ہیں تو پریزائڈنگ افسر ووٹر سے پوچھ سکتا ہے کہ وہ اس بات کا ثبوت دے کہ اس کے پاس کوئی دوسرا بیلٹ پیپر نہیں۔

ان کے علاوہ افسر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ووٹر ایک بیلٹ پیپر سے زیادہ بیلٹ باکس میں نہیں ڈالے سے متعلق کسی بھی طرح کے اقدام لے سکتا ہے۔

کس صورتحال میں پریزائنڈ افسر بیلٹ پیپرز جاری کرنے سے منع کرسکتا ہے؟

اگر ووٹر اپنا اصل شناختی کارڈ دکھانے سے انکار کرتا ہے یا ووٹر لسٹ پر انگھوٹے کا نشان لگانے سے منع کرتا ہے تو اسے بیلٹ پیپر جاری نہیں کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ اگر کسی کے انگھوٹے پر سیاہی کے نشان ہیں یا پھر وہ نامٹنے والی سیاہی لگانے سے منع کرتا ہے تو اسے بیلٹ پیپر جاری نہیں کیا جائے گا۔

اگر ووٹر لسٹ میں پہلے ہی ووٹ کا اندراج ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

انتخابات والے دن اگر کوئی شخص ووٹ ڈالنے آئے اور اس کے ہاتھ پر کوئی نامٹنے والی سیاہی یا انگھوٹے پر نشان نہ ہو لیکن پولنگ افسر اس بات کی نشاندہی کرے ووٹر لسٹ میں ان کے ووٹ کا اندراج ہوچکا ہے تو پریزائڈنگ افسر اس ووٹر کو ٹینڈر ووٹ ڈالنے کی اجازت دے سکتا ہے۔

اس صورتحال میں ووٹر کا نام ٹینڈر ووٹ کی فہرست میں شامل کردیا جائے گا اور ووٹر کو عام طریقہ کار سے بیلٹ پیپر جاری کیا جائے گا، تاہم پریزائڈنگ افسر اس بیلٹ کو بیلٹ باکس کے بجائے ٹینڈر بیلٹ پیکٹ میں شامل کرے گا۔

اگر آپ کے نام پر کسی نے ووٹ دے دیا تو کیا کریں؟

الیکشن کمیش کے مطابق اگر درخواست گزار کو اپنی شناخت کی تصدیق کرانے کی ضرورت کا سامنا ہو تو وہ ایک ’ٹینڈرڈ بیلٹ پیپر‘ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے جس طرح کسی بھی ووٹر کو بیلٹ پیپر دیا جاتا ہے۔ اگر وہ اس میں اپنی شناخت کی تصدیق کرانے میں ناکام ہوجاتا ہے تو پریزائیڈنگ افسر اس کے خلاف جعلی شخصیت طاہر کرنے پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لاسکتا ہے۔

ووٹ ڈالتے ہوئے اگر بیلٹ پیپر ضائع ہوجائے تو کیا ہوگا؟

قواعد و ضوابط کے مطابق اگر ایک ووٹر سے غیر ارادی طور پر بیلٹ پیپر ضائع ہوجائے اور وہ بطور ایک درست بیلٹ پیپر استعمال کے قابل نہ رہے تو ووٹر اپنی شیٹ واپس پریزائڈنگ افسر کو دے دے گا اور اس سے نئی شیٹ حاصل کرلے گا۔

پریزائڈنگ افسر اس بیلٹ پیپر کو منسوخ کردے گا اور وہ اپنے اور ووٹر کے دستخط کے ساتھ بیلٹ پیپز کے بقیہ حصے پر اس کی منسوخی کی ایک عبارت درج کرے گا اور پھر اسے علیحدہ پیکیٹ میں ڈال دے گا جس کا نام ’منسوخ بیلٹ پیپرز‘ ہوگا۔

امیدوار یا پولنگ ایجنٹ ووٹر کی شناخت کو چیلنج کریں تو کیا ہوگا؟

پولنگ ایجنٹس کے پاس اس صورت میں کسی ووٹر کی شناخت کو چیلنج کرنے کا اختیار حاصل ہے جب انہیں یقین ہو کہ ووٹر کی شناخت جعلی یا پھر وہ پہلے ہی اپنا ووٹ ڈال چکا ہے۔

اگر یہ اعتراضات سامنے آتے ہیں تو پولنگ ایجنٹ کو اسے عدالت میں ثابت کرنا ہوتا اور اسے پریزائڈنگ افسر کے ساتھ 100 روپے کا چلان بھی جمع کرانا ہوگا۔ پریزائڈنگ افسر ووٹر کو جعلی شناخت کی سزا سے متعلق آگاہ کرے گا، اور بیلٹ پیپر کے بقیہ حصے پر ووٹر کے انگوٹھے کا نشان اور دستخط لے گا اور اسے بیلٹ پیپر (چیلنج کیا ہوا بیلٹ پیپر) جاری کرے گا۔

کیا پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹ ڈال سکتے ہیں؟

پریزائڈنگ افسر الیکشن کمیشن کی جانب سے دیے گئے مقررہ وقت پر پولنگ کے اختتام کا اعلان کرے گا اور پولنگ اسٹیشن میں موجود افراد کو مقررہ وقت کے بعد ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی جبکہ مزید کسی ووٹر کو پولنگ اسٹیشن میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ایک پولنگ اسٹیشن میں کتنے افسران اور ایجنٹس موجود ہوتے ہیں؟

انتخابی امیدوار ایک پولنگ اسٹیشن کے ہر بوتھ پر صرف ایک ہی ایجنٹ تعینات کر سکتا ہے۔

کون پولنگ اسٹیشن پو موجود؟

پولنگ ایجنٹ

الیکشن کمیشن کی جانب سے 2018 میں جاری ہونے والے نئے ضابطہ اخلاق کے مطابق ایک پولنگ ایجنٹ کو پولنگ کے عملے سے تعاون کرنا ہے تاکہ پولنگ کا عمل بلا تعطل جاری رہے۔

ایک پولنگ ایجنٹ کو الیکشن کا عمل شروع ہونے سے قبل اس بات کا جائزہ لینا ہے اور اطمینان کرنا ہے کہ بیلٹ باکس مکمل طور پر خالی ہے، کیونکہ پولنگ ایجنٹ پولنگ اسٹیشن میں انتخابی امیدوار کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں۔

انہیں مکمل طور پر اس دوران حاضر رہنا ہے اور پولنگ کے عملے کی جانب سے ووٹر کے نام اور اس کے نمبر کو پکارنے کی آواز پر بھی کان جمائے رکھنے ہیں، تاہم یہ براہِ راست کسی ووٹر سے سوال یا اس سے بات نہیں کرسکتے۔

پولنگ ایجنٹ کے پاس انتخابی عمل میں یا پھر اس حوالے سے کسی بھی مواد یا کام میں دخل اندازی کی اجازت نہیں ہوگی۔

پولنگ افسر

پولنگ اسٹیشن میں تعینات پولنگ افسر کو اس بات کو یقین بنانا ہے کہ ووٹ ڈالنے کی اجازت حاصل کرنے والے ہر ووٹر کے پاس اس کا قومی شناختی کارڈ لازمی ہو۔ انہیں اپنی شناخت کی ووٹر فہرست میں موجود اپنی تصویر کے ساتھ تصدیق کرانی ہوگی۔

الیکشن کے قواعد و ضوابط کے مطابق پولنگ افسر کو ہر ووٹر کا نام اور اس کا نمبر پکارنا ہے، فہرست میں ان کے نام پر ایک خط کھیچنا ہے، ووٹر کے انگوٹھے پر نشان لگانا ہے، اس کے انگوٹھے کا نشان لینا ہے اور ووٹ ڈالنے کے لیے اسسٹنٹ پریزائڈنگ افسر کی جانب بھیجنا ہے۔

ریٹرنگ افسر کا کیا کام ہے؟

انتخابات کے دوران ریٹرنگ افسر سب سے مشکل کام کرتا ہے، نہ صرف اسے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ انتخابات کا عمل قانون کے مطابق شفاف طریقے سے انجام پائے بلکہ انہیں عوامی نوٹس جاری کرنے، کاغزاتِ نامزدگی حاصل کرنے، امیدواروں کی جانچ پڑتال، انتخابات کے لیے موزوں عمارت کا انتخاب، پولنگ اسٹیشن پر قابل عملے کی تعیناتی، پریزائڈنگ افسران سے حلف لینے، پولنگ اسٹیشن پر انتخابی مواد وقت پر پہنچانے، پولنگ عملے کی ٹریننگ کرنے، متعلقہ شخص کو بیلیٹ پیپرز جاری کرنے، نتیجہ جمع کرنے، غیر حتمی نتائج کو الیکشن کمیشن تک پہنچانے، انتخابی عمل کے دوران دھاندلی کے شواہد کمیشن کو پہنچانے شکایات نمٹانے کا کام کرنا ہے اور ضرورت کے مطابق اپنے مجسٹریٹ اختیارات کو بھی استعمال کرنا ہے۔


یہ مضمون 11 جولائی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا