سنی لیونی پر سکھوں کے جذبات مجروح کرنے کا الزام

15 جولائ 2018
—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

بولی وڈ اداکارہ سنی لیونی کی زندگی پر بننے والی ویب سیریز ڈاکیومینٹری ’کرن جیت کور: دی انٹولڈ اسٹوری آف سنی لیونی‘ تو 16 جولائی کو بھارتی چینل زی نیوز 5 پر ریلیز کی جائے گی۔

تاہم ان کی سوانح حیات پر مبنی ویب سیریز ریلیز ہونے سے پہلی ہی مشکلات کا شکار ہوگئی ہے۔

اگرچہ ’کرن جیت کور: دی انٹولڈ اسٹوری آف سنی لیونی‘ کا ٹریلر سامنے آنے کے بعد ہی اداکارہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، تاہم اب ان پر سکھ مذہب کی تعلیمات کو فروغ اور سکھ تعلیمات پر عمل درآمد کرانے کے لیے قائم کمیٹی نے ان پر سنگین الزام عائد کیا ہے۔

سکھ مذہب کی نمائندہ جماعت نے سنی لیونی پر فلم کے ٹائیٹل میں ہی ‘کور’ لفظ استعمال کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر سکھوں کے جذبات مجروح کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سکھ مذہب کی تعلیمات اور رسومات کو فروغ دینے کے لیے قائم نمائندہ تنظیم ‘شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی’(ایس جی پی سی) نے سنی لیونی کی جانب سے لفظ ‘کور’ کو استعمال کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

رپورٹ کے مطابق تنظیم کے ایڈیشنل سیکریٹری اور ترجمان دلجیت سنگھ بیدی کا کہنا تھا کہ سنی لیونی نے کبھی سکھ گرو کی تعلیمات پر عمل نہیں کیا، اس لیے انہیں ‘کور’ کا لفظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’میرا اصل نام کرن جیت ہے، سنی لیونی تو بس ایک برانڈ ہے‘

دلجیت سنگھ بیدی کے مطابق ‘کور’ کے لفظ کا تخلص سکھ مذہب کی پیروکار خواتین کو سکھ گرو کی جانب سے اس وقت دیا جاتا ہے، جب وہ سکھ مذہب کی تعلیمات پر مکمل عمل کرتی ہیں۔

سکھوں کی نمائندہ جماعت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اداکارہ نے کبھی بھی سکھ تعلیمات پر عمل نہیں کیا، جب کہ ان کی جانب سے اپنی زندگی پر بنائی جانے والی فلم میں ‘کور’ کا نام استعمال کرنے سے سکھ افراد کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں سنی لیونی کی جانب سے ‘کور’ کا لفظ استعمال کرنے پر سکھ قوم سے تعلق رکھنے والی خواتین سماجی کارکنان نے بھی ان پر تنقید کی ہے۔

خیال رہے کہ ’کرن جیت کور: دی انٹولڈ اسٹوری آف سنی لیونی‘ کو کل ریلیز کیا جائے گا، اس فلم میں سنی لیونی کی زندگی کو پیش کیا گیا ہے۔

—فوٹو: سنی لیونی انسٹاگرام
—فوٹو: سنی لیونی انسٹاگرام

ویب سیریز میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سنی لیونی ایک عام لڑکی سے پہلے فحش فلموں اور بعد میں بولی وڈ کی اداکارہ بنیں۔

سنی لیونی کا اصل نام کرن جیت کور ہے اور وہ سکھ خاندان کے ہاں مئی 1981 میں کینیڈا میں پیدا ہوئیں۔

سنی لیونی نہ صرف بھارتی بلکہ امریکی و کینیڈین شہریت بھی رکھتی ہیں، انہیں متعدد بولی وڈ فلموں میں کام کرنے کے باوجود اب تک فحش اداکارہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سنی لیونی کی زندگی کے تمام راز فاش ہونے والے ہیں

انہوں نے ابتدائی طور پر کینیڈین و امریکی فحش فلموں میں قسمت آزمائی کی، جس کے بعد وہ 2012 میں پہلی بار بولی وڈ فلموں میں جلوہ گر ہوئیں۔

سنی لیونی نے بولی وڈ فلمی کیریئر کی شروعات 2012 میں ریلیز ہونے والی تھرلر فلم ’جسم 2‘ سے کی، اب تک وہ 25 سے زائد فلموں میں مرکزی اداکارہ سمیت معاون اداکارہ کے طور پر جلوہ گر ہوچکی ہیں۔

سنی لیونی کو زیادہ تر بولی وڈ فلموں میں آئٹم گانوں کے لیے کاسٹ کرنے سمیت بولڈ کرداروں کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔

ان کے ہاں سروگیسی کے ذریعے 2 جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی، اس سے قبل انہوں نے 2017 میں ایک بچی کو بھی گود لیا تھا، ان کی شادی کینیڈین نژاد شخص سے ہوئی۔

تبصرے (0) بند ہیں