سپریم کورٹ کا این اے 60 پر ضمنی انتخاب کروانے کا حکم

اپ ڈیٹ 01 اگست 2018

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60 راولپنڈی پر انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ضمنی انتخاب کروانے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی اس حلقے سے امیدوار تھے، تاہم اسلام آباد کی انسدادِ منشیات عدالت نے انہیں ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے، انہیں عمر قید کی سزا سنادی تھی۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے این اے 60 راولپنڈی کے انتخابات کو ملتوی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

انتخابات کی ملتوی کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ وہ تمام امیدواروں کو برابری کی بنیاد پر انتخابی مہم کا موقع دینا چاہتے ہیں اسی وجہ اس نشست پر انتخابات کو ملتوی کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرائی جسے عدالت عالیہ نے خارج کردیا تھا۔

بعدِ ازاں شیخ رشید نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرائی جسے عدالتِ عظمیٰ کے فل بینچ نے بھی خارج کردیا تھا۔

سپریم کورٹ کے فل بینچ کا کہنا تھا کہ درخواست میں اہم نوعیت کے نکات شامل ہیں جن کی تشریح سماعت کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔

دھاندلی کا رونا رونے والوں کے مقدر میں رونا، شیخ رشید

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ دھاندلی کا رونا رونے والوں کے مقدر میں رونا لکھ دیا گیا ہے۔

عمران خان کی کابینہ میں وزارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ انہیں یہ مناسب نہیں لگ رہا کہ وہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وزارت مانگیں۔

یہ بھی دیکھیں: عوام نے ووٹ کو عزت دی ہے،شیخ رشید

تحریک انصاف کی الیکشن میں کامیابی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ عوام نے عمران خان پر اعتماد کیا، ان کی جیت پاکستان کی جیت ہے اور یہ جماعت 3 صوبوں میں اپنی حکومت بنارہی ہے۔

شیخ رشید احمد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عمران خان ملک میں سستی بجلی، گیس اور پیٹرول لائیں گے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ وہ چوہدری نثار علی خان کی شکست کے بعد اب سینئر ترین پارلیمنٹیرین ہیں۔