الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے خیبر پختونخوا کے علاقے شانگلہ میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 23 پر انتخابی عمل کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کرنے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے اس حلقے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار شوکت یوسفزئی کامیاب ہوئے تھے۔

اس ضمن میں مذکورہ حلقے سے شکست پانے والے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے انتخابی نتائج کالعدم قرار دینے کی درخواست الیکشن کمیشن میں جمع کروائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین ووٹرز کا کم ٹرن آؤٹ، 2 حلقوں میں پولنگ کالعدم قرار دیے جانے کا امکان

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صوبائی اسمبلی کے اس حلقے میں 2 پولنگ اسٹیشنز پر خواتین کے ووٹ بالکل کاسٹ نہیں ہوئے اور ایک جرگے میں باقاعدہ اعلان کر کے خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکا گیا تھا، خواتین نے اس جرگہ کے فیصلہ کے خلاف درخواستیں دیں اور آر او کو بھی آگاہ کیا۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ حلقے سے خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 5.1 فیصد رہا جبکہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق خواتین کا ٹرن آؤٹ 10 فیصد ہونا لازمی تھا، اس حلقے میں مجموعی ووٹ 69827 تھے جن میں سے 3505 خواتین نے ڈالے تھے۔

جس پر الیکشن کمیشن نے مذکورہ حلقے میں انتخابی نتائج کالعدم قرار دے کر دوبارہ الیکشن کروانے کے احکامات دے دیے۔

مزید پڑھیں: ’خواتین کی 10 فیصد لازمی ووٹنگ کی مخالفت‘

اس ضمن میں نئے انتخابات کے لیے دوبارہ شیڈول جاری کیا جائے گا جبکہ امکان یہی ہے کہ مذکورہ حلقے پر انتخابات ضمنی انتخابات کے ساتھ ہی کروائے جائیں گے۔

اس فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے اس حلقے سے پی ٹی آئی کے کامیاب ہونے والے امیدوار شوکت یوسفزئی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ظالمانہ فیصلہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس اتنے وسائل نہیں کے دوبارہ انتخابات لڑ سکوں، اس کے ساتھ انہوں نے الیکشن کمیشن کے انتظامات پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور اسے ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم رہنے کی وجہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر حلقے میں الیکشن ملتوی ہوسکتے ہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ شانگلہ کے علاقے میں انتخابات کرانا آسان نہیں، الیکشن کمیشن کو چاہیے تھا صرف خواتین کی دوبارہ پولنگ کروائے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حلقے میں دوبارہ الیکشن کرانے سے ہمیں نقصان ہوگا۔