اسلام آباد: وزارت قانون نے قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کیس میں اپنا جواب جمع کراتے ہوئے 'این آر او' سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔

وزارت قانون نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں کہا ہے کہ وزارت کا این آر او سے کسی قسم کا تعلق نہیں۔

جواب میں کہا گیا کہ سوئس مقدمات کھولنے سے متعلق اٹارنی جنرل ملک قیوم نے نومبر 2012 میں خط لکھا تھا، لیکن اس کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے کیس کی پیروی نہ کی گئی۔

سوئس حکام کی جانب سے دی گئی مہلت کے بعد 2015 میں دوبارہ خط لکھا گیا، لیکن زائد المیعاد ہونے کی وجہ سے سوئس حکام نے کیسز کھولنے سے معذرت کر لی تھی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا تھا کہ 'نیب ریکارڈ کے مطابق ملک قیوم نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہیں کیا اور الزام غلط ہونے کے باعث ملک قیوم کے خلاف ہونے والی انکوائری ختم کردی گئی تھی۔'

یہ بھی پڑھیں: ’این آر او انتقامی سیاست کے خاتمے کے لیے بنایا تھا‘

جواب میں کہا گیا تھا کہ 'سابق صدر آصف زرداری کے خلاف سوئس کیسز نہیں کھولے جاسکتے، حکومت پاکستان کی اپیل زائد المعیاد ہونے کی وجہ سے سوئس حکام نے کیس کھولنے سے معذرت کی، جس کے بعد آصف زرداری کے خلاف چلنے والے کیسز کی فہرست بھی تلف کردی گئی ہے۔'

نیب کے جواب میں مزید کہا گیا تھا کہ این آر او سے قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی گزشتہ سماعت میں این آر او سے مستفید ہونے والے افراد کے بیرون ملک بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی تھی۔