71 سالوں میں پاکستان سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کہاں پہنچا؟

اپ ڈیٹ 14 اگست 2018

ای میل

پاکستان 14 اگست 1947 کو ایک آزاد وطن کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

اس کے حصول کا بنیادی مقصد ایک ایسی خود مختار ریاست کا قیام تھا جہاں بر صغیر پاک و ہند کے مسلمان اپنی ایک علیحدہ مذہبی، ثقافتی اور معاشرتی شناخت بر قرار رکھتے ہوئے زندگی گزار سکیں۔

گذشتہ 71 برس میں علم و ادب، فنون ِ لطیفہ ،طب، انجینئرنگ، کمپیوٹر و انفارمیشن ٹیکنالوجی غرض یہ کہ زندگی کے ہر شعبے میں پاکستان نے مجموعی طور پر کافی ترقی کی ہے۔ اگرچہ بیرونی سازشوں اور اندرونی خلفشار اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ہم اس خطے میں واقع دیگر ہمسایہ ممالک جیسے بھارت، ایران اور چین سے ترقی میں ابھی بہت پیچھے ہیں مگر ایسا ہر گز نہیں ہے کہ ہم نے یہ 71 برس محض ہاتھ پر ہاتھ دھر کر گزارے ہیں۔

سینکڑوں نامور پاکستانی سپوت اس وقت دیار ِ غیر میں اہم عہدوں پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور ہزاروں با صلاحیت افراد نے ملک میں رہتے ہوئے محدود وسائل اور حکومتی سر پرستی نا ہونے کے باوجود ایسے کئی کارہائے نمایاں سر انجام دیئے جو ناصرف ساری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنے کا باعث بنے بلکہ ان کے ذریعے پاکستان کا ایک مثبت امیج اجاگر ہوا جو بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے باعث کافی حد تک دھندلا گیا تھا۔

آئیے 71 برس کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان نے کتنے سنگ ِ میل عبور کیئے جو آئندہ بھی دنیا بھر میں وطن ِ عزیز کی ایک جداگانہ شناخت اجاگر کرتے رہیں گے۔

پراجیکٹ: دماغی رسولی کا علاج

(طب) 1963

سائنسدان: ڈاکٹر ایوب خان امیہ

پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ایوب خان امیہ ایک خوش مزاج نیورو سرجن اور اندرنی دماغی چوٹوں کے ماہر تھے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے بائیو کیمسٹری میں گریجویشن کے بعد نف فیلڈ کالج آف سرجیکل سائنسز لندن سے نیورو سرجری کی تربیت حاصل کی۔ دماغی امراض اور سرطان پر اپنی تحقیق کے دوران 1963 میں ڈاکٹر ایوب خان امیہ نے دماغی رسولی کے خاتمے کے لیے ایک آلہ ایجاد کیا، جسے ’امیہ ریزروائر‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی بدولت برین ٹیومرکا علاج بذریعہ کیموتھراپی ممکن ہوا۔ یہ آلہ ایک انقلابی تکنیک ثابت ہوا اور اسی کی طرز پر مستقبل میں بہت سے طبی آلات ایجاد کیئے گئے جن کی بدولت میڈیکل سائنس میں انقلاب برپا ہوا۔ ڈاکٹر ایوب خان امیہ نے سر پر لگنے والی حادثاتی چوٹوں پر بہت سی تھیوریز بھی پیش کیں، جن میں ٹرامیٹک تھیوری قابل ذکر ہے، جس کا تعلق چوٹ لگنے کے بعد انسانی سوچ و جذبات میں آنے والی تبدیلیوں اور مذہبی شدت پسندی سے ہے۔

پراجیکٹ: ہگز بو سون

(طبیعات) 1969

سائنسدان: ڈاکٹر عبد سلام

ڈاکٹر عبد سلام پاکستان کے مایہ ناز سائنسدان تھے جن کا یہ اعزاز کئی عشروں بعد بھی برقرار ہے کہ وہ نوبل انعام حاصل کرنے والے پاکستان کے پہلے سائنسدان ہیں۔ 1969 میں ڈاکٹر عبد سلام کو اپنے ساتھی محقق سٹیون وین برگ کے ساتھ کمزور برقی قوتوں پر ان کے پیش کردہ ماڈل پر طبیعات میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ دراصل کمزور برقیاتی قوتوں کا ماڈل یہ پیشن گوئی کرتا ہے کہ دو انتہائی توانائی کے حامل ذرات جو آپس میں ٹکرا رہے ہوں ان کی پرو بیبیلیٹی یا امکانات کی شرح انفرادی ذرے کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیئے ایک نیا ماڈل پیش کیا گیا جس میں صرف ایک یا ایک ہی جیسے کئی ذرات تھے جنھیں 'ہگز بوسون' کا نام دیا گیا۔ ڈاکٹر عبد سلام کی کوانٹم فزکس میں گراں قدر تحقیق کے علاوہ پاکستان کی آزادی کے بعد ابتدائی ادوار میں سائنسی علوم کی ترویج کے لیئے اہم خدمات کی وجہ سے بھی انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔

پراجیکٹ: پاکستان کا ایٹمی پروگرام

(نیوکلیئر فزکس) 1984-1971

سائنسدان: ڈاکٹر منیر احمد خان, ڈاکٹر عبدالقدیر خان

1971 کی جنگ کے بعد ملکی سلامتی کو لا حق خطرات کو بھانپتے ہوئے جناب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مؤثر بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیئے کوششیں تیز کیں اور ری ایکٹر ٹیکنالوجی اور پاور پلانٹس میں ڈاکٹر منیر احمد خان کے تجربے کو پرکھتے ہوئے انھیں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا چیئر مین منتخب کیا اور انکی سرکردگی میں پلوٹونیم افزودگی کے منصوبے کا آغاز ہوا۔ جس کے لیئے ڈاکٹر منیر نے فرانس اور چند ممالک کے ساتھ کچھ معاہدات بھی کیئے مگر ڈاکٹر عبد القدیر خان کے آمد کے بعد سائنسدان دو گروہوں میں بٹتے گئے اور بلا آخر پلوٹونیم منصوبے کو التوا میں ڈالتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے یورینیم افزودگی کے لیئے گرین سگنل دے دیا۔1975 میں ڈاکٹر عبد القدیر کو اس منصوبے کا حصہ بنایا گیا اور انھوں نے ڈاکٹر خلیل قریشی کے ساتھ گیس سینٹری فیوجز پر تحقیق شروع کی۔کچھ عرصے بعد انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری کے قیام کے بعد پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور ای آر ایل کے سائنسدان علیحدہ علیحدہ تحقیقات کرتے رہے۔ 1981 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ای آر ایل کا ڈائریکٹر بنا کر اسکا نام اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھ دیا گیا جہاں اپنی ٹیم کے ساتھ شب و روز کی ان تھک محنت کے بعد 1984 تک وہ پہلی اٹامک ڈیوائس بنانے میں کامیاب ہوئے۔ یوں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سائنسدانوں اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ٹیم کی مشترکہ کاوشوں نے پاکستان کو دنیا کے ان گنے چنے ممالک کی فہرست میں لا کھڑا کیا جن کی افواج کے پاس ایٹمی و نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں۔

پراجیکٹ: کمپیوٹر وائرس

(کمپیوٹر سائنس ) 1986

سائنسدان: امجد فاروق/ باسط فاروق

1986 میں پاکستان کے دو انتہائی با صلاحیت سپوتوں نے دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس تیار کیا ،جسے مائکرو سوفٹ ڈوس آپریٹنگ سسٹم میں بنایا گیا تھا۔ اس کے ذریعے کمپیوٹر کی ڈسک میں موجود ڈیٹا کی غیر قانونی نقل یا کاپی بنانے کے عمل کو روکا جاسکتا تھا۔ اس دور میں کمپیوٹر کا استعمال اتنا زیادہ عام نہیں ہوا تھا اور عام صارف کمپیوٹر سٹوریج کی باریکیوں سے واقف نہیں تھے، لہذا ٰ اس وائرس کے ذریعےان مسائل پر قابو پانے میں مدد ملی جن کا تعلق کمپیوٹر کی ڈسک سٹوریج سے تھا۔

پراجیکٹ: بدر سٹیلائٹ پروگرام

سپیس سائنسز (1990-2000)

سائنسدان: سپارکو

پاکستان کے پہلے سٹیلائٹ پروگرام کو بدر کا نام دیا گیا تھا جس کے تحت 1990 سے 2000 تک سپارکو نے زمین کے نزدیکی مدار ( لو ارتھ آربٹ) میں کئی سٹیلائٹ بھیجے ،جن کا بنیادی مقصد مستقبل میں بھیجے جانے والے جدید ریموٹ سینسنگ سٹیلائٹ کے لیئے اہم تجربات کرنا تھا۔ اس سلسلے کا پہلا سٹیلائٹ جولائی 1990 میں ہمسایہ ملک چین کے لانچنگ سینٹر سے بھیجا گیا تھا اور یہ مشن دسمبر 1991 میں تکمیل کو پہنچا۔ اس کے بعد' بدر اے' اور' بدر بی' سٹیلائٹس بھیجے گئے جن کی میعاد 2012 میں بدر بی کی فنکشنل لائف پوری کرنے کے ساتھ ختم ہوگئی تھی اور انکی جگہ پاکستان کے ریموٹ سینسنگ سٹیلائٹ نے لے لی۔

پراجیکٹ: ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس

(معاشیات) 1990

سائنسدان: ڈاکٹر محبوب الحق

1990 میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ماہر ِ معاشیات ڈاکٹر محبوب الحق نے معاشی ترقی و استحکام کے لیئے ایک ایسا ماڈل تشکیل دیا جس کی بدولت اقتصادی پالیسی میکرز اور ماہرین ِ معاشیات کا نقطۂ نظرمکمل طور پر تبدیل ہو گیا اور وہ دنیا کوایک نئے زاوئیے سے دیکھنے لگے۔ اس ماڈل کو ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد دنیا بھر کی حکومتیں صرف آمدنی کے ذرائع پر توجہ دینے کے بجائے ایسی معاشی پالیسیاں بنا نے لگیں جن کا اولین مقصد انسانی زندگی کو مزید بہتر بنا نا اور صحت، تعلیم اور رہائش کی جدید اور مناسب سہولیات فراہم کرنا تھا۔ اس ماڈل کی بنیاد شماریات پر رکھی گئی جس سے یہ معلومات حاصل ہوتی ہیں کہ کسی مخصوص علاقے میں رہنے والے افراد کی اوسط آمدنی کتنی ہے اور انھیں صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر ضروریات ِ زندگی کی کتنی مناسب سہولیات حاصل ہیں اور ان میں مزید بہتری لا نے کے لیئے کون سے اقدا مات ناگزیر ہیں۔

پراجیکٹ: پلاسٹک میگنٹ (مقناطیس )

(کیمیا ء) 2004

سائنسدان: نوید اے زیدی

پلاسٹک میگنٹ ایک ایسا خاص قسم کا مقناطیس ہے جس میں دھاتی اجزاء شامل نہیں ہوتے بلکہ اسے ایک نامیاتی پولیمر سے تیار کیا جاتا ہے جس کی ایک مثال 'پینی سی این جی ' ہے جو زمرد پتھر اور پولی اینالائن پر مشتمل ایک مرکب ہے۔ اس مقناطیس کو 2004 میں پاکستانی نژاد سائنسدان نوید اے زیدی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ یونیورسٹی آف ڈرہم میں تحقیق کرتے ہوئے تیار کیا تھا۔ یہ ایسا پہلا مقناطیسی پولیمر ہے جو عام درجۂ حرارت پر بھی کام کرسکتا ہےاور برقی رو کا موصل ہے۔ اس کی تیاری کے بعد دنیا بھر میں پلاسٹک مقناطیس کا تصور ہی تبدیل ہو گیا کیونکہ یہ ہوا میں بھی پائیدار ہے۔ اسے بڑے پیمانے پر کمپیوٹرز اور ڈسک ڈرائیوز کی تیاری کے لیئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اسے متعدد طبی آلات بنانے کے لیئے بھی استعمال کیا گیا ہے جن میں کوکلیئر امپلانٹ سب سے زیادہ اہم ہے۔ یہ وہ طریقۂ کار ہے جس سے سماعت سے محروم افراد کا آپریشن کر کے آلۂ سماعت ان کے کان کے اندرونی حصے میں نصب کردیا جاتا ہے۔

پراجیکٹ: حفظان ِ صحت کا ماڈل

(کمیونٹی ہیلتھ) 2012

سائنسدان: ڈاکٹر سہیل خان

پاکستان سمیت دنیا بھر کے ترقی پزیر ممالک کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں آباد افراد کو زیادہ ضروریات ِ زندگی میسر نہیں ، نہ پینے کا صاف پانی دستیاب ہے اور نہ ہی نکاسیِ آب کے مناسب انتظامات ہیں۔ پاکستا نی نژاد ڈاکٹر سہیل خان نے یونیورسٹی آف لفبورگ کی ٹیم کے ساتھ ملکر ایک ایسی لیوارٹری یا بیت الخلا ء تیار کیا جس میں انسانی فضلے کو چارکول اور نمکیات میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ان نمکیات کو بڑے پیما نے بنجر زمینوں کو سر خیز کرنے اور فصلوں کی پیداوار بڑھا نے کے لیئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس لیوارٹری سے آلودہ پانی کو صاف کر کے قابل ِ استعمال بھی بنایا جا سکتا ہے۔یہ ماڈل 2012 میں بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقد کیئے جانے والے ایک عالمی مقابلے میں پیش کیا گیا تھا جہاں اس نے دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے 60 ہزار ڈالر کا انعامی رقم حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر سہیل خان کا ماڈل ان علاقوں کے رہائشی افراد کو فری ٹوائلٹ کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے جہاں لوگ غربت کی حد کے نیچے ڈربے نما گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں اور باتھ روم کی سہولت نہ ہونے کے باعث وبائی امراض کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔

پراجیکٹ: ای آئی ڈی فرٹیلائزر

( ایگری کلچر ) 2013

سائنسدان: فاطمہ فرٹیلائزر

2013 میں پاکستان کی ایک نجی کمپنی فاطمہ فرٹیلائزر نے ایسی کھاد تیار کی جسے دھماکہ خیز مواد میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔دراصل کمپنی کے ماہرین نے اس کھاد کو امونیم نا ئٹریٹ کے بغیر تیار کیا جو دھماکہ خیز مواد بنا نے کے لیئے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس ایجاد کو دنیا بھر میں بے حد سراہا گیا اور بی بی سی اور سی این این نے اس پر باقاعدہ دستاویزی پروگرام بھی نشر کیئے۔ اگرچہ امریکہ کو پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر سب سے زیادہ تشویش رہتی ہے مگر دھماکہ خیز مواد کی با آسانی ترسیل کو روکنے والی اس پاکستانی ایجاد کو پینٹاگون نے بھی بھرپور سراہا ،اور فاطمہ گروپ فرٹیلائزر کے ماہرین و حکومت پاکستان کے ساتھ پینٹاگون نے ایک معاہدے پر بھی دستخط کیئے جس کا مقصد امونیم نائٹریٹ کے بغیر بنائی گئی اس کھاد کی پیداوار کو بڑھانا تھا ۔

پراجیکٹ: ہیومن برین چپ

(طب ، مصنوعی ذہانت)2016

سائنسدان: ڈاکٹر نوید اے سید

پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نوید سید نے 2016 میں کینیڈین اور جرمن ٹیموں کے ساتھ انسانی دماغ کے میکینزم ،دماغی خلیات ’نیورانز‘ کی مسلسل تولید اور اُن کے سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے براہ راست تعلق پر تحقیق کرتے ہوئے انسانی دماغی خلیات کو سیلیکون چِپ پر اس طرح (گرو )نمو کیا ہے کہ اس چپ کے نیورانز دماغی خلیات سے اور دماغی خلیات ان نیورانز سے باآسانی رابطہ اور باتیں کر سکتے ہیں۔ اس بایونک چِپ کے ذریعے انسانی افعال کو کسی حد تک قابو کر پانا ممکن ہوا اور اب تک کی تحقیق کے مطابق اس سے نشے کی لت اور رعشہ جیسی اعصابی بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر نوید کی اس ایجاد نے نہ صرف شعبۂ طب بلکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور روبوٹکس کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا۔

پراجیکٹ: میگنیٹو ہائیڈرو ٹراپزم( ہائیڈروجن کے مرکبات اور مقناطیسی حرکیات).

(اپلائیڈ سائنسز) 2016

سائنسدان: پروفیسر قاضی اورنگزیب

پروفیسر قاضی اورنگزیب پنجاب یونیورسٹی سمیت جنوبی ایشیاء کی کئی نامور یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کے ریسرچ انویسٹی گیٹر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ 2016 میں اپلائیڈ سائنسز میں کی گئی انکی تحقیق نے ہمسایہ مما لک کے سائنسدانوں کو بھی مات دے دی اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے کا باعث بنی۔ڈاکٹر قاضی نے تقریبا 4000 فٹ کی بلندی پر تجربات کرتے ہوئے پلازمہ اور دیگر ٹیسٹرز کو ملایا جس میں مقناطیسی فیلڈ کی شدت 2.1 تھی۔ اس موقع پر موجود ناسا کے ماہرین نے ڈاکٹر قاضی کی تحقیق کو بھرپور سراہا اور امید ظاہر کی یہ مقناطیسی حرکیات اور میگنیٹرون پارٹیکل(ذرات) پر انکی یہ تحقیق مستقبل میں اس فیلڈ میں انقلاب برپا کرنے کا سبب بنے گی۔

پراجیکٹ: الیکٹرک ہنی کومب (برقی چھتہ)

(طبیعات) 2017

سائنسدان: محمد شہیر نیازی

لاہور سے تعلق رکھنے والے سترہ سالہ طالبعلم 2017 میں اس وقت دنیا بھر کی خبروں کا مرکز بن گئے جب برقی چھتے یا الیٹرک ہنی کومب کے موضوع پر لکھا گیا انکا مقا لہ رائل اوپن سائنس سوسائٹی میں شائع ہوا۔ اگرچہ شہیر اس سے پہلے فزکس ورلڈ کپ اور 2017 میں ہونے والے انٹرنیشنل فزکسٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کر کے دنیا بھر کے ماہرین ِ طبیعات کی نظر میں آچکے تھے۔ اپنے اس مقالے میں شہیر نے الیکٹرک ہنی کومب کے بارے میں کئی اہم نکات پیش کیئے۔ شہیر نیازی مستقبل میں فزکس میں نوبل انعام حاصل کرنے کے لیئے بہت پر عزم اور پر امید ہیں۔

پراجیکٹ: کینسر کا علاج

(طب) 2018

سائنسدان: ڈاکٹر محمد وقاص عثمان

حال ہی میں پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر وقاص عثمان نے کینسر کے علاج کے لیئے ایک خاص طریقۂ کار دریافت کیا ہے جس کے ذریعے کئی اقسام کے کینسر کے خلیات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ سٹی یونیورسٹی ہانگ کانگ میں پیش کیئے گئے اپنے تحقیقی مقالے میں ڈاکٹر وقاص نے یہ تصور پیش کیا کہ جسم کے سرخ خلیات کے اضافی خلیاتی ویسیکل کے ذریعے جسم میں رائبو نیوکلیک ایسڈ کی زود اثر ادویات داخل کرنے سے کینسر کی کئی اقسام کے خلیات کو مارا جا سکتا ہے ۔اس مقصد کے لیئے رائبو نیو کلیک ایسڈ کے علاوہ ڈی این اے ،یا پروٹین کی ادویات بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔ دنیا بھر میں ڈاکٹر وقاص کی اس تحقیق کو بھرپور سراہا گیا اور اب یقینا کینسر کی کئی اقسام جنھیں پہلے لاعلاج سمجھا جاتا تھا اب ان کا کامیاب علاج ممکن ہوگا۔

پراجیکٹ: سپر میسو بلیک ہول

(سپیس سائنسز )2018

انسٹی ٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی اسلام آباد

جنوری 2018 میں اس وقت پاکستان دنیا بھر کی سائنس کمیونٹی کی توجہ کا مرکز بن گا جب انسٹی ٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے تین طلباء محمد اویس مرزا، عفنان طاہر اور عدنان محمود بیگ نے بہت بڑی جسا مت کے بلیک ہولز اور کہکشاؤں کے آپس میں ٹکرانے پر اپنی تحقیق پیش کی، اسکی تحقیق کے سپر وائزر ڈاکٹر فضیل خان تھے جنھوں نے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ جرمنی سے ایسٹروفزکس میں پی ایچ ڈی کیا ہے۔ اس مقالے کو ہارورڈ ، کولمبیا اور سٹونی بروک یونیورسٹیز کے ماہرین ِ فلکیات نے باقاعدہ جانچ کر کلیئر کیا۔ دراصل اس ماڈل کے لیئے ان طلبا ء نے وینڈر بلٹ یونیورسٹی کی سپر کمپیوٹر کی سہولت کو استعمال کرتے ہوئے کمپیوٹر کے بنائے ہوئے ایک خیالی ماڈل میں خلائی ماحول کو پرکھتے ہوئے کہکشاؤں کے آپس میں ٹکراؤ اور بلیک ہلز کے آپس میں مدغم ہو نے کی میکینزم کی وضاحت کی ہے۔یہ تحقیق اس حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان میں فلکیات کو باقاعدہ مضمون کے طور پر نہیں پڑھایا جاتا اگرچہ ہمارے با صلاحیت طلبا ء اس میں شدید دلچسپی رکھتے ہیں۔

پراجیکٹ: ۔پاکستان ریموٹ سینسنگ پروگرام

سپیس سائنسز (2018)

اسپارکو

جولائی 2018 میں پاکستان نے سپیس سائنسز میں ایک اور سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اپنا پہلا ریموٹ سینسنگ سٹیلائٹ خلا میں بھیجا جسے مختصرا ََ "پی آر ایسایس –ون " کا نام دیا گیا ہے اور اسے لانچ کرنے کے لیئے ایک دفعہ پھر ہمسایہ ملک چین کا لانچنگ پیڈ استعمال کیا گیا ۔اس سٹیلائٹ کو خلا میں بھیجنے کا بنیادی مقصد زمین کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنا اور اندرون و بیرون ِ ملک صارفین کی آپٹیکل ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ یہ فی الوقت کامیابی کے ساتھ اپنا کام سرانجام دے رہا ہے۔


صادقہ خان نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے اپلائیڈ فزکس میں ماسٹرز کیا ہے، وہ پاکستان کی کئی سائنس سوسائٹیز کی فعال رکن ہیں۔ ڈان نیوز پر سائنس اور اسپیس بیسڈ ایسٹرا نامی کے آرٹیکلز/بلاگز لکھتی ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں [email protected]