وہ ہولی وڈ فلم جسے پہلے دن صرف ایک درجن افراد نے دیکھا

ای میل

فلم کو امریکا کی محدود سینماؤں میں ریلیز کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ
فلم کو امریکا کی محدود سینماؤں میں ریلیز کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ

ویسے تو دنیا بھر میں ہولی وڈ فلموں کے کروڑوں مداح موجود ہیں اور ان کے ریلیز ہوتے ہی انہیں لاکھوں افراد بیک وقت دیکھتے ہیں۔

کئی ہولی وڈ فلمیں پہلے ہی دن ریکارڈ کمائی کرکے اربوں روپے بھی بٹورتی ہیں۔

تاہم 18 اگست کو امریکا بھر میں ریلیز کی گئی ایک ہولی وڈ فلم کو محض ایک درجن سے زائد اور ڈیڑھ درجن سے بھی کم افراد نے دیکھا۔

18 اگست کو ریلیز ہونے والی فلم ‘بلینیئر بوائز کلب’ نے پہلے دن صرف 126 ڈالر کی انتہائی کم کمائی کرکے ایک نیا اور منفرد ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔

ریلیز کے پہلے ہی دن 126 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 15 ہزار روپے سے کچھ زائد کی کمائی کرنے پر ‘بلینیئر بوائز کلب’ کو اب تک سب سے کم کمائی کرنے والی فلم کہا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس فلم کی اتنی کم کمائی صرف ایک اداکار 59 سالہ کیون اسپیسی کی وجہ سے ہوئی، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک درجن سے زائد افراد کو جنسی طور پر ہراساں کیا۔

کیون اسپیسی نے فلم میں مختصر کردار ادا کی ہےا—اسکرین شاٹ
کیون اسپیسی نے فلم میں مختصر کردار ادا کی ہےا—اسکرین شاٹ

دی گارجین کے مطابق ‘بلینیئر بوائز کلب’ کو مداحوں کی فرمائش پر امریکا کی محدود سینماؤں میں ریلیز کیا گیا اور اسے پہلے دن بمشکل 15 افراد نے دیکھا۔

رپورٹ کے مطابق فلم نے پہلے دن محض 126 ڈالر بٹورے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس فلم کو دیکھنے والے افراد کی تعداد 15 بھی نہیں تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں ایک شخص کی ٹکٹ 9 ڈالر اور فلم کی مجموعی کمائی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اسے ہر سینما گھر میں 2 افراد نے بھی نہیں دیکھا۔

اس فلم کو امریکا کی صرف 10 سینماؤں میں ریلیز کیا گیا تھا اور توقع کی جا رہی تھی کہ اسے لوگ دیکھنے آئیں گے، تاہم ایسا نہیں ہوا۔

اس فلم میں جہاں کیون اسپیسی نے اداکاری کے جوہر دکھائے ، وہاں دیگر بڑے اداکار بھی اس کا حصہ تھے، تاہم فلم نے ایک اداکار کی وجہ سے کمائی نہیں کی۔

اسی فلم نے امریکا کے علاوہ دیگر ممالک میں اچھی کمائی کی ہے اور اسے متعدد ممالک میں گزشتہ ماہ ہی ریلیز کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ساتھی اداکاروں کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات کے بعد کیون اسپیسی کی ریلیز ہونے والی یہ پہلی فلم ہے، اس سے قبل گزشتہ برس ان کی ریلیز ہونے والی فلم ‘بے بی ڈرائیور’ نے پہلے ہی دن 20 لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 20 کروڑ روپے سے زائد کمائے تھے۔

کیون اسپیسی پر دسمبر 2017 میں متعدد اداکاروں و اداکاراؤں نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات عائد کیے تھے۔

الزامات کے بعد اداکار کو کئی فلموں اور ڈراموں سے خارج کردیا گیا تھا—فائل فوٹو: دی گارجین
الزامات کے بعد اداکار کو کئی فلموں اور ڈراموں سے خارج کردیا گیا تھا—فائل فوٹو: دی گارجین

ان پر الزامات لگانے والے ایک درجن افراد میں سے زیادہ تر مرد اداکار تھے، جو ان کے ساتھ نیٹ فلیکس کے معروف ڈرامے ‘ہاؤس آف کارڈز’ میں بھی ان کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔

الزامات سامنے آنے کے بعد جہاں انہیں ہاؤس آف کارڈز کی کاسٹ سے خارج کردیا گیا تھا، وہیں انہیں دیگر فلموں سے بھی نکال دیا گیا تھا۔

الزامات سامنے آنے کے بعد کیون اسپیسی نے الزامات کو مسترد کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر نشے کی حالت میں ان سے ایسا ہوا ہے تو وہ معزرت خواہ ہیں۔

ان پر ساتھی اداکار انتھونی راپ نے واضح طور پر الزام لگایا تھا کہ انہیں کیون اسپیسی نے 14 برس کی عمر میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی۔