پنجاب حکومت کا ڈپٹی کمشنرز کےخلاف محکمہ جاتی کارروائی کا عندیہ

اپ ڈیٹ ستمبر 08 2018

ای میل

لاہور: پنجاب حکومت نے 2 ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی) کو شکایتی مراسلہ لکھنے اور اسے میڈیا پر جاری کرنے پر سخت محکمہ جاتی کارروائی کا ارادہ ظاہر کردیا۔

واضح رہے کہ دونوں ڈپٹی کمشنرز نے سی ای سی، سپریم کورٹ اور چیف سیکریٹری کو لکھے گئے مراسلے میں الزام لگایا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین قومی اسمبلی کی جانب سے سرکاری امور میں سیاسی مداخلت کی جارہی ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ اراکین اسمبلی کی جانب سے سرکاری امور میں مبینہ سیاسی مداخلت سے متعلق انکوائری رپورٹ حکومت کو موصول ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈپٹی کمشنر کا پی ٹی آئی رکن اسمبلی پر انتظامی معاملات میں مداخلت کا الزام

ایک افسر نے ڈان کو بتایا کہ ’اگر دونوں افسران کا عمل قواعد و ضوابط کے خلاف پایا گیا تو سخت محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی‘۔

افسر نے دعویٰ کیا کہ 'ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے سی ای سی کو مراسلہ تحریر کرنا سرکاری رولز کے منافی ہے، پاکپتن ضلع پولیس افسر کا بھی اپنے اعلیٰ افسران کے ساتھ غلط بیانی پر تبادلہ کیا گیا تھا‘۔

ذرائع نے بتایا کہ بیوروکریسی اب سیاسی حکومت سے نئی پالیسی مرتب کرنے کے لیے کابینہ میں بحث کا تقاضہ کر رہی ہے، تاکہ افسران کے تبادلے اور پوسٹنگ سے متعلق متفقہ فیصلہ کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف ضمنی انتخابات میں ’موروثی سیاست‘ پر گامزن

افسر نے بتایا کہ انسداد کرپشن اسٹیبشلمنٹ (اے سی ای) نے متعدد افسران کی نشاندہی کی ہے جو 3 سال کے لیے ڈیپوٹیشن پر آئے لیکن انہیں 8 سے 14 سال کا عرصہ ہو گیا اور اب وزیر ان افسران کا تبادلہ چاہتے ہیں۔

اس ضمن میں اے سی ای کے ڈائریکٹر جنرل کابینہ کو بریف کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ’اگر کابینہ نے آمادگی کا اظہار کیا تو تمام افسران کے تبادلے ہو جائیں گے‘۔

پنجاب میں اعلیٰ عہدوں پر فائز بیوروکریٹس کے تبادلے سے متعلق عملدرآمد کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ پنجاب حکومت تمام بیوروکریٹس کے اگلے چند دنوں میں تبادلے کر دے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ’شیخ رشید کے بھتیجے کو ٹکٹ دینا تحریک انصاف میں خاندانی سیاست کا آغاز‘

واضح رہے کہ 4 ستمبر کو ڈپٹی کمشنر چکوال غلام صغیر شاہد نے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی سردار ذوالفقار علی خان پر انتظامی معاملات میں سیاسی مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر، رجسٹرار سپریم کورٹ اور چیف سیکریٹری پنجاب کو لکھے گئے ایک خط میں ڈی سی غلام صغیر شاہد نے کہا تھا کہ این اے 64 چکوال ون سے منتخب ہونے والے ایم این اے نے پٹواریوں کی ایک فہرست بھیجی اور اپنی مرضی کے مطابق ان کے تبادلوں اور تقرریوں کا مطالبہ کیا۔

اپنے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ’میں آپ کی توجہ اس بات کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ ایم این اے سردار ذوالفقار علی خان نے 31 اگست 2018 کو دستخط شدہ ایک سربہمر لفافہ بھیجا، جس میں محکمہ ریونیو کے 17 افسران کے تقرر اور تبادلے کی سفارش کی گئی تھی‘۔