فاٹا کے نام سے معروف قبائلی علاقے میں فاٹا ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے تحت مختلف تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے سبب سیکڑوں طالبعلموں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔

اطلاعات کے مطابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد سے متعدد شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جاسکی۔

جس کی وجہ سے اساتذہ نوکریاں چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں، دوسری جانب طلبا کو ملنے والی اسکالر شپ کا سلسلہ بھی موقوف ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی: فاٹا انضمام سے متعلق 31ویں آئینی ترمیم کا بل بھاری اکثریت سے منظور

اس کے ساتھ درجنوں کے قریب دیگر ایسے ملازمین جن کو پولیٹکل ایجنٹ فنڈ سے تنخواہوں کی ادائیگی کی جاتی تھی عدم ادائیگی کے سبب ملازمتیں چھوڑ چکے ہیں۔

اس ضمن میں قبائلی علاقے میں قائم گورنر ماڈل اسکول کی طالبات کا کہنا تھا کہ وہ روزانہ اسکول آتی ہیں لیکن عملے کی عدم دستیابی کی بنا پر اسکول میں تدریسی عمل جاری نہیں ہے اس لیے وہ اپنی تعلیم کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہیں۔

ادھر پارا چنار میں پریس کلب کے سامنے سیکنڑوں ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی ہر احتجاج کیا۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا کے انضمام کے بعد سے فنڈ جاری نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی تاحال نہیں کی جاسکی۔

مزید پڑھیں: فاٹا کو پختونخوا میں ضم کرنے کی مخالفت کیوں کی جارہی ہے؟

اس سلسلے میں ملازمین کا کہنا تھا کہ انہیں 6 ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں جس کے باعث وہ گھریلو اخراجات کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں اور اب قرض کی رقم اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے وہ ادائیگی سے قاصر ہیں۔

پارا چنار ٹاؤن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے 2 سو خاکروبوں نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پرا حتجاج کیا اور حکام کو خبردار کیا کہ اگر انہیں تنخواہیں نہ دی گئیں تو وہ ٹاؤن میونسپلٹی میں صفائی ستھرائی کے فرائض انجام نہیں دیں گے۔