کراچی کے علاقے ڈیفنس میں نامعلوم افراد نے غریب و بے سہارا بچوں کے لیے قائم فٹ پاتھ اسکول کی قیمتی اشیا کے ساتھ ساتھ نقدی بھی لوٹ لی۔

کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں غریب و بے سہارا بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی کے لیے فٹ پاتھ پر ایک غیرسرکاری تنظیم کی جانب سے اسکول قائم کیا گیا تھا تاکہ بنیادی سہولیات سے محروم غریب بچوں کو بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جا سکے۔

تاہم گزشتہ ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران نامعلوم افراد نے اسکول میں لوٹ مار کر کے قیمتی سامان لوٹ لیا۔

مزید پڑھیں: غریب اور ضرورت مند بچوں کیلیے "فٹ پاتھ اسکول" کا قیام

درخشاں تھانے کے ایس ایچ او حاجی ثنااللہ نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسکول کی پرنسپل نے پیر کی صبح پولیس کو بتایا کہ انہوں نے ہفتہ وار چھٹی کے موقع پر اسکول کو بند کردیا تھا لیکن جب 2 چھٹیوں کے بعد پیر کو اسٹاف واپس لوٹا تو دیکھا کہ اسکول کا مرکزی دروازہ کھلا ہوا تھا اور اہم اشیا غائب تھیں۔

ڈیفنس کے علاقے بدر کمرشل کی ایک عمارے کے تہہ خانے میں واقع اس اسکول کی پرنسپل نے مزید بتایا کہ نامعلوم افراد ایک لیپ ٹاپ کے ساتھ ساتھ ان بے سہارا بچوں کے یونیفارم بھی چرا کر لے گئے۔

پولیس افسر کے مطابق اسی اسکول کی ایک اور ٹیچر نے بھی اپنا کمپیوٹر اور دیگر اہم اشیا غائب ہونے کی شکایت کی تاہم ابھی تک اسکول کی انتظامیہ نے معاملے کا مقدمہ درج نہیں کرایا۔

پرنسپل کے کمرے سے مبینہ طور پر نقدی چوری ہونے کے حوالے سے سوال کے جواب میں پولیس افسر حاجی ثنااللہ نے بتایا کہ ابھی تک اسکول میں سے کسی نے بھی نقد رقم چوری ہونے کی باقاعدہ شکایت نہیں کی۔

واضح رہے کہ فٹ پاتھ اسکول کا قیام تقریباً ڈھائی سال قبل عمل میں آیا تھا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں طلبا کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا جبکہ مخیر حضرات نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسکول کی معاونت بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں: فٹ پاتھ پر چرسی تو قبول ہے مگر اسکول نہیں

اس وقت کراچی میں مختلف مقامات پر اس طرح کے 3 اسکول کام کر رہے ہیں اور غیر سرکاری تنظیم کے تحت چلنے والے ان اسکولوں میں اسٹریٹ چلڈرن کو مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔

رواں سال فٹ پاتھ پر قائم ان اسکولوں کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کو یہ اسکول ختم کرنے سے روک دیا تھا۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیم و صحت سمیت دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور ساتھ ہی حکومت سندھ کو ہدایت کی تھی کہ ان اسکولوں کو تمام تر سہولیات فراہم کرے۔