کلثوم نواز، فوجی آمر کو چیلنج کرنے والی بہادر خاتون

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2018

ای میل

کلثوم نواز کی گاڑی کرین کے ذریعے اٹھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے باہر آنے سے انکار کرتے ہوئے خود کو اندر لاک کر لیا تھا۔ اس عمل سے انہوں نے یہ جتا دیا کہ وہ کہیں جانے والی نہیں۔ — فوٹو اظہر جعفری
کلثوم نواز کی گاڑی کرین کے ذریعے اٹھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے باہر آنے سے انکار کرتے ہوئے خود کو اندر لاک کر لیا تھا۔ اس عمل سے انہوں نے یہ جتا دیا کہ وہ کہیں جانے والی نہیں۔ — فوٹو اظہر جعفری

18 سال سے کچھ عرصہ پہلے بیگم کلثوم نواز ماڈل ٹاؤن میں اپنے گھر کے باہر پولیس کے اس حصار کو چکمہ دے کر نکلنے میں کامیاب ہو گئیں جو گزشتہ رات انہیں جنرل مشرف کے خلاف احتجاجی ریلی کی قیادت سے روکنے کے لیے لگایا گیا تھا۔ ان کے 'بچ نکلنے' پر ان کی گاڑی کا پیچھا کیا گیا اور بالآخر کینال روڈ پر انہیں دھر لیا گیا۔

مگر فوجی آمریت کے نفاذ کے بعد اپنے پابندِ سلاسل شوہر کی جگہ مسلم لیگ (ن) کی صدارت سنبھالنے والی سابقہ خاتونِ اول نے گاڑی سے باہر آنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے گاڑی اندر سے لاک کر لی اور یہ جتا دیا کہ وہ کہیں جانے والی نہیں ہیں۔ بالآخر ایک کرین منگوائی گئی اور ان کی گاڑی کو اٹھا کر ایک قریبی پولیس احاطے میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ سب کچھ تقریباً 10 گھنٹے تک جاری رہا۔

وہ لمحہ جب وہ ہوا میں معلق رہیں، وہ بیگم کلثوم نواز کے مختصر مگر حالات و واقعات سے بھرپور سیاسی کیریئر کا عروج تھا جس کی شروعات جنرل مشرف اور ان کے قریبی جنرلوں کی مدد سے نواز حکومت کی برطرف سے ہوئی۔ سابق وزیرِاعظم کو بالآخر 'دہشتگردی' اور جنرل مشرف کو سری لنکا کے دورے سے واپس لانے والے پی آئی اے کے طیارے کی 'ہائی جیکنگ' کے الزام میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔

منگل کے روز لندن میں وفات پانے والی بیگم کلثوم پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی تھیں۔ وہ ایک میڈیکل ڈاکٹر کی بیٹی اور دیومالائی شہرت کے حامل رستم زماں گاما پہلوان کی نواسی تھیں۔ انہوں نے شاید ہی کبھی عوام سے خاتونِ اول کی حیثیت میں بات کی ہو۔ وہ سیاست سے دور ہی رہتی تھیں یہاں تک کہ انہیں اپنے خاندان کو بچانے کی خاطر عوام کے سامنے آنا پڑا۔ سن 2000ء کے اس ہلچل بھرے دن انہوں نے مزاحمت کا ایک تشخص قائم کیا اور مسلم لیگ (ن) کو اسٹیبلشمنٹ کے اندھیروں سے باہر نکالا۔

پڑھیے: خاموش طبع اور پُراثر سابق خاتونِ اول کلثوم نواز

ایک سیاسی مبصر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’مسلم لیگ (ن) کی تاریخ میں مزاحمت کے 2 ابواب ہیں۔ دوسرا باب تو وہ ہے جب نواز شریف کو سپریم کورٹ نے جولائی 2017ء میں نااہل قرار دیا۔ مگر پہلا باب درحقیقت بیگم کلثوم نواز کی قیادت میں لکھا گیا تھا۔ جب تک انہوں نے فوجی آمر کو چیلنج کرنا شروع نہیں کیا، تب تک اس جماعت کا یہ پہلو عوام سے پوشیدہ رہا تھا۔‘

نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جولائی میں ایون فیلڈز فلیٹس کے مقدمے میں ان کی غیر حاضری میں قید کی سزا سنائی تھی۔ انہیں 25 جولائی کے عام انتخابات سے چند دن قبل ہی وطن واپسی پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

وہ مبصر کہتے ہیں کہ ’میں نہیں جانتا کہ مزاحمت کا یہ دوسرا باب لکھنا ممکن ہوتا اگر پہلا باب نہ لکھا گیا ہوتا۔‘

کئی تجزیہ نگاروں کی دلیل ہے کہ بیگم کلثوم کی سیاسی زندگی میں سب سے اہم موڑ اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کا قیام تھا۔ اس میں فوجی حکومت کے خلاف پیپلز پارٹی سمیت ملک کی تمام بڑی جماعتیں شامل تھیں۔ چوہدری شجاعت حسین، اعجاز الحق اور خورشید محمود قصوری جیسے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی جانب سے مخالفت کے باوجود وہ اس اتحاد کے قیام کے اپنے منصوبے پر قائم رہیں۔

یوں تو بیگم کلثوم کی اس کام میں مدد تجربہ کار سیاستدان مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان نے کی تھی۔ مگر ان کا اپنے شوہر اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کو بینظیر بھٹو کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنے کے لیے قائل کرنا کوئی چھوٹا کام نہیں تھا۔

یہ دوسری کہانی ہے کہ نئے جمہوری اتحاد کے قیام کے صرف ایک ہفتے بعد ہی 10 دسمبر 2000ء کو شریف خاندان جنرل مشرف کے ساتھ خفیہ منصوبے کے تحت پاکستان چھوڑ کر 10 سال کے لیے سعودی عرب جلا وطن ہوگیا۔

پرنٹ اور ٹی وی کے سینئر صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’یہ اے آر ڈی کا قیام تھا جس نے بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان مئی 2006ء میں میثاقِ جمہوریت کے بیج بوئے تھے۔ 1950ء میں لاہور کے ایک مشہور کشمیری گھرانے میں پیدا ہونے والی اور 47 سال قبل نواز شریف سے شادی کرنے والی کلثوم نواز نے اپنے شوہر کو بے نظیر بھٹو کے ساتھ مفاہمت کے راستے پر ڈالا۔‘

لیکن جب ایک بار وہ اپنا کام کر چکیں تو بیگم کلثوم نے آہستہ آہستہ عوام کی نظروں سے دوری اختیار کرلی۔ انہیں نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت میں کہیں نہیں دیکھا گیا بھلے ہی شریف خاندان میں سیاسی معاملات اور لوگوں پر ان کے تجزیے کو عین درست سمجھا جاتا تھا۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’وہ ایک روایتی مشرقی خاتون تھیں جو اپنے خاندان کو بچانے کے لیے کچھ بھی کرسکتی تھیں۔‘

مزید پڑھیے: نواز شریف، مریم نواز اور محمد صفدر کی پیرول پر رہائی میں 3 دن کی توسیع

یہ حقیقت ہے۔ مگر انہوں نے کبھی بھی وقت پڑنے پر عملی کردار ادا کرنے سے انکار نہیں کیا۔ یہ بیگم کلثوم ہی تھیں جو سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی سے اس وقت ملنے گئیں جب انہوں نے پارٹی چھوڑ کر عمران خان کی تحریکِ انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ ملتان سے تعلق رکھنے والے اس سیاستدان کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر قائل تو نہیں کر پائیں مگر ان کی کوششوں سے 2 باتیں سامنے آئیں: وہ ہمیشہ اپنے شوہر کی مدد کے لیے موجود تھیں، اور یہ کہ ان کا اپنے شوہر پر سیاسی اور پارٹی معاملات میں ان کی رائے تبدیل کرنے جتنا اثر و رسوخ تھا۔

مسلم لیگ (ن) نے لاہور کی قومی اسمبلی کی نشست این اے 120 سے انہیں ضمنی انتخاب کے لیے کھڑا کیا جو گزشتہ سال ان کے شوہر کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ جب مریم نواز نے اپنی والدہ کے لیے اس حلقے میں انتخابی مہم شروع کی جو ان کے والد 5 مرتبہ جیت چکے تھے، اور بیگم کلثوم کو کینسر کی تشخیص ہوچکی تھی اور وہ کبھی واپس نہ لوٹنے کے لیے لندن جاچکی تھیں۔

ان کی وفات سے ہم نے ایک ایسی خاتون کو کھو دیا ہے جنہوں نے اپنے شوہر کی سیاست اور پارٹی کو بدل کر رکھ دیا، اور ایسے مشکل وقت میں فوجی آمر کو چیلنج کیا جب خود ان کی پارٹی کے کئی مردوں نے اس آمر کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ تجزیہ ڈان اخبار میں 12 ستمبر 2018 کو شائع ہوا۔