ابھی تحریکِ انصاف کی حکومت کو 4 جمعے نہیں گزرے کہ۔۔۔

29 ستمبر 2018

ای میل

بُرے اور کڑے وقت کے چند یاروں کو وزارت، مشاورت پر کیا لگا دیا کہ دل کے سارے ہی پھوڑے پھوڑ ڈالے۔
بُرے اور کڑے وقت کے چند یاروں کو وزارت، مشاورت پر کیا لگا دیا کہ دل کے سارے ہی پھوڑے پھوڑ ڈالے۔

یہ ترا وزیر خاں

دے رہا ہے جو بیاں

پڑھ کے ان کو ہر کوئی

کہہ رہا ہے مرحبا

میں نے اس سے یہ کہا

میں نے اس سے یہ کہا

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دور میں شاعرِ عوام حبیب جالبؔ کی نظم ’مشیر‘ کو بڑی شہرت ملی۔ یوں تو اُن کے دورِ اقتدار کے عہدِ شباب میں ہر وزیر، مشیر صدر ایوب کی حکومت کی مدّح سرائی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھا، مگر اُن کے وزیر عبدالوحید خان ان سب سے 4 قدم آگے تھے، سو اسی لیے جالبؔ صاحب کی نظم میں اس کا ہدف بنے۔

زیادتی ہوگی کہ ابھی تحریکِ انصاف کی حکومت کو 4 جمعے نہیں گزرے اور میں تحریک انصاف کے پُرجوش وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا مرحوم عبدالوحید خان سے موازنہ کرنے لگا ہوں کیوں کہ ظاہر ہے چوہدری صاحب کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ حکومت کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ مخالفین کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیں گے۔

اردو کے کلاسک اور منفرد شاعر امیر مینائی یاد آ گئے

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

سو اس وقت ہمارے فواد چوہدری کی یہی صورتحال ہے۔

پاک پتن سے لے کر پاک بھارت تعلقات اور مسلم لیگ (ن) کے میاں صاحب سے لے کر بی بی کی پی پی تک ذرا سا بُلبلہ اٹھتا نہیں کہ ہمارے چوہدری اسکرین پر ہوتے ہیں۔

اب محترم وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا ذکر آ ہی گیا ہے تو ان دنوں تحریکِ انصاف اور خان صاحب کے مخالفین کو کوئی اور نہیں ملا تو اُن کے مشیروں، وزیروں کے ہی پیچھے پڑگئے۔ اب بھئی جنہوں نے 22 سال کی تپسّیا ساتھ کاٹی انہیں کہیں نہ کہیں تو کھپانا ہی تھا۔ کب تک یہ poor کڑے وقت کے یار ’بنی گالہ‘ کی روٹیاں توڑتے، کہ بشریٰ بی بی کے گھر بار سنبھالنے کے بعد تو یہ یوں بھی ممکن نہیں تھا۔

مگر معذرت کے ساتھ یہ یاروں کی یاری نبھانے میں بات منہ سے نکل کر کوٹھوں چڑھ رہی ہے کہ اور تو اور میاں زلفی بخاری دہری شہریت رکھتے ہوئے بھی مشیر بیرونی امور لگا دیے گئے۔

جہاں تک میری معلومات اور مشاہدے کا تعلق ہے کہ غالباً اب خان صاحب کا کوئی ایسا دوست نہیں بچا جو کہیں نہ کہیں کھپا نہ دیا گیا ہو۔ لیکن یہ بھی زیادتی پہ زیادتی ہوگی کہ سارے کے سارے یاروں کو ایک طرح ہانک دیا جائے۔

ہمارے دوست نعیم الحق کا مشیر معاون برائے سیاسی امور تقرر قطعی جائز ہے۔ 2016ء سے میڈیا کا محاذ سنبھالے افتخار درانی کا مشیرِ میڈیا بننا قطعی طور پر میرٹ پر ہے۔ ہاں اگر کسی کے ساتھ ہاتھ ہوا ہے تو وہ عون چوہدری ہیں۔

عون چوہدری 17 اگست کی شب تک 18 اگست کی تقریب حلف وفاداری میں شریک ہونے والوں کی فہرست ترتیب دے رہے تھے مگر 18 اگست کی صبح جب ایوانِ صدر کی تقریب میں خان صاحب کے پہلو بہ پہلو چلتے نظر نہیں آئے تو مقامی مخبر نے خبر دی کہ رات کے آخری پہر میں انہیں مطلع کیا گیا کہ آئندہ کے اسائنمنٹ تک گھر پر آرام فرمائیں۔ ہفتہ بھر بعد جو اسائنمنٹ ملا اُس میں اسلام آباد بدری شامل تھا یعنی لاہور میں مشیر برائے وزیر اعلیٰ پنجاب لگا دیا گیا۔ اب وزیرِ اعلیٰ محترم عثمان بزدار کا نام آیا ہے تو۔

حیراں ہوں دل کو روؤں

کہ پیٹوں جگر کو میں

پنجاب جیسے صوبے کا وزیرِ اعلیٰ جنوبی پنجاب کا ایک مسکین منش شخص۔ نام بھی لکھ سکتا ہوں مگر اُن کے ساتھ زیادتی ہوگی کہ تحریکِ انصاف پنجاب کے اس مرکزی رہنما نے 9 ستمبر کو ایوانِ صدر میں بڑے دُکھ بھرے لہجے میں کہا کہ موصوف عثمان بزدار سے میں تو واقف نہیں۔ ہوتا بھی کیسے، مہینے بھر پہلے تو پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔

مستند معلومات نہیں، سُنی سنائی کو تحریر میں لانا یوں بھی بددیانتی ہے۔ مگر اس میں کسی پردہ نشیں کا نام آتا ہے لیکن ذمہ داری تو سینہ ٹھوک کر ہمارے تحریکِ انصاف کے قائد وزیرِ اعظم عمران خان خود ہی لے رہے ہیں کہ یہ اُن کی ذاتی چوائس ہے۔

سوری مسٹر پرائم منسٹر اتنے اہم اور بڑے عہدے کے لیے مقامی قیادت کا اعتماد ضروری ہوتا ہے۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بعد مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست اور ذہانت کا آپ اکثر ذکر کرتے ہیں۔ اقتدار کے ابتدائی دنوں میں عوام کی بے پناہ مقبولیت کے سبب بھٹو صاحب کی خود اعتمادی مطلق العنانیت تک پہنچ گئی تھی۔ شیرِ پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کو ہٹا کر جب نواب صادق قریشی کو وزیرِ اعلیٰ بنایا گیا تھا تو اسے اُن کے اقتدار کے تابوت میں پہلی کیل ٹھوکنے کے مترادف سمجھا گیا تھا۔

جنرل ضیاءالحق، نواب صادق قریشی صاحب کی چوائس تھے۔ بھٹو صاحب کے اقتدار پر جب زوال آنا شروع ہوا تو پیٹھ دکھانے والوں کی صفِ اوّل میں تھے۔ یہاں تک پہنچا ہوں تو لگتا ہے کہ جذباتیت سے مغلوب ہوگیا ہوں۔ ابھی خان صاحب کی حکومت کے جمعے ہی کتنے گزرے ہیں؟

بُرے اور کڑے وقت کے چند یاروں کو وزارت، مشاورت پر کیا لگا دیا کہ دل کے سارے ہی پھوڑے پھوڑ ڈالے۔ اس لیے ایک بار پھر صدقِ دل سے وعدہ کہ خان صاحب کے کہنے کے مطابق 90 دن تک تو کم از کم مزید اس طرح کی حاشیہ آرائی سے گریز کروں گا۔