ساتھیوں کے ہاتھوں ہراساں ہونے والی پہلی خواجہ سرا پولیس اہلکار کی ’خودکشی‘

04 دسمبر 2018

ای میل

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

بھارتی پولیس میں بھرتی پہلی خواجہ سرا خاتون نے ہراساں کیے جانے پر ’خودکشی‘ کی کوشش کی جنہیں تشویش ناک حالات میں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔

دی ہندو میں شائع رپورٹ کے مطابق 23 سالہ آر نثریہ نامی خاتون خواجہ سرا پہلا پولیس اہلکار ہیں جنہیں تامل ناڈو پولیس فورس میں شامل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: زیر تربیت خاتون کی موت پر ساتھی مشتعل، ایس پی پر تشدد

خواجہ سرا آر نثریہ نے اپنی ساتھیوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے پر خودکشی کرنے کی کوشش کی تاہم انہیں زخمی حالات میں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ آر نثریہ نے متعدد مشکلات عبور کرنے کے بعد پولیس میں شمولیت اختیار کی اور انہیں 7 اگست کو مسلح اضافی نفری میں تعینات کردیا گیا۔

وہ پہلی خواجہ سرا خاتون ہیں جنہیں رمانتا پورم کے محکمہ پولیس میں بھرتی کیا گیا۔

مزیدپڑھیں: بھارت: مشتعل ہجوم نے 8 سالہ لڑکی کے ریپ میں ملوث ملزم کو قتل کردیا

خود کشی سے قبل انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں ہراساں کرنے والے ملزمان کی نشاندہی بھی کی۔

ہسپتال میں آرنتریہ نے بتایا کہ ’انہیں امید تھی کہ جائے کار پر ان کے لیے حالات بہتر ہوں گے‘۔

انہوں نے تین ساتھی پولیس اہلکاروں پر ذات، جنس کی بنیاد پر ہراساں اور کردار کشی کرنے کا الزام عائد کیا۔

آر نتریہ کی شکایت کے بعد ایس پی پولیس اوم پرکاش مینا نے ڈی ایس پی کو انکوائری کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ 5 نومبر کو بھارتی ریاست بہار میں پولیس ٹریننگ سینٹر کے اندر زیر تربیت خاتون کی ہلاکت پر مشتعل ساتھیوں نے ایس پی، ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو شدید تشدد کا نشانہ بنا دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ہندوستان میں 'حاملہ دلت خاتون' پر حملہ

زیر تربیت مشتعل اہلکاروں نے دفاتر کے فرنیچر اور سامان توڑ دیا اور افسران کی گاڑیوں کو تباہ کردیا تھا۔

جس کے بعد پولیس حکام نے افسران پر تشدد اور توڑ پھوڑ کے الزام میں 175 زیر تربیت کانسٹیبلز اور 10 پولیس کانسٹیبلز کو معطل کردیا تھا۔