انسداد تجاوزات مہم: ’ایک گھر بھی مسمار کیا گیا تو استعفیٰ دے دوں گا‘

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2018

ای میل

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ شہر قائد میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران اگر ایک گھر بھی مسمار کیا گیا تو وہ اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوجائیں گے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران وسیم اختر نے مارکیٹ اور سڑکوں پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی حمایت کی، لیکن غیر قانونی طور پر تعمیر گھروں کو مسمار کرنے کی مخالفت کی۔

انہوں نے کہا کہ ’میں استعفیٰ دے دوں گا اگر ایک گھر بھی مسمار کیا گیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: ‘رابطہ کمیٹی مگرمچھ کے آنسو نہ بہائے، میئر کراچی تجاوزات کےخلاف آپریشن روکیں‘

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ انسداد تجاوزات مہم کے دوران کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے تیار کردہ مارکیٹیں بھی مسمار کردی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے مرحلے میں کے ایم سی کی ایک ہزار دکانوں کے متاثرین کو متبادل جگہ فراہم کی جائے گی، اور اس سلسلے میں کارپوریشن متاثرین کی مدد کر رہی ہے‘۔

میئر کراچی نے کہا کہ عدالت نے 'کے ایم سی' کو پارکوں، فٹ پاتھ اور نالوں پر قائم تجاوزات کو گرانے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: انسداد تجاوزات آپریشن: ’ایک ہزار 4 سو 70 دکانداروں کو متبادل جگہ دی جائے گی‘

انہوں نے کہا کہ بعض لوگ تجاوزات کے خلاف آپریشن پر سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 'چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، میئر کراچی وسیم اختر کو اختیارات نہ ملنے کانوٹس لیں۔'

انہوں نے کہا کہ کسی ایک شہری کو بھی بے گھر نہیں ہونے دیں گے اور میئر کراچی نے ابھی تک ایک گھر کیا، کسی جھونپڑی کو بھی ہاتھ نہیں لگایا۔

خالد مقبول صدیقی نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں تجاوزات کے خلاف مہم کو متنازع بنایا جارہا ہے۔

وفاقی حکومت کی درخواست

وفاقی حکومت نے بھی سپریم کورٹ میں کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کی ہے۔

گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کے ترجمان نے کہا کہ 'وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں تجاوزات سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے جگہ اور وقت دیئے جانے کی استدعا کی گئی ہے۔'

یاد رہے کہ گورنر سندھ نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں کراچی کے شہریوں کی پریشانیوں اور تحفظات سے آگاہ کیا تھا، جس کے بعد سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر کی گئی۔

بعد ازاں 30 نومبر کو کراچی کے میئر وسیم اختر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انسداد تجاوزات مہم کے دوران متاثر ہونے والے کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے 3 ہزار 5 سو 75 کرائے داروں میں سے ایک ہزار 4 سو 70 دکانداروں کو پہلے مرحلے میں کاروبار کے لیے متبادل جگہ فراہم کریں گے۔

میئر کراچی کا کہنا تھا کہ متاثرہ دکانداروں کو صدر پارکنگ پلازہ، کے ایم سی مارکیٹ، ایم ٹی خان روڈ، لائنز ایریا میں پارکنگ پلازہ کے سامنے، شہاب الدین مارکیٹ صدر، رنچھوڑ لائن مارکیٹ، فریئر مارکیٹ، کھڈا مارکیٹ اور سپر مارکیٹ لیاقت آباد میں متبادل جگہ دیں گے۔

تجاوزات کے خلاف آپریشن

خیال رہے کہ 27 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی سے 15 روز میں تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس حکم کے بعد شہر قائد میں تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن شروع کیا گیا تھا اور پہلے مرحلے میں صدر کو صاف کیا گیا تھا اور مشہور ایمپریس مارکیٹ کے اطراف غیر قانونی طور پر قائم سیکڑوں دکانیں مسمار کردی گئی تھیں۔

صدر کے بعد آپریشن کا رخ دیگر علاقوں میں کیا گیا اور لائٹ ہاؤس، آرام باغ اور اطراف کے علاقوں سے تجاوزات ختم کردی گئیں جبکہ تاحال شہر میں آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔

یاد رہے کہ 17 نومبر کو سپریم کورٹ نے کراچی میں ریلوے کی زمین سے قبضہ چھڑوا کر فوری طور پر کراچی سرکلر ریلوے اور ٹرام لائن کی بحالی کا بھی حکم دیا تھا۔

علاوہ ازیں 24 نومبر کو سپریم کورٹ نے کراچی میں پرانی جھیلیں اور پارکوں کو بحال کرانے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے خلاف بلاتعطل کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا۔

جس کے بعد چند روز قبل وفاقی و سندھ حکومتوں کی جانب سے کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن سے غریب طبقے کے متاثر ہونے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔