عالمی پیداواری تسلسل کا حصہ بننا پاکستان کیلئے ناگزیر ہے، وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 28 دسمبر 2018
بین الاقوامی سفارتکاری کو مدعو کرنے کے لیے 2 روزہ اقتصادی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی—فوٹو بشکریہ حکومت پاکستان ٹوئٹر
بین الاقوامی سفارتکاری کو مدعو کرنے کے لیے 2 روزہ اقتصادی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی—فوٹو بشکریہ حکومت پاکستان ٹوئٹر

اسلام آباد: وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ اقتصادی سفارتکاری وقت کی اہم ضرورت ہے اور پاکستان کو عالمی پیداواری سلسلے کا حصہ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی سفارتکاری کے موضوع پر منعقدہ سفیروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ دنیا میں صرف وہ معیشتیں ہی کامیاب ہیں جنہوں نے جدت، بہتر خیالات، علم، مہارت اور بہتر ذرائع استعمال کرتے ہوئے کم مالیت کی بہترین مصنوعات تیار کیں اور منڈیوں پر چھا گئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ قومی ترقی کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لیے اگر پاکستان کو پائیدار بنیادوں پر استوار ہونا ہے، اگر پاکستان کو ہمیشہ کے لیے کشکول توڑنا ہے اور اگر ہم عالمی مالیاتی سلسلے کا لازمی حصہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سفارتی مشینری کو بہتر بنانا اور علاقائی و عالمی روابط کو فروغ دینا ہوگا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے اقتصادی بحالی، اور ترقی کو اپنے اصلاحاتی ایجنڈے میں سب سے زیادہ فوقیت دی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی و اقتصادی سفارتکاری ہمارے منشور کا حصہ ہے جس میں برآمدات کو بڑھانا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور غربت کا خاتمہ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری 100 روزہ کارکردگی ہماری ترجیحات کی طرف اشارہ کرتی ہے ، ان 100 ایام میں ہم اپنے اہم اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے اور ادائیگیوں کے توازن میں پیش آنے والی شدیدمشکلات کو بہتر بنانے کے قابل ہوئے۔

لیکن بحران سے پریشان ہونا نہ اچھا تھا نہ ہوگا، ہمیں اسے مزید بہتر کرنا ہے کیونکہ پاکستانی عوام کی توقعات ہم سے وابستہ ہیں جبکہ پاکستان کی بے پناہ صلاحیتیں، تقلب پذیری اور وسائل بھی ہم سے یہ تقاضا کرتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری اور تجارت اقتصادی سفارت کاری کے ایجنڈے کا بنیادی جز ہے، اور اس سلسلے میں بیرونِ ملک جانے والے مزدوروں کے لیے نوکریوں کے مواقع بڑھانے اور ترقیاتی مد میں وصول ہونے والی امداد کا احتیاط سے استعمال بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

ملکی ترقی سے مایوسی کے رویے کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے تفصیل سے پاکستان میں دستیاب بے پناہ صلاحیتوں کے بارے میں گفتگو کی اور گولڈمین سیچس کی جانب سے پاکستان کو ان گیارہ معیشتوں میں شامل کرنا جو رواں صدی کو عروج کی صدی بنائیں گی، کا بھی ذکر کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سیاحت میں اہم مقام حاصل کرے گا، جبکہ ایکسچینج ریٹ کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد ہماری برآمدات کی رفتار میں بھی اضافہ ہورہا ہے جو 17-2016 میں 20 ارب 45 کروڑ ڈالر تھی اور 18-2017 میں 14 فیصد اضافے کے بعد 23 ارب 33 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ رواں برس پاکستان کی ملکی مجموعی پیداوار 36 سے 38 ہزار ارب سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں