کھوکلی اناؤں کے مارے لوگ

اپ ڈیٹ 05 جنوری 2019

ای میل

زندگی میں ایسے کئی لوگ ملیں گے جو کھوکلی اناوں کا بوجھ لیے جی رہے ہوں گے جن سے کسی آسانی اور خیر کی توقع نہیں ہوتی
زندگی میں ایسے کئی لوگ ملیں گے جو کھوکلی اناوں کا بوجھ لیے جی رہے ہوں گے جن سے کسی آسانی اور خیر کی توقع نہیں ہوتی

آسانیاں تقسیم کرنے والا کیسے بنا جاسکتا ہے؟ مخلوق کے دل میں اپنی محبت پیدا کرنا اور سچ میں ’بڑا‘ آدمی بننے کا گُر مجھے بڑی مشقت کے بعد سیکھنے کو ملا۔

آسانی ہمیشہ وہ لوگ تقسیم کر پاتے ہیں جن کی انائیں کھوکلی نہ ہوں۔ یہ کھوکلی انائیں کیا ہیں؟ یہ ذات کے وہ خلا ہیں جو محرومیوں سے جنم لیتے ہیں اور ریاضتوں کے نہ ہونے سے دلدل بن جاتے ہیں، جن میں انسان دھنستا چلا جاتا ہے۔ کھوکلی اناؤں والے سدا محروم رہتے ہیں۔

آپ کو بے شمار ایسے لوگوں سے پالا پڑے گا جو ظاہری طور پر عزت و اکرام کے حامل ہوں گے، انہیں مرتبہ، مقام اور دولت بھی میسر ہوگی مگر ان کی ذات سے کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اگلے کا دل اور روح زخمی کردیتے ہیں۔ لوگوں کے جذبات ان کا ایندھن ہوتے ہیں۔

کھوکلی اناؤں والوں کی کچھ نشانیاں ہیں۔ یہ لوگ بنیادی طور پر کم ظرف ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ’چھوٹا انسان‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔چھوٹے دل اور حوصلے والے۔ یہ خوشامد پسند ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی تعریف کرتے اور کرواتے رہنا بے حد پسند ہوتا ہے۔ یہ خود نمائی کے شوقین ہوتے ہیں۔ انہیں اپنا آپ گھڑی گھڑی جتانے کی لت لگی ہوتی ہے۔ یہ ’ریکگنیشن‘ کے بھوکے ہوتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ لوگ بزدل ہوتے ہیں۔ دلیری ان میں نام کی نہیں ہوتی۔ یہ مرد ہوں بھی تو ان میں مردانگی کا کوئی وصف نہیں ہوتا۔ یہ ہمیشہ ’پلے سیف‘ کی پالیسی کو اپنا رکھتے ہیں۔ ان میں قربانی کا حوصلہ تو بالکل نہیں ہوتا اور یہ ہر معمولی خطرے سے بھی خود کو بچانے کی کوشش میں مصروف عمل رہتے ہیں، پھر چاہے ان کے ایک دلیرانا اقدام کی کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو۔

ہمارے بابا جان فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنا دل ہمیشہ حسد، بغض اور کینے سے پاک رکھنا چاہیے اور جہاں آپ کے پاس بدلہ لینے کا موقع آئے وہاں آپ کو معافی سے کام لینا چاہیے۔ صرف اس لیے کہ یہی 'بڑے' لوگوں کا طریق ہوتا ہے۔ مگر کھوکلی اناؤں والے آپ کو بلا کے حاسد، کینہ پرور اور انتقامی ملیں گے۔ یہ وہ بیماریاں ہیں جن سے ان کے باطن گھٹے ہوتے ہیں اور یہ ان کا کچھ نہیں کر پاتے۔

کھوکلی انا ہمیشہ احسان فراموش اور بے قدری ہوتی ہے۔ انہیں احسان تسلیم کرتے اور اس کا بدلہ چکانے میں جھجک محسوس ہوتی ہے اور کئی معاملات میں یہ اپنے آپ کو ان احسانات کا ’ڈزرونگ‘ سمجھ رہے ہوتے ہیں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ میں نے سیکھ لیا کہ ماں باپ کے علاوہ زندگی میں جو جو شخص آپ کو کوئی آسانی دے وہ دراصل آپ پر احسان ہوتا ہے اور اس کا بدلہ چکانا یا کم از کم اس کا احسان مند ہونا چاہیے۔ ’بڑے‘ لوگ تو ماں باپ کے کیے کو بھی احسان گردانتے ہیں اور یہی ان کی اعلیٰ ظرفی کی نشانی ہوتی ہے۔

کھوکلی انا ہمیشہ بھوکی اور لالچی رہتی ہے۔ یہ آپ کا خون تک چوس کر ہضم کر جاتی ہے اور ہمیشہ ’اور کی دوڑ‘ میں مصروف رہتی ہے۔ اور یہ دوڑ صرف مادی چیزوں کی نہیں ہوتی بلکہ انسانی رویوں، جذبات اور خلوص، خدمت کی بھی ہوتی ہے۔ انہیں ہر وقت مزید خدمت، مزید قربانی، مزید خلوص اور مزید ’پروٹوکول‘ درکار ہوتا ہے۔

ایسے بے چارے اپنی غلطی ماننے کو اپنی بے عزتی تصور کرتے ہیں اور خود کو ہر اس مقام اور حالت سے بچا کر رکھتے ہیں جہاں انہیں تنِ تنہا اپنا آپ یا اپنی کوئی قابلیت یا دعوٰی ثابت کرنا پڑجائے۔ یہ ایک خوبی بہرحال ان میں ہوتی ہے کہ وہ کمال کی ’پرسیپشن مینجمنٹ‘ کرتے ہیں۔ اپنا تراشیدہ چہرہ کبھی بے نقاب نہیں ہونے دیتے۔

یہ لوگ تمام قواعد و ضوابط، قوانین، طریقہ ہائے کار، میرٹ وغیرہ دوسروں کے لیے چھوڑے رکھتے ہیں اور دوسروں کے لیے ہی یہ چھلنیاں تنگ کیے جاتے ہیں جبکہ خود کو ہمیشہ ان سب سے ماورا سمجھتے ہیں۔ یہ خود پر کسی ضابطے، قانون، قائدے کا اطلاق بے عزتی سمجھتے ہیں یا ان کی ازحد کوشش ہوتی ہے کہ کبھی ایسا موقع آئے تو وہ چپ چاپ ان چھلنیوں سے اپنا دامن بچا کر گزر جائیں۔

میں نے کمیونیکیشن اسٹڈیز کے نفیساتی پہلو پڑھتے وقت یہ سیکھا تھا کہ آپ جب بھی کسی سے ملتے ہیں تو آپ سے پہلے آپ دونوں کی ’اینرجیز‘ آپس میں ملتی ہیں اور آپ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی آپ کا ایک خاص تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ یہ تعلق آپ میں مخاصمت، تلخی، جھجک یا آسانی اور خلوص پیدا کرتا ہے۔ یہ آپ کے آئندہ تعلق کی نوعیت کی بنیاد بنتا ہے۔ مگر آپ جب بھی ایسے لوگوں سے ملیں گے آپ کو ان سے خوف، جھجک، مخاصمت یا تلخی محسوس ہوگی۔ کچھ لوگ کمال فنکار ہوتے ہیں، پہلی ملاقات میں شاید آپ کی ملاقات ایک چھلاوے سے ہو مگر وقت سے ساتھ یہ تحلیل ہوتا رہے گا۔

ان لوگوں سے نفرت کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ تو ہمدردی کے مستحق ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے جذباتی وابستگی پیدا نہیں کرنی چاہیے اور انہیں کسی بھی طرح خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ یہ اعصاب پر سوار ہونے لگیں تو انہیں چیلنج کرنا چاہیے اور یقین جانیں ان کی جڑوں میں ایک خوف ہوتا ہے اور یہ خوف کبھی بھی آپ کی جرأت کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ آپ کی جیت ایسے لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے۔

یہ بات سنتے اور جانتے میرے ذہن میں لوگوں کی ایک لمبی فہرست بن کر چلنے لگی جن میں یہ تمام یا ان میں سے بیشتر چیزیں موجود تھیں۔ کچھ کچھ چیزوں کی بُو اپنے اندر سے بھی آئی جس کو دُور کرنے کا طریقہ صرف اور صرف خدمت ہے، بے لوث خدمت۔ مگر یہ ریاضت بہت دشوار ہوتی ہے۔

آپ بھی اپنے آس پاس ایسے لوگوں کی چھانٹی کیجئے اور ان سے منفی طور پر متاثر ہونا بند کردیجیے۔ یقین جانیں یہ کھوکلی اناؤں کے مارے لوگوں سے جس دن بے نیاز ہوگئے، زندگی گلزار ہوجائے گی اور آپ سچ میں ’بڑے آدمی‘ بننے کی راہ پر چل نکلیں گے۔