خان صاحب، آپ چاہیں تو پارلیمنٹ کو بہتر بناسکتے ہیں

اپ ڈیٹ 06 جنوری 2019

ای میل

بالآخر، اب ایسا لگ رہا ہے کہ 15 ویں قومی اسمبلی آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) تعطل کو ختم اور دیگر کمیٹیوں کے قیام کے لیے راستہ صاف کرتے ہوئے آخر کار قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹ کمیٹی (پی اے سی) انتخاب پر راضی ہوچکی ہے۔ اب نئی قومی اسمبلی کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے؟

چونکہ قومی اسمبلی میں حکمران اتحادکی بہت تھوڑے فرق کے ساتھ اکثریت ہے جبکہ سینیٹ میں تو سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں لہٰذا حکومت کے لیے قانون سازی کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ اگر پی ٹی آئی اس اصلاحاتی ایجنڈے کی طرف پیش رفت چاہتی ہے جس کا اس نے وعدہ کیا اور جس کی خوب عوامی تشہیر بھی کی گئی تو اسے اپنے پہلے پارلیمانی سال کے دوران متعدد قوانین منظور کروانے ہوں گے۔ ابتدائی 100 دنوں میں جن کئی ٹاسک فورسز کا قیام عمل میں لایا گیا ان کی جانب سے ملنے والی کئی تجاویز کو بھی قانونی شکل دینے کی ضرورت پڑے گی۔

اس کام کے لیے دونوں ایوانوں میں نظم و ضبط کا ہونا ضروری ہے اور کم از کم حکومت کو حزب اختلاف کے ساتھ تعلقاتِ کار (working relationship) قائم کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اسی لیے پی ٹی آئی قیادت کو تحمل کی ایک مثال قائم کرنی پڑے گی اور اپنے عقابوں سے کہنا پڑے گا کہ وہ حزب اختلاف کو طیش دلانے سے باز رہیں۔ حزب اختلاف میں رہتے ہوئے تو اشتعال انگیزی سے چند مقاصد میں مدد مل سکتی ہے مگر حکومت میں رہتے ہوئے اشتعال انگیزی دکھانے سے اس کا الٹ ہوتا ہے۔ سمجھوتے کرنا جمہوری عمل کا ایک جائز و قانونی حصہ ہے، جس کا مظاہرہ پی اے سی چیئرمین کے انتخاب کے موقعے پر دیکھا گیا، اور اس پر نہ تو افسوس کا اظہار ہونا چاہیے اور نہ ہی اسے کمزوری کی علامت سمجھا جائے۔

پارلیمنٹ میں تعلقات کار کے قیام کے علاوہ پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کو اپنی اپنی پارلیمانی پارٹی منظم اور سرگرم کرنی چاہیے۔ قیادت کے ساتھ مختلف جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں سے باقاعدگی کے ساتھ ملاقاتیں ہوں گی تو قانون سازی سے متعلق ایجنڈا پر باہمی رضامندی کے لیے راہ ہموار ہوگی اور یوں قانون سازی میں سب کی مرضی بھی شامل ہوگی۔ سیاسی قیادت کو اب یہ احساس ہوجانا چاہیے کہ پارٹی لائن یا پالیسی کو صرف اور صرف اعلیٰ قیادت کے حکم کی روشنی میں مرتب کرنے اور قانون سازوں کی جانب سے اس پر بغیر کوئی سوال کیے تسلیم کرنے کا ماضی کا رواج اب زیادہ پائیدار نہیں رہا۔

اس کے علاوہ، قومی اسمبلی میں اراکین کی کم حاضری کا دیرینہ مسئلہ ایک چیلنج بن چکا ہے، حاضری اس حد تک کم ہوتی ہے کہ کورم بھی پورا نہیں ہوپاتا، جو کل ممبران کا صرف 25 فیصد حصہ ہوتا ہے۔ معزز اراکین کی جانب سے اس طرح بار بار غیر دلچسپی کا مظاہرہ ایوان کے وقار کو کافی ٹھیس پہنچاتا ہے۔ نواز شریف کی گزشتہ حکومتوں کے دوران وزراء اور عام اراکین کی حاضری ایک بڑا مسئلہ بنی رہی کیونکہ سابق وزیر اعظم کی پارلیمانی اجلاسوں میں شاذو نادر ہی شرکت ہوتی۔ عمران خان گزشتہ حکومت کے دوران حزب اختلاف میں تھے لیکن اس کے باوجود بھی ان کی شرکت سابق وزیر اعظم سے کم رہی۔

اگر پارلیمانی کارروائیوں کو معنی خیز بنانا ہے اور اراکین کو باقاعدگی کے ساتھ اجلاسوں میں شرکت کی ترغیب دینی ہے تو پارٹی قیادت کو اس میں مثالی کردار کرنا پڑے گا۔

وزیر اعظم عمران خان کو اب ایک نئی ابتدا کرنی چاہیے اور پارلیمانی اجلاسوں میں باقاعدگی کے ساتھ شرکت کی شروعات کردینی چاہیے۔ اجلاسوں کے دوران انہیں وزیر اعظم کے دفتر کے بجائے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے چیمبرز کو استعمال کرنا چاہیے۔ اس طرح وزراء اور دیگر قانون سازوں کو ایوان میں باقاعدگی کے ساتھ شرکت کے لیے ترغیب ملے گی۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو پارلیمٹ کا پورا کلچر ہی تبدیل ہوجائے گا، اور پھر ہر ایک پارلیمنٹ اور اس کی کارروائیوں کو سنجیدگی سے لے گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پہلے ٹی وی خطاب میں ایک بڑے ہی قابل تعریف عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں باقاعدگی کے ساتھ سوالات کے جواب دیں گے۔ انہوں نے ابتدائی طور پر ہفتہ وار پرائم منسٹر کوئسچن آور کا وعدہ کیا تھا لیکن پھر اسے 15 روزہ پرائم منسٹر کوئسچن آور کردیا۔

لیکن نئی قومی اسمبلی کو قائم ہوئے 4 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وزیر اعظم ایک بار بھی پارلیمنٹ میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے نظر نہیں آئے۔ نہ ہی اس مقصد کے لیے قواعد انضباط کار (rules of procedure) میں کوئی ترمیم کی گئی ہے، مگر قوائد میں ترمیم کا انتظار کیے بغیر ہی وزیر اعظم اس کام کی ابتدا کرسکتے ہیں۔

ایک دوسرا اہم معاملہ جو دھیان طلب ہے وہ ہے قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکریٹریٹ میں مناسب ملازمین کی بھرتی۔ پارلیمنٹ کی کارکردگی کا دارومدار بڑی حد تک وہاں دستیاب اسٹاف سے حاصل ہونے والی معاونت کے معیار پر ہوتا ہے۔ ماضی میں پارلیمنٹ کے اراکین کی صلاحیت سازی پر تو بہت زیادہ توجہ دی گئی لیکن اسٹاف پر دھیان نہیں دیا گیا۔ دونوں سیکریٹریٹ میں موجودہ اسٹاف کو بہتر مراعات کے ساتھ اپ گریڈ کیا جائے اور کم از کم قابلیت کو بڑھادینے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر برطانوی پارلیمنٹ سیکریٹریٹ کے اسٹاف میں ایک خاصی تعداد آکسفورڈ، کیمبریج اور ایسی دیگر اعلیٰ یونیورسٹیوں سے گریجویشن کرنے والوں کی ہے۔

بدقسمتی کے ساتھ ہمارے پارلیمانی سیکریٹریٹ لمس جیسی یونیورسٹیوں سے اچھے گریڈز کے ساتھ گریجویشن کرنے والوں کو اپنی طرف مائل نہیں کرپاتے۔ قومی اسمبلی کے موجودہ اسپیکر جب خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر تھے تب انہوں نے وہاں کے اراکین کی صلاحیت سازی کے لیے نمایاں اقدامات کیے۔ امید ہے کہ وہ ایسی ہی توجہ قومی اسمبلی کے اسٹاف پر دیں گے۔

قومی اسمبلی کا ایک سب سے اہم کام ہر سال وفاقی بجٹ منظور کرنا ہے۔ افسوس کے ساتھ بجٹ کے حوالے سے پارلیمانی عمل بہت ہی سطحی ہے کیونکہ اس عمل کے تحت اراکین کو ہزاروں صفحوں پر مشتمل بجٹ دستاویزات پڑھنے اور اس کا گہرائی سے جائزہ لینے کا موقع ہی فراہم نہیں ہوتا۔ ہندوستان میں بجٹ پر کارروائیاں 75 دنوں تک جاری رہتی ہیں اور وزارتوں کے بجٹ کا جائزہ ان کی متعلقہ پارلیمانی کمیٹیاں لیتی ہے مگر اس کے برعکس پاکستان میں بجٹ پر قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے مختلف مراحل کا دورانیہ عام طور پر محض 12 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ مالیاتی بل کمیٹیوں کو بھی نہیں بھیجا جاتا۔ اس کے علاوہ موجودہ قانون کے تحت حکومت قومی اسمبلی کی جانب سے پیشگی منظوری کے بغیر ہی منظور کردہ بجٹ سے زیادہ خرچہ کرسکتی ہے، جو کہ پارلیمانی منظوری کی روح کو ٹھیس پہنچانے کے برابر ہے۔ اسی لیے اگر کوئی ایک اصلاح اسمبلی کو لازمی طور پر لانی چاہیے تو اصلاح بجٹ کے حوالے سے پارلیمانی عمل سے متعلق ہونی چاہیے۔

پارلیمانی مباحث کا معیار زبردست حد تک بہتر ہوسکتا ہے اگر اس کی توجہ کا مرکز عوامی پالیسی بحثیں ہوں۔ کم سے کم سال میں ایک بار خارجہ تعلقات، سیکیورٹی، پانی، توانائی، معیشت اور دیگر عوامی مسائل پر نظم و ضبط کے ساتھ بحث ہونی چاہیے۔

نئی اسمبلی کے ابھی ابتدائی دن ہیں اور قومی اسمبلی کی قیادت کے پاس یہی اچھا وقت ہے کہ وہ ایک جامع 5 سالہ پلان کے لیے کوششیں شروع کردے تاکہ مذکورہ اور دیگر اصلاحات لائی جاسکیں۔


یہ مضمون 4 جنوری 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔