’میں ایک فارمر کی بیوی کیسے بنی؟‘

07 جنوری 2019

ای میل

ایک بیوی کی سرگزشت، جس کا شوہر اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل کے لیے اپنی ملازمت چھوڑ کر کھیتی باڑی کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
ایک بیوی کی سرگزشت، جس کا شوہر اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل کے لیے اپنی ملازمت چھوڑ کر کھیتی باڑی کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

اگر آپ شہر کی مصروف زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن کھیت کھلیانوں میں کام کرنا، گھر میں اگی ہوئی تازہ سبزیاں کھانا اور مویشی جانوروں میں گھرے رہنا چاہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے اندر ایک کسان یا فارمر چھپا بیٹھا ہے۔

مختلف خبروں کے مطابق موجودہ دور میں بھی بھارت سے تعلق رکھنے والے ٹیکنالوجی کے شوقین اور کئی کارپوریٹ پروفیشنل بڑی بڑی تنخواہوں والی ملازمتیں چھوڑ کر کسان بن رہے ہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ شہریوں کو کسان یا فارمر کی زندگی گزارنے میں کس طرح کی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

یشودھرا لال کی چوتھی کتاب نصف آپ بیتی (Memoir) اور نصف تخیل (fiction) پر مبنی ہے، جس کا نام How I became a Farmer's Wife (میں ایک کسان کی بیوی کیسے بنی) ہے۔ اس کتاب میں ایک بیوی اور 3 بچوں کی ماں کی سرگزشت بیان کی گئی ہے جس کا شوہر اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل کے لیے اپنی کارپوریٹ ملازمت ترک کرکے فارمنگ کا کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

اس کتاب میں ایک ایسی زندگی میں جھانکا گیا ہے جہاں دشواریاں بہت ہیں اور معمولی سی بھی کامیابی خوشیاں منانے کا باعث بن جاتی ہے۔ اس کتاب کی کہانی میاں بیوی کے جوڑے کے درمیان تعلقات کے ارد گرد گھومتی ہے جو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

منصوبہ بندی اور پختہ عزم کے بغیر خواب محض خواب ہی رہ جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ کھیتی باڑی ایک کل وقتی کام ہے، کامیابی تو ایک طرف محض اس کام کو چلائے رکھنے کے لیے بھی ہر نیا دن نئے کام لائے گا اور چھٹیوں کا تو تصور ہی نہیں۔ مگر اس سب کے باوجود لال کے شوہر وجے شرما فارمنگ کے جوکھم بھرے شوق کے لیے پُرعزم ہوتے ہیں۔

یہ ناول ایک طرح سے لال کے پہلے ناول ’جسٹ میریڈ، پلیز ایکس کیوز‘ (Just Married, Please Excuse) کا سیکوئل ہے، کیونکہ اس کی شروعات اس واقعے کے ساتھ ہوتی ہے جہاں وجے کھیتی باڑی کے لیے زمین خریدنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ مختصراً یہ کہ پلان اس وقت تو کامیاب نہیں ہوپاتا البتہ 12 برس بعد شہر کی تبدیلی اور 3 بچوں کے ساتھ یہ خواب تکمیل کے قریب دکھائی دیتا ہے۔

جھکے کندھوں والا وجے جو روزانہ کی دفتری معمولات کی چکی سے مستعفی ہوچکا ہے، اسے مویشیوں اور تازہ کاٹی گئی گوبی اور مولی میں زندگی ایک نئی معنی کے ساتھ ملتی ہے۔ اس کے جذبے کو صحت بخش طرزِ زندگی اختیار کرنے کی سوچ اور اس خیال سے تقویت ملتی ہے کہ اب وہ اپنے ہی کھیت میں اگے گیہوں کے آٹے سے بنے پراٹھوں کو اپنے ہی مویشیوں سے حاصل کردہ تازہ دودھ کے ساتھ کھاسکے گا۔

وجے کی بیوی یشودھرا جسے ناول میں وائے بلایا گیا ہے، وہ فارمنگ کو لے کر اتنی زیادہ پُرجوش نہیں۔ اسے ہزاروں پریشانیوں کا سامنا ہے، جیسے خشک مزاج باس، ایک نئے کتاب کی تحریر اور چڑیا گھر جیسے گھر میں بے قابو بچوں کو سنبھالنے کا کام۔

شوہر کے خواب کے لیے مدد فراہم کرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ پہلے سے اضافی کاموں کا بوجھ سہنے والے انسان پر مزید سخت محنت کرنے کا بوجھ ڈال دینا۔

اسی لیے جب وجے ایک دہائی سے دل میں قید منصوبوں کے بارے میں اسے بتاتا ہے تو وہ قابلِ فہم طور پر ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتی ہے۔ وہ وجے کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ اس کام میں اپنے بہترین دوست اچو کو اپنا شراکت دار بنالے۔ وہ جانتی ہے کہ اچو نئے تجربات کو آزمانے سے کترانے والا اور مستقل مزاج شخص ہے لہٰذا وہ وجے کے غیر حقیقی (surreal) منصوبوں میں حصہ لینے سے منع کردے گا مگر اس کی توقعات کے برعکس اچو وجے کو ہاں کہہ دیتا ہے۔

وجے بھارتی شہر گورے گاؤں سے 1 گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ریواری میں موجود ایک آشرم کے آس پاس کی زمین کرائے پر لیتا ہے جہاں وہ ڈیری کا کام کرنے کی جگہ قائم کرتا ہے۔ اگرچہ اسے اور اچو کو اس کام کے حوالے سے مطلوبہ ہنر یا مہارت حاصل نہیں مگر وہ مانتے ہیں کہ اس کام کے لیے ان کا اعتماد ہی کافی ہے۔ وجے کا ماننا ہے کہ ’ایک کسان کو لازمی طور پر پُرامید رہنا چاہیے، اگر ایسا نہیں تو وہ کسان ہی نہیں۔‘ اور شاید یہی وہ یقین ہے جو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والی ہر مشکل کو پار کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔

ہمارے ہیرو کمر کستے ہیں اور مویشی جانوروں اور فصلوں کا خیال رکھنے سے لے کر متعدد کتے پالنے تک اور زمین کی ہوشیار مالکن سے لے کر آوارہ سانپوں سے نمٹنے تک اپنی بھرپور محنت اور لگن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

وہ امیت اور سنیل نامی 2 آدمیوں کو بھی ملازم رکھتے ہیں جن کا کام دودھ کو ان کے گھر لانا ہے تاکہ وہ اپنے اپارٹمنٹ کمپلیکس کے صارفین کو دودھ پہنچا سکیں۔ جب امیت اور سنیل کام میں غیر سنجیدگی اور کاہلی دکھاتے ہیں تو وجے اور اچو خود صبح سویرے فارم پر جانا شروع کردیتے ہیں، جہاں وہ دودھ اکٹھا کرتے ہیں اور شہر لاتے ہیں۔ جس کاروبار کا نام ملک وجے نے ’ونڈرملک‘ رکھا تھا، کوئی تعجب نہیں کہ اسے باقاعدہ قائم کرنے میں ایک طویل عرصہ لگ جاتا ہے۔

وائے وجے کو اپنی پوری لگن اور سخت محنت کے ساتھ کام کرتے ہوئے کبھی مسرور اور زیادہ تر حیران نظروں سے صرف دیکھتی رہتی ہے۔ موسمی حالات کو سمجھنا، فصل روٹیشن کا فہم، گائے سے دودھ نکالنے کا کام سیکھنا، منفرد دیہی مزاج سے نمٹنا، یہ سارے کام اے سی کمروں میں بیٹھ کر کی بورڈ پر ہاتھ مارنے سے کہیں سے زیادہ مشکل تھے اور اس پر سونے پر سہاگہ تب ہوتا ہے جب پاس واقع آشرم چلانے والے ایک مشکوک بابا جی جیسے چند خلافِ توقع کردار ٹکرا جاتے ہیں۔

وائے ہر وقت خود کو سامنے سے بہت ہی پُرسکون رکھنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس کے اندر ایک ہنگامہ برپا ہوتا ہے۔ جس طرح لال نے لکھا ہے کہ، ’وائے کی زندگی ایک ایسے چائے کی کپ جیسی بن چکی ہے جس میں بسکٹ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈوبے ہوتے ہیں، جو چائے پینے کا سارا مزہ ہی کرکرا کر دیتے ہیں۔‘

ایک طرف وہ وجے کے اس رسکی شوق سے نمٹ رہی ہے تو وہیں دوسری جگہ اس کی آرزو ہے کہ اس کی بیٹی ’پی نٹ‘ اپنی بات کا اظہار زیادہ واضح انداز میں کرے، اور وہ ’پکل‘ اور ’پاپڑ‘ نامی اپنے بیٹوں کے پر مزاح جملوں پر ہنسنا بھی چاہتی ہے۔ یہ سب باتیں اسے بے قابو کردیتی ہیں۔ وجے وائے کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ یوگا کرے، حالانکہ وائے پہلے سے گٹارسٹ اور زمبا (رقص) کی تربیت دیتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر مشورہ مفید ثابت ہوتا ہے اور اس کی ہنگامہ خیز زندگی میں تھوڑا بہت سکون لوٹ آتا ہے۔

وائے اس بات کو تسلیم کرنے لگتی ہے کہ فارمنگ نہ صرف وجے بلکہ اس کی پوری فیملی کے لیے سبق آموز رہی۔ ٹیبلیٹ اور اسمارٹ فونز سے دُور، ہر ہفتے فارم پر جانا بچوں کے لیے نئے تجربات کا باعث بنتا۔ ٹیکنالوجی پر فطرت کو فوقیت دے کر انہوں نے پالتو جانوروں اور مویشیوں کو قریب سے سمجھنا اور جاننا سیکھا۔

فارمنگ ہر کسی کے لیے ایک تفریح سے بھرپور وکیشن کی طرح بن جاتی ہے اور وائے اپنے ابتدائی تحفظات کے باوجود جلد ہی گائے اور بچوں کی رکھوالی میں یکساں پہلوؤں کو دریافت کرلیتی ہے اور اس کی وجے کے لیے بطور ایک فارمر رحمدلی غیر مشروط سپورٹ میں تبدیل ہوجاتی ہے اور اسے خود کو ایک فارمر کی بیوی تسلیم کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔

ویسے تو یہ کہانی نئے ماحول میں زندگی گزارنے کے بارے میں ہے، جس میں مزیدار واقعات، طنزیہ مزاح، روانی اور مقصد بھی شامل ہے، لیکن اس کے باوجود لال اس میں قصہ گوئی کی مہارت کا بھرپور مظاہرہ کرتی ہیں۔

دیہی طرزِ زندگی کا خواب دیکھنے والے شہری خواتین و حضرات کو شاید کتاب میں شامل حالات کا سامنا نہ ہوا ہو لیکن پھر بھی وہ اس کہانی کو خود سے جوڑ ضرور سکتے ہیں۔ جبکہ مختلف حالات کے انوکھے پن کو جس طرح لال دیکھتی ہیں اور اس کے بارے جس طرح وہ لکھتی ہیں وہ اس کتاب کو تفریح کا سامان بنادیتا ہے۔


ہاؤ آئی بیکیم اے فارمرز وائف (How I Became a Farmer’s Wife)

مصنف: یشودھرا لال

ناشر: ہارپر کولنز، انڈیا

آئی ایس بی این: ISBN: 978-9352775859

صفحات: 319


یہ ریویو 23 دسمبر 2018ء کو ڈان، بکس اینڈ آتھرس میں شائع ہوا۔