'اپوزیشن لیڈر نیب کے سامنے پیش ہوسکتے ہیں تو وزیراعظم کو بھی کوئی استحقاق نہیں'

اپ ڈیٹ 10 جنوری 2019

ای میل

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال — فائل فوٹو
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال — فائل فوٹو

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ اگر قائد حزب اختلاف نیب کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں تو وزیر اعظم کو کوئی استحقاق نہیں کہ وہ نیب کی کارروائی کا سامنا نہ کریں۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے نیب لاہور کا دورہ کیا جہاں ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے انہیں میگا کرپشن کے مقدمات پر بریفنگ دی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جاوید اقبال نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے اور نیب کام، کام اور صرف کام پر قانون کے مطابق یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب پر کبھی دباؤ نہیں آیا کہ قائد ایوان کے ساتھ نرمی برتیں جبکہ قائد حزب اختلاف اگر نیب کے سامنے پیش ہو سکتا ہے تو وزیر اعظم کو کوئی استحقاق نہیں کہ وہ نیب کی کارروائی کا سامنا نہ کرے، اس سے وزیر اعظم کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوا ہے اور اس یہ ثابت ہوا کہ ملک میں قانون و آئین کی بالادستی ہے، جبکہ وزیر اعظم کا جو مینڈیٹ ہے اس کے مطابق ہی کام کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نجی چینل 'جیو نیوز' کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیب کی جانب سے ملک کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف خیبر پختونخوا ہیلی کاپٹر کیس چلانا زیادتی ہے اور وہ اس طرح وزیر اعظم کی توہین کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے خلاف کیسز توہین نہیں بلکہ وزیراعظم پر بنائے گئے کیس پر دنیا نیب پر ہنس رہی ہے۔

مزید پڑھیں: سرکاری ہیلی کاپٹرز کا استعمال: نیب نے عمران خان کو طلب کرلیا

چیئرمین نیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیورو کا احتساب اسی دن شروع ہو جاتا ہے جب کسی کو ریمانڈ کے لیے عدالت میں لے جاتے ہیں، ریمانڈ تو عدالتیں دیتی ہیں لیکن وہ بھی پیش کردہ شواہد اور تفتیش کی روشنی میں ملتا ہے، کبھی ایسی بات نہیں ہوگی جس میں کسی سے انتقام یا زیادتی کا مسئلہ ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کا تعلق کسی گروہ، سیاسی جماعت یا کسی حکومت کے ساتھ نہیں ہے، نیب کی وفاداری صرف اور صرف پاکستان اور پا کستان کی عوام کے ساتھ ہے، اگر کسی سے جرم سرزد ہوا ہے تو اس کی کارروائی قانون کے مطابق ہو گی اور نیب کو کوئی قانونی کارروائی سے روک نہیں سکتا۔

انہوں نے کہا کہ این آر او کسی بھی شکل میں کوئی بھی دے نیب کبھی بھی اس کا حصہ نہیں ہو گا، ہم نے صرف اور صرف پا کستان کے مفادات کا تحفظؓ کرنا ہے اور ہمارے لیے تمام سیاست دان برابر ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ حزب اختلاف کو تھوڑا سا با ذوق ہونا چاہیے، نیب ہائیڈروجن یا نائیٹروجن بم ضرور ہے لیکن اسے کم از کم منشا بم کہنا یا اس سے تشبیہ نہیں دی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب صرف اور صرف بدعنوانی کے خاتمے کے لیے آیا ہے اور ہمارا کوئی ذاتی مقصد یا ایجنڈا نہیں ہے۔