'چین، افغان طالبان کو سیاسی قوت کے طور پر دیکھتا ہے'

اپ ڈیٹ 23 جنوری 2019
— فوٹو، ڈان اخبار
— فوٹو، ڈان اخبار

پشاور: پاکستان میں چینی سفیر یاؤ جِنگ نے کہا ہے کہ وہ طالبان کو افغانستان میں ایک سیاسی قوت کے طور پر دیکھتا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جامعہ پشاور میں ایریا اسٹڈی سینٹر میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے چینی سفیر یاؤ جنگ کا کہنا تھا کہ بیجنگ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کی حالیہ کوششوں کو سراہاتا ہے۔

جب ان سے چین کی جانب سے افغان مسئلے کے سیاسی حل میں عدم دلچسپی کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کا ملک طالبان اور افغان حکومت سے رابطے میں ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چین کی جانب سے ایک خصوصی نمائندہ دوحہ میں طالبان سے بات چیت کے لیے ان کے دفتر میں ایک خصوصی نمائندہ بھی بھیجا ہے۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان کے وفد کے دورہ چین کا انکشاف

چینی سفیر نے کہا کہ بیجنگ طالبان کو ایک سیاسی قوت کے طور پر دیکھتا ہے کیونکہ وہ افغانستان کے سیاسی عمل کا حصہ ہیں اور ان کے سیاسی تحفظات بھی ہیں۔

یاؤ جنگ کا کہنا تھا کہ طالبان کو مستقبل میں بھی سیاسی استحکام کے لیے کردار ادا کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔

چینی سفیر نے کہا کہ ان کی حکومت افغان امن عمل کو دنیا بھر میں مختلف فورمز پر اٹھا رہی ہے تاہم اگر ممکن ہوا تو طالبان پر امن عمل کا حصہ بننے پر زور بھی دیا جائے گا۔

علاوہ ازیں چینی سفیر نے افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک اور اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ جنگ زدہ ملک میں امن کی بحالی میں اہم کردار ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیں: خان صاحب چین سے متاثر تو بہت ہیں لیکن سیکھتے کم ہیں

انہوں نے کہا کہ افغان قوم گزشتہ 40 سالوں سے جنگ کی حالت میں ہے جہاں اس نے بہت قربانیاں دی ہیں لیکن وہ امن اور استحکام کے بھی مستحق ہیں۔

طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہوئے چینی سفیر کا کہنا تھا کہ چین، پاکستان کے اس اقدام کی حمایت کرتا ہے جبکہ بیجنگ نے خود بھی ماسکو میں افغان امن عمل سے متعلق اجلاس کے دوران اپنا کردار ادا کیا تھا۔

یاؤ جنگ کا کہنا تھا افغانستان اور چین کے گہرے دوستانہ تعلقات ہیں جبکہ دونوں ممالک کے عوام بھی ایک دوسرے کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تاہم اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہم مغرب کی جانب دیکھتے ہیں تو ہمیں افغانستان نظر آتا ہے جس میں مختلف دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں جاری کھیل کا آخری مرحلہ: فیصلہ کس کے حق میں آئے گا؟

انہوں نے مزید کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کا افغانستان سے متعلق اپنا موقف ہے جبکہ روس، ایران اور پاکستان کے بھی علیحدہ علیحدہ موقف ہیں۔

چینی سفیر نے واضح کیا کہ ہم سب افغانستان کے مسئلے کے پُر امن حل کے لیے پُرامید ہیں لیکن یہ ایک نازک مسئلہ ہے جسے حل ہونے تک ہمیں تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق مغربی میڈیا پر منفی پروپگینڈا کرنے کا الزام عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: روس میں امن کانفرنس 'مذاکرات' کے لیے نہیں ہے، طالبان

چینی سفیر نے اپنی بات کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ چین ایک سی پیک کے ذریعے پاکستان کو کیوں کنٹرول کرے گا اور اس مقصد کے لیے کیوں اپنا پیسہ لگائے گا؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ 1960 کی دہائی میں دونوں ممالک کی دوستی گہری تھی اور اس وقت پاکستان بہت مشکل حالات میں بھی تھا لیکن اس وقت بھی بیجنگ اسلام آباد کو کنٹرول نہیں کر سکا۔

چینی سفیر نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کی خارجہ پالیسی کبھی بھی کسی پر اثر انداز ہونے یا کسی کو کنٹرول کرنے کی بنیاد پر نہیں رہی، اب چین نے نئی خارجہ پالیسی ترتیب دی ہے جس کی بنیاد بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ (بی آر آئی) ہے.

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں